ضم اضلاع کی معدنیات سرکاری تحویل میں دینے کیخلاف عدالت جائینگے:ایمل ولی

ضم اضلاع کی معدنیات سرکاری تحویل میں دینے کیخلاف عدالت جائینگے:ایمل ولی

  



پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ پختونوں کے حقوق پر آنچ نہیں دینگے‘ ضم اضلاع کی معدنیات قوم کی ملکیت ہیں‘ انہیں سرکاری تحویل میں دینے کے خلاف عدالت جائیں گے‘ احتساب حکمرانوں کی طرح سلیکٹڈ ہے‘باچا خان بابا کے عدم تشدد اورامن کے فلسفے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں شہید جیلانی خان اچکزئی کی نویں برسی کے موقع پرمنعقدہ جلسہ عام سے خطاب کر تے ہوئے کیا‘ انہوں نے کہا کہ 100سال قبل باچاخان بابا کی شروع کی جانے والی تحریک آج بھی زندہ ہے اور آئندہ سو سال بھی زندگی رہے گی اورپارٹی پختونوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کرتی رہے گی انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پچھلے چالیس پچاس برسوں سے پختونوں کی سرزمین چاہے وہ کابل ہے پشاور یا کوئٹہ اس میں جنگ کا لاواپک رہاہے‘ سب سے بڑی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ گولی چلانے والا اور گولی کھانے والا دونوں پختون ہیں‘ اپنی زندگی میں ہم نے کبھی امن دیکھا نہیں‘ انہوں نے کہا کہ ہماری ملکی معیشت کی بنیاد جنگوں پر استوار ہے اور پختونوں کوان جنگوں کا ایندھن بنایاجا رہا ہے‘ ہمیں اندازہ بھی نہیں کہ یہ جنگ کب تک جاری رہے گی‘ آخرکب تک ریاست پختونوں کا خون بہائے گی۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ کل ایک صحافی نے سوال کیا کہ آخر اے این پی ہی دہشت گردوں کے نشانہ پر کیوں ہے‘ میں نے جواب دیا کہ اے این پی عدم تشدد کے فلسفے پر عمل پیرا ہے جو ان کے نظریے سے متصادم ہے‘ قوم میں خوف و ہراس پیدا کر نے والے سب سے پہلے امن کا پرچارکرنے والوں کو اپنا ہدف بناتے ہیں‘ انہوں نے کہا کہ ریاست اور دہشت گرد یاد رکھیں کہ ہمارے جتنے  پختونوں کو شہید کیا اس کے دس گنا مزید بھی شہید کئے جائیں تب بھی ہم باچا خان بابا کے عدم تشدد اورامن کے فلسفے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے‘انہوں نے مزید کہا کہ سکولوں میں بچوں کو سکھایا اورپڑھایاجاتاہے کہ ملک دوقومی نظریے کی بنیاد پر بنا کیونکہ ہند و اور مسلمان اکٹھے نہیں رہ سکتے تھے آج فیصلہ کرنے والوں نے کرتار پورراہداری کھول کر ثابت کردیا کہ دوقومی نظریہ محض ایک ڈرامہ تھا‘انہوں نے کہا کہ ہم کرتارپور راہداری کے خلاف نہیں اگر بھارتی اور پاکستانی پنجاب راہداری کے ذریعے مل سکتے ہیں ان میں تجارت ہوسکتی ہے تو باجوڑسے لیکر چمن تک لگائی گئی باڑ اورافغانستان اور پاکستان کے پختوتوں کے درمیان کھینچی گئی لکیر بھی ختم کی جائے‘ بند راہداریاں کھولی جائیں اورمزید بنائی جائیں تاکہ پختو ن بھی تجارت کرسکیں اس اقدام سے پختون بھی ترقی کریں گے اور ملکی معیشت بھی بہترہوگی لیکن عجیب ملک ہے کہ پنجابی کے لئے ایک اور پختونوں کے دوسرا قانون ہے‘ احتساب کو تعصب پر مبنی قراردیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی طرح احتساب بھی سلیکٹڈ ہے حکومت مخالف لوگوں کو گرفتار کیا جارہاہے‘ نواز شریف کو علاج کی ضرورت ہے اس کو جانے دیا جائے‘ یہ کیا مذاق ہے کہ ان کے خلاف کیس ثابت ہوا نہیں اور ان سے 7 ارب کے مچلکے مانگے جارہے ہیں‘ پی ٹی آئی کے آنے سے سیاست سے شائستگی تو چلی گئی تھی انسانیت بھی چلی گئی ہے اسی طرح زرداری کے بارے میں کیس ابھی کھلا نہیں اور وہ پابند سلاسل ہیں‘ انہوں نے زوردیکر کہا کہ ریاست یہ بات یہ رکھے کہ اسلام آباد اورپنڈی کی جانب سے تیسری میت سندھ جائے گی تو حالات بے قابو ہوجائیں گے کیونکہ ابھی سے سندھ کے عوام سندھو دیش کی باتیں کر رہے ہیں‘ پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کیس کو پانچ سال ہوئے لیکن وہ سب باہر پھر رہے ہیں‘ انہوں نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ضم اضلاع کی معدنیات کو قوم کے بجائے سرکار کودینے کا قانون منظورکرلیا‘ اس کے خلاف عدالت جائیں گے اور سڑکیں بند کریں گے ان معدنیات پر قوم کا حق ہے‘ یہ حق چھین کر رہیں گے۔

مزید : صفحہ اول /پشاورصفحہ آخر