روشنی

روشنی

  



شیر جان

”تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ قانون کی پناہ میں ہوتے ہوئے میرے ہاتھ تم تک نہیں پہنچ سکیں گے۔۔۔۔ ساجے تم شاید یہ نہیں جانتے تھے کہ سینتال کے ہاتھ قانون سے بھی لمبے ہیں۔۔۔۔ وہ جب چاہے۔۔۔ جیسے چاہے اپنے شکار تک پہنچ سکتا ہے!۔۔۔ اس کے شکنجے سے بچ کر نکل جانا۔۔۔۔ آسان نہیں۔۔۔۔ بہت مشکل ہے ساجے!۔۔۔ بہت مشکل ہے!!!“

مگر وہ صورت شخص شعلہ بار نظروں سے اسے گھورتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ”میرا سارا منصوبہ خاک میں مل گیا ہے!۔۔۔۔ صرف اور صرف تمہاری وجہ سے۔۔۔۔ اگر تم غداری نہ کرتے تو اسلحہ کی اتنی بڑی کھیپ کبھی بھی پکڑی نہ جاتی اور۔۔۔۔ آج میرے درندے گلی گلی موت تقسیم کر رہے ہوتے اور۔۔۔۔ میں اس ملک کے وفاداروں کو ایسا عبرت ناک سبق سکھاتا کہ ان کی آنے والی نسلیں یاد رکھتیں،لیکن جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار تم ہو۔۔۔۔ میں تمہیں معاف نہیں کروں گا۔۔۔۔ ہرگز معاف نہیں کروں گا۔“

”بب۔۔۔۔۔ بب۔۔۔ بب۔۔۔ باس!“ ساجا ہکلاتے ہوئے بولا”میں مجبور تھا۔۔۔۔ باس۔۔۔۔ انہوں نے بے بس کر دیا تھا۔۔۔۔ میرے دونوں بچے ان کے قبضے میں تھے۔“

”تم مجھے تھے۔۔۔ یا نہیں۔۔۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔۔۔ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ تم ہو!“ سینتال نے غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا اور اگلے لمحے اس نے ریوالور کا رخ نیچے گرے ساجے کی طرف کر دیا۔

”۔۔۔۔ ر۔۔۔۔ رحم۔۔۔۔ باس خدا کے لیے مجھ پر رحم کریں۔۔۔۔ مجھے ایک موقع۔۔۔ صرف ایک موقع اور دے دیں۔“ ساجا گڑگڑایا۔

”آہاہا ہا ہا!“ سینتال قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔ موقع۔۔۔۔ تو اسے دیا جاتا ہے جس نے انجانے میں غلطی کی ہو۔۔۔۔ اور تم نے تو سب کچھ جان بوجھ کر کیا ہے۔۔۔ تمہیں موت دے سکتا ہوں۔۔۔۔ موقع نہیں۔

سینتال کی انگلی کا دباؤ ٹریگر پر بڑھنے لگا اور پھر اس سے پہلے کہ گولی ریوالور سے نکل کر ساجے کا سینہ چیر ڈالتی۔۔۔۔

کمرہ اچانک تاریکی میں ڈوب گیا!

”افوہ! کیا مصیبت ہے!۔۔۔۔ اس کمبخت بجلی کو بھی اس وقت ہی جانا تھا۔ کس قدر تجسس بھرا سین تھا۔“ عمیر کے لہجے میں غصہ تھا۔

”ارے چھوڑو سین وین کو۔۔۔۔ بتاؤ ماچس کہاں رکھی ہے؟“ متین نے اندھیرے میں ادھر ادھر ہاتھ مارتے ہوئے پوچھا۔

”متین بھائی! ماچس اور موم بتی دونوں ٹی وی کے نیچے رکھی ہیں۔“ منو کی آواز سنائی دی۔

تمہارے خیال میں کیا سینتال نے ساجے کو مار دیا ہو گا؟متین نے موم بتی جلاتے ہوئے عمیر سے پوچھا۔

”مجھے کیا پتہ یار۔۔۔۔ ساجا مر گیا ہے یا زندہ ہے۔۔۔۔ یہ تو بجلی بند کرنے والوں کو پتہ ہو گا۔“”آؤ دیکھتے ہیں“ متین نے کہا

