خواجہ اظہار الحسن کا وزیر صحت عذرا پیچوہو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

  خواجہ اظہار الحسن کا وزیر صحت عذرا پیچوہو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)ایم کیوایم رہنما خواجہ اظہار الحسن نے وزیر صحت عذرا پیچوہو سے مستعفی ہونے یا محکمہ صحت کے افسران کو فارغ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ لاڑکانہ میں کتے کا بچے کو کاٹنا حکمرانوں کی بدانتظامی کامنہ بولتاثبوت ہے۔ایم کیوایم رہنما خواجہ اظہار الحسن نے لاڑکانہ میں سگ گزیدگی کے واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بچے کو کتے کے کاٹے کا واقعہ کسی قیامت سے کم نہیں، لاڑکانہ کے چانڈکا اسپتال نے بچے کو لینے سے انکارکردیا، کتے کے کاٹے کی ویکسین تک نہیں، 18ویں ترمیم کا فائدہ ہے، لاڑکانہ کے شہریوں سے اپیل ہے چانڈکا میڈیکل کالج پر دھرنا دیں، واقعہ حکمرانوں کی بدانتظامی اورکرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے کہاکہ لاڑکانہ کے حکمرانوں نے بیرون ملک سے تعلیم اور تربیت حاصل کی، کیاامریکا، یورپ میں 8،8کتے سڑکوں پر لوگوں کو کاٹتے ہیں؟ ہمارے یہاں آپ کے کتوں اور گلی کے کتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے، ہیومن رائٹس پر آواز اٹھانی ہے تو لاڑکانہ کے آوارہ کتے اپنے گھروں میں رکھ لیں، جانوروں کے حقوق کے چکر میں تو ہم بنانا ریپبلک بن جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ایک وزیر موصوف کہتے ہیں ٹڈی دل کو پکا کر کھا لیں، عذراپیچوہو خود مستعفی ہوں یا محکمہ صحت کے تمام افسران کو فارغ کریں، لاڑکانہ کے حکمرانوں کوغریب سے زیادہ کتوں کی فکرہے، یورپ کی سوچ لاڑکانہ پرمسلط نہیں کی جاسکتی، یورپ میں آوارہ کتیسڑکوں پرنہیں گھوم رہے ہوتے۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ کتے پالنے ہیں تو گھروں میں پالیں،لاڑکانہ کے عوام کی جان چھوڑیں، سندھ کے حکمران چاہتے ہیں طاقت ان کے پاس ہو، عوام ان کے غلام بن کر رہیں، متاثرہ بچہ کے اخراجات کون اٹھائے گا، حکومت تو چاہے گی متاثرہ بچہ زندہ ہی نہ رہے۔رہنما ایم کیو ایم نے کہاکہ روٹی کپڑا اور مکان تو سندھ میں کسی کے پاس نہیں، 18 ویں ترمیم میں عوام غریب سے غریب اور وزرا امیر سے امیر ہوگئے۔

مزید : صفحہ آخر /صفحہ اول