جرائم پر قابو پانے کیلئے حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے:کراچی پولیس چیف

جرائم پر قابو پانے کیلئے حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے:کراچی پولیس چیف

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایڈیشنل آئی جی اورکراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ پولیس کا کام جرائم پر قابو ہے، محکمہ پولیس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں حکمت عملی مرتب کی جار رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ نہ ہونے کے باوجود تھانوں میں ممکنہ سہولیات نہ ہونے کے باوجود کراچی پولیس جن حالات میں کام کررہی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ پولیس کی کارکردگی سے مطمئن ہوں۔ لوگ کہتے ہیں کہ جرائم میں اضافہ ہوا ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ جرائم میں کمی آئی ہے، جرائم کے اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ پولیس کی کارکردگی اور پولیس کا ریسپانس بھی دیکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کراچی پولیس چیف کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے 4ماہ ہوئے ہیں، بحیثیت کراچی پولیس چیف کراچی پولیس کی کارکردگی سے مطمئن ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا نام بدنام ہے، ماضی کے مقابلے میں پولیس کا موجودہ کردارکافی بہتر ہے، پولیس کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ مجرم کو قرار واقعی سزا ملے، اس حوالے سے پولیس کے شعبہ تفتیش کو اپ گریڈ کررہے ہیں تاکہ جرائم پیشہ لوگ اپنے انجام کو پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت سمیت ان کی مدد کیلئے 15پولیس مددگار کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے،اور مطلوبہ حدف حاصل ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کراچی میں   متعارف ہونے والے"  ون کال، ون فائیو "کوعوامی پذیرائی حاصل ہورہی ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے پاکستان ایکسیلینس کلب کی جانب سے 15 روزہ گیسٹ اسپیکر پروگرام میں ایک شام غلام نبی میمن کے نام منعقد کی گئی۔تقریب میں پولیس چیف کراچی غلام نبی میمن کی شاندار کارکردگی کے عوض پاکستان ایکسیلنس کلب کی جانب سے پاکستان ایکسیلنس آفیسرز ایوارڈ 2019 دیا گیااور ایکسیلنس کلب کی لائف ٹائم ممبرشپ اور سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا گیا۔ اس موقع پرغلام نبی میمن نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو خوبصورت بنانے کیلئے فوٹ پاتھ کو قبضہ مافیا سے خالی کرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نارکوٹکس دنیا بھر کیلئے ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، اینٹی نارکوٹکس بھی پولیس کا رول ہے،اینٹی سمگلنگ اور اینٹی انکروچمینٹ کا کام بھی پولیس کاہے، لیکن پولیس اس میں کامیاب نہیں ہورہی، جس کی کئی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی کوششوں کی بدولت اب کٹکا  و ماوا کا کاروبار 90فیصد کاروبار بند ہو چکا ہے، اور گٹکا اور ماوا کی فیکٹریاں بند ہوچکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جناح اسپتال کے ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق گٹکا اور ماوا استعمال کرنے والے ہزاروں افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور سینئر لیڈر شپ کا مکمل تعاون اور مدد شامل ہے، اس وجہ سے پولیس افسران کی میرٹ پر تعیناتی کا فیصلہ بورڈ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس اچھا ہونے کی سخت ضرورت ہے جس سے جرائم رونما ہونے سے قبل اس کی روکت تھام ہونی چاہئے اور کرپشن کلچر کو ختم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ ہزار پولیس افسران میرٹ پر بھرتی کئے جائیں گے۔  