دونوں منو کو ڈھونڈتے ہوئے سٹڈی روم تک پہنچ گئے۔ کھڑکی سے اندر کا منظر دیکھنے کے بعد دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ سٹڈی روم کی لائٹ بند تھی اور منو موم بتی کی روشنی میں اندر بیٹھا کچھ لکھنے میں مصروف تھا۔ وہ دونوں غیر محسوس انداز میں دروازہ کھول کر دبے پاؤں چلتے ہوئے اندر آ گئے۔

”منے میاں! جب گھر میں بجلی ہے تو موم بتی کی روشنی میں آنکھیں خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے تمہیں“ عمیر اس کے کان کے قریب منہ لے جا کر اچانک بولا۔

منو نے لکھتے لکھتے نظریں اٹھا کر عمیر کی طرف دیکھا اور پھر دوبارہ لکھنے میں مصروف ہو گیا۔

متین لائٹ آن کرنے کے ارادے سے سوئچ بورڈ کی طرف بڑھا ہی تھا کہ منو کی آواز کمرے میں گونجی۔

”متین بھائی لائٹ نہ جلائیں۔“

”کیوں بھئی؟“ متین نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔

”بس میں نے کہہ جو دیا کہ لائٹ نہ جلائیں۔“

”اچھا تو آؤ پھر دوسرے کمرے میں چلتے ہیں۔“ عمیر اٹھتے ہوئے بولا۔

”نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔“

”عجیب بے وقوف لڑکا ہے اندھیرے میں آنکھیں پھوڑنے پر تلا ہوا ہے۔“

”ابھی پورے چالیس منٹ کا ڈرامہ باقی ہے۔۔۔ وہ دیکھ سامنے والے گھر میں بجلی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک فیز آف ہوا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو باقی کھیل دیکھ سکتے ہیں۔“ متین نے دروازے سے باہر دیکھتے ہوئے انکشاف کیا۔

”وہ کیسے بھئی؟“ عمیر کی آنکھوں میں حیرت سمٹ آئی تھی۔

”ابھی بتاتا ہوں۔“ متین نے کہا اور پھر تیزی سے سٹور روم کی طرف لپکا۔ ا ور پھر پانچ منٹ بعد وہ گھر جو کچھ دیر پہلے اندھیرے میں ڈوبا نظر آ رہا تھا ایک بار پھر روشنی سے جگمگانے لگا۔

”واہ یار کیا ترکیب نکالی ہے تم نے!۔۔۔۔ کس سے سیکھا ہے یہ ہنر؟“ عمیر کے لہجے میں خوشی جھلک رہی تھی۔

”اپنے دوست عمران سے۔۔۔ جب بھی بجلی جاتی ہے تو وہ لوگ کنڈال ڈال کر کام چلاتے ہیں۔“ متین ٹی وی کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا۔

”ارے یہ منو کہاں چلا گیا؟“ عمیر نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔

”اگر یہاں نہیں ہے تو ظاہر ہے دوسرے کمرے میں ہو گا۔۔۔۔ خود ہی آ جائے گا۔۔۔۔ چھوڑو اسے۔۔۔۔ آؤ ڈرامہ دیکھو۔“ متین نے سکرین پر نظریں جمائے ہوئے جواب دیا۔

ڈرامہ ختم ہوا تو انہیں پھر منو کی یاد آ گئی۔ ”وہ منو آخر ہے کہاں؟“ عمیر بولا۔

”آپ مجھے بے وقوف کہہ سکتے ہیں اور میری آنکھوں پر اثر بھی پڑ سکتا ہے لیکن۔۔۔۔“

”لیکن کیا؟“ متین اور عمیر دونوں نے ایک ساتھ پوچھا۔”لیکن یہ کہ چوری کی جگمگ جگمگ کرتی روشنی سے میری یہ چھوٹی سی موم بتی کہیں بہتر ہے وہ عقل مندی کس کام کی جو اپنے گھر کو روشن کرنے کے لیے اپنے ہی ملک کو اندھیروں میں جھونک دے۔“

کمرے کی فضا میں سناٹا چھا گیا تھا۔متین اور عمیر دونوں کی نظریں موم بتی کے ننھے سے شعلے پر جمی ہوئی تھیں۔ انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ یہ ننھا سا شعلہ دور تک روشنی پھیلا رہا ہے اور اس روشنی میں انہیں اپنا چھوٹا بھائی بھی بڑا نظر آ رہا تھا۔ بہت بڑا۔

مزید : ایڈیشن 1 /صفحہ اول