نئے اضلاع میں معدنیات کا نیا قانون پختون دشمن ہے،سردار حسین بابک

نئے اضلاع میں معدنیات کا نیا قانون پختون دشمن ہے،سردار حسین بابک

  



پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ حکومت عددی اکثریت کی بنیاد پر صوبے کے وسائل اور آمدن کے بڑے او ر مستقل ذرائع اپنوں کی جھولی میں ڈالنے کیلئے راہ ہموار کررہی ہے۔ معدنیات ہمارے صوبے کے آمدن کا بہت بڑا ذریعہ ہے  اور ہمارے صوبے میں کھربوں روپوں کے معدنیات موجود ہیں۔باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں سردار حسین بابک نے نئے اضلاع میں صوبائی حکومت کیطرف سے معدنیات کے نئے قانون کو پختون دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے ہمارے صوبے میں معیشت کو دہشت گردی کے ذریعے بے پناہ نقصان پہنچایاہے لیکن موجودہ سلیکٹیڈ حکومت ناجائز فیصلوں کے ذریعے صوبے کے وسائل کو غیروں کے ہاتھوں اونے پونے دام بیجنے پر تلی ہوئی ہے۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ اے این پی ان مذموم عزائم کو پختونوں کے تعاون سے ناکام بنائی گی۔انہوں نے کہا کہ معدنیات کے نئے قانون سے معدنیات کی ملکیت حکومت کے ہاتھوں میں آنے کے بعد صوبے کے سرمایہ کاروں پر کاروبار کے دروازے بند ہوجائینگے اس لیے حکومت صوبے کے وسائل سے اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ بند کردیں اور دہشت گردی سے تباہ حال صوبے کے غریب عوام اور سرمایہ کار طبقہ کیلئے صوبے میں کاروبار او ر تجارت کیلئے منصوبہ بندی کریں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اختیارات کا ناجائزاستعمال کرتے ہوئے ہر شعبے کو اپنے سرمایہ کار ٹولے کے سپردکررہی ہے اور اپنے صوبے کے لوگوں پر لیز لینے کے راستے بند کئے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبے کے کنسلٹنٹ،افسران، سرمایہ کاروں اور حتی کے ہر شعبے میں موجود لوگوں کے بجائے باہر کے لوگوں کیلئے قانون سازی جاری ہے۔ اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ احتسابی ادارے بھی حکومت کے اس اقدام پر نوٹس لیں۔انہوں نے کہاکہ اے این پی ہر فورم پر پختونوں کی حقوق کی جنگ لڑتی رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ احتسابی ادارے بھی پی ٹی آئی حکومت کی ان اقدامات اور معدنیات کے لیزالاٹمنٹ کا ریکارڈ منگوائیں کہ ایک طرف صوبائی حکومت مفادات سے ٹکراو کے قانون کا کریڈیٹ لے رہی ہے اور دوسری طرف اس قانون کی دھجیاں بکھیری جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے قانون میں نئی پیچیدگیاں صوبے کے لوگوں اور وسائل پر اختیار اور بے روزگار کرنے اور غیروں کو مواقع پیدا کرنے کیلئے کیاگیاہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی اس قانون کے پیچھے مقاصد اور محرکات کو عوام کے سامنے اشکار اکریں گی اور عوام کو ان کا اصلی چہرہ بے نقاب کریں گے کہ کس طرح ناجائز اقتدار کے بدلے صوبے کے وسائل کو لوٹا جارہاہے۔

مزید : صفحہ اول /پشاورصفحہ آخر