ڈکیتی کے مقدمہ میں ملوث 6ملزمان کو 7,7‘ایک کو 3سال سزا کا حکم

ڈکیتی کے مقدمہ میں ملوث 6ملزمان کو 7,7‘ایک کو 3سال سزا کا حکم

  



وہاڑی(بیورورپورٹ+نمائندہ خصوصی) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خالد اسحاق نے تھانہ لڈن کے ڈکئیتی کیمشہور مقدمہ کافیصلہ سناتے ہوئے علاقہ مجسٹریٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے تمام ملزمان محمد اقبال عرف بالی،(بقیہ نمبر59صفحہ12پر)

اصغرعلی، محمد اسلم، محمد عباس، ظفر اقبال اور وارث مصور کو 7،7 سال قید بامشقت برقرار رکھتے ہوئے 7ویں مجرم محمد یاسین لک کی سزا 7 سال سے کم کرکے 3 سال قید بامشقت کا فیصلہ سنا دیا جبکہ علاقہ مجسٹریٹ کے فیصلہ کے مطابق تمام ملزمان کو 10،10 ہزار روپے جرمانہ کی سزا کو برقرار رکھنے کا حکم سنایا استغاثہ کی جانب سے سینئر قانون دان ڈسٹرکٹ بار وھاڑی کے سابق صدر مہر شیر بہادر لک نے دلائل پیش کئے تفصیل کے مطابق لڈن کے نواحی علاقہ موضع غفورواہ کے رہائشی ماسٹر ظفر اقبال کے گھر 7 ڈاکوں نے اسلحہ کے زور پر طلائی زیورات مالیتی 37 لاکھ روپے لوٹ لئے جس پر پولیس تھانہ لڈن نے تمام ملزمان جن محمد اقبال عرف بالی، محمد یاسین لک، اصغرعلی، محمد اسلم، محمد عباس، ظفر اقبال، وارث مصور شامل تھے کے خلاف مقدمہ نمبر 390/14 مورخہ 8 جولائی 2014 کو بجرم/412 395 ت پ؛ تھانہ لڈن مقدمہ درج ہوا پولیس نے تمام ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے 37 لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات برآمد کر کے چالان مرتب کر کے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں بھیج دیا علاقہ مجسٹریٹ نے شہادتوں کے بعد مورخہ 30-04-19 کوتمام ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے سات سات قید بامشقت اور 10،10 ہزار جرمانہ کی سزا کا حکم سنادیاعلاقہ مجسٹریٹ کے فیصلہ کے خلاف مجرمان نے ایڈیشنل سیشن جج خالد اسحاق کی عدالت میں اپیل دائر کی دی جس پر ایڈیشنل سیشن جج وہاڑی خالد اسحاق نے اپنے فیصلے میں ماتحت عدالت کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے 6 مجرموں کی سزا اور جرمانہ برقرار رکھتے ہوئے ایک مجرم محمد یاسین لک کی سزا 7 سال سے کم کرکے 3 سال کرتے ہوئے جرمانہ 10 ہزار برقرار رکھا اس موقع پر مدعی ظفراقبال ظفر نے اپنے وکلاء سابق صدر بار وھاڑی مہر شیر بہادر لک اور احتشام الحق صدیقی ایڈوکیٹ کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی ڈکئیتی کی وارداتوں میں کمی ہوسکتی ہے معاشرہ میں امن اور سکون ہو گا مجرمان کے خلاف پہلے بھی کافی مقدمات درج تھے لیکن قانون کے کٹہرے میں پہلی دفعہ لایا گیا ہے#

مزید : صفحہ اول /ملتان صفحہ آخر