انہوں نے کہا کہ عدم سہولیات کے باوجودپولیس افسران اپناکام کررہے ہیں، حتیٰ کہ 21، 21 گھنٹے مسلسل ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، کراچی میں بڑی تعداد میں پولیس افسران کی شہادت معاشرے میں مثبت پیغام دیا ہے، ان شہادتوں کی بناء پر ہی کراچی آج امن کا گہوارہ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کیلئے عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرن چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس میں کرائیم سین سے متعلق تحقیقات کا یونٹ کام کررہا ہے، جہاں جرائم کی تحقیقات کیلئے شواہد جمع کئے جاتے ہیں، تحقیقات کرائیم سیل کے مزید 45 یونٹس بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ غلط کام کرنے پر ایک سو سے زائدپولیس اہلکاروں کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشتگردی کے کیسز میں ہمار ی کا رکردگی  بہتر ہے، سال 2017-18 میں جو کیس رپورٹ ہوئے ہیں، اس پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی بھرتی میں میرٹ کا بول بالا ہوگا اور ایک بورڈ قائم کیا گیا ہے جو اہل پولیس افسران کو سلیکٹ کرے گا۔ پاکستان ایکسیلینس کلب کے چیئرمین حمید بھٹو نے کہا کہ غلام نبی میمن جیسی شخصیات پاکستان کے ایکسیلینس ہیں، ایسے ہی ایکسیلینس شخصیات کو ملک و قوم کی ترقی او ر بہترین خدمات سرانجام دینے پر انہوں پاکستان ایکسیلنس ایوارڈ دیا جا رہا ہے، اس ملک اور قوم کی حقیقی معنی میں خدمات کرنے والی ایسی ہی شخصیات کو ایوارڈ دینے کا سلسلہ جاری رہے گا، ہماے ملک میں افسران کیلئے کرپٹ افسران کا کو تصوراجاگر کیا گیا ہے، ان مافیاز کو بتانا چاہتے ہیں کہ ملک میں اچھی کارکردگی کے حامل افسران بھی موجود ہیں، جن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے ڈپٹی ڈائرئیکٹر جنرل شاہد حسین مہیسر نے غلام نبی میمن کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ غلام نبی میمن محکمہ پولیس کے آئیڈیل شخصیات میں سے ایک بہت بڑی شخصیت ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے جہاں بھی ان کو ذمہ داری تفویض کی ہے، ان ذمہ داریوں کو ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے، انہوں نے جہاں بھی رہے، وہاں کے بہترین لیڈر رہے ہیں۔ سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ غلام نبی میمن جیسے افسران کی وجہ سے محکمہ پولیس کی نیک نامی ہورہی ہے، ماضی میں محکمہ پولیس بدنام رہا ہے، اب محکمہ پولیس کے حالات مثبت طور پر بہتر ی کی جانب جارہے ہیں۔ عیسیٰ لیباریٹریز کے چیئرمین پروفیسر فرحان عیسیٰ نے کہا کہ پولیس کی وردی زیب تن کرنے والوں کی ہمیں عزت و توقیر کرنے سے معاشرے میں بہتری آئے گی، اب محکمہ پولیس میں اچھے باکردار افسران کے باعث پولیس کی نیک نامی میں اضافہ ہورہا ہے۔ نامور بزنس مین سمیر میر شیخ نے کہا کہ محکمہ پولیس کے اچھے افسران کو سپورٹ کرنا مثبت قدم ہے۔ اس موقع پر ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیئرمین خالد شیخ، اینٹی کرپشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر سندھ میر نادر حسین ابڑو، ڈاکٹر زاہد حسین انصاری، سید شاکر حسین شاہ، سید تراب شاہ، شعیب خان، اینکر پرسن علی رضا، سید عبید شاہ، فیض بروہی، رضوان آدھیا،نورین خان، مظہر خان، ملک عظمت، عبدالعزیز مہیسر، عبدالمجید ٹانوری، شاہد حسین سومرو، انجم غفور، سید صابر علی، نواب علی شاہ، کنول عابدی، شہاب صدیقی، عبدالباری شیخ، محمد اختر آرائیں، سیدہ طلعت حسن، ڈاکٹر مشتاق ملکانی، محمد عمران، جی ایم ایڈووکیٹ، اشرف علی نظامانی، فدا حسین سومرو، مونا خان، سوبھیا علی، صابی عرش، جاوید اختر ناز، ابرار بختیار، حسین تھیبو، اسداللہ شاہ، کنول جتوئی، قاضی شہاب الدین، سیدہ تبسم، محمد عادل ودیگر نے غلام نبی میمن کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس موقع پر ایکسیلینس کلب کے نو منتخب ممبران کو بھی سرٹیفکیٹ دیئے گئے، ان میں سابق سیکریٹری، سندھ حکومت ڈاکٹر زاہد انصاری،ایس ایس پی اور ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن میر نادر حسین ابڑو، سابق جج شاہد حسین سومرو، نیشنل بنک کے سینئر نائب صدر قاضی شہاب، بزنس مین سید عبید شاہ، پاکستان ٹیلی ویژن کے شعبہ کرنٹ افیئر کے ہیڈ فدا حسین سومرو، پروفیسر عبدالمجید ٹانوری شامل ہیں۔اس موقع پر پاکستان ایکسیلینس کلب کے سینئر ممبراور سابق آئی جی جیل خانہ جات عبدالمجید صدیقی کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔    

مزید : صفحہ آخر /صفحہ اول