جیکی اور اصل نیکی

جیکی اور اصل نیکی

  



کسی جنگل میں جیکی نامی ایک کتا رہتاتھا جو بہت ذہین اور سمجھ دار تھا۔ سبھی جانور جیکی کی بہت عزت کرتے تھے،کیوں کہ وہ ان کی دشمن کے مقابلے میں بھر پور مددکرتا تھا۔ایک روز جیکی جنگل میں سیر کررہا تھا کہ اچانک اسے ایک جھاڑی کے پیچھے سے چیخنے کی آواز آئی۔ وہ تیزی سے جھاڑی کے پاس آیا تو وہاں ایک سسکتے ہوئے خرگوش کو دیکھا جو اسے دیکھ کرجلدی سے اپنے آنسو پونچھنے لگا۔

”خرگوش میاں! سب خیریت ہے ناں؟ یہاں کیوں اداس بیٹھے ہو؟“ جیکی نے اس کے قر یب بیٹھتے ہوئے پوچھا۔

”بس جیکی بھیا! ایک پریشانی آن پڑی ہے۔،، خرگوش نے اپناسر دباتے ہوئے کہا۔

”ارے کیسی پریشانی؟ مجھے بتاؤ تو سہی“

جیکی کی بات سن کر خرگوش نے اس کی طرف دیکھا اور بو لا: ”میرے ننھے خرگوش کے پاؤں پر کچھ دن پہلے کسی زہریلے کیڑے نے کاٹ لیا تھا، لیکن ہم نے زخم کی طرف زیادہ دھیان نہ دیا اور آج جب تکلیف زیادہ ہوگئی تو حکیم ہرن کے پاس لے گئے جس نے زخم دیکھنے کے بعد بہت بری خبر سنائی ہے۔،،

یہ کہتے ہوئے خرگوش کے دوبارہ آنسو بہنے لگے۔

”کیا کہا ہے حکیم ہرن نے؟“ جیکی نے بے چینی سے پوچھا۔

”آپ کو یہاں سے کچھ فاصلے پر مو جو د پان کے پتوں والی وادی کے بارے میں معلوم ہوگا کہ وہ کس قدر خطرناک جگہ ہے۔وہاں ہر طرف زہریلے کانٹوں والے چھوٹے چھوٹے پودوں کا راج ہے، انہی کی وجہ سے کوئی بھی ادھر کا ُرخ نہیں کرتا۔ وادی کے ایک حصے میں پان کے پودے ہیں جن کے پتوں کا رس میرے ننھے خرگوش کے زخم کو ٹھیک کر سکتاہے، ورنہ چند دن تک پاؤں کاٹنا پڑ جائے گا۔“ٖخرگوش نے ساری صورت حال بتائی تو جیکی بھی سن کر پریشان ہوگیا، کیوں کہ اس وادی میں کوئی بھی قدم نہیں رکھتا تھا۔

”اچھا تم فکر نہ کرو، میں کچھ کرتا ہوں۔“ جیکی کا تیز دماغ کچھ انوکھا سوچنے لگا۔ اس نے جنگل سے مضبوط لکڑی لی اور گھر جاکر اس سے اپنے سائز کے حساب سے ایک گاڑی بنانا شروع کر دی۔ جیکی پہلے بھی منفرد قسم کے جھولے اور گاڑیاں بناتا رہتا تھا، وہ اپنی ذہنی صلاحیتوں کا بہت اچھا استعمال کرتا تھا۔ آخر شام تک جیکی دو پہیوں والی گاڑی بنانے میں کامیاب ہوگیا جس میں اس نے اسٹیئرنگ بھی لگالیا۔ جیکی نے گاڑی میں بیٹھ کر اسے چلانے کی کوشش کی تو خوشی سے اچھل پڑا، کیوں کہ اس کی محنت رنگ لے آئی تھی اور گاڑی کے اسٹیئرنگ پر زور لگانے سے وہ آہستہ آہستہ چلنے لگی۔ جیکی پوری رات گاڑی کو چلانے کی پریکٹس کرتا رہا اور صبح کے وقت پان کے پتوں والی وادی کی طرف روانہ ہوگیا۔ گاڑی کی رفتار ُسست تھی لیکن اس نے ہمت نہ ہار ی اور آہستہ آہستہ وادی میں داخل ہوگیا۔ گرمی کا موسم تھا۔ سورج اپنی تپش خوب دکھا رہا تھا۔ جیکی نے اپنی عقل مندی سے پانی اور کچھ کھانے پینے کی چیزیں بھی ساتھ رکھ لی تھیں۔ وادی میں زہریلے کا نٹوں کی بھر مار تھی۔ جیکی بڑے حوصلے اور احتیاط سے اپنی گاڑی چلاتا جارہا تھا۔تھوڑی سی کوشش کے بعد اُسے پان کے پودے دکھائی دے گئے۔ جیکی نے اس موقع پر بھی پورے ہوش وحواس سے کام لیا اور گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی پان کے پتے توڑ کر سنبھال لیے۔ اگر وہ خوشی کے مارے گاڑی سے نیچے اُتر جاتا تو نہ صرف اس کی محنت بے کار جاتی بلکہ وہ خود بھی زہریلے کانٹوں کا شکار ہوجاتا۔ جیکی نے پان کے پتے لئے اور گاڑی پیچھے کی طرف موڑ لی۔ وہ اپنی کامیابی پر بہت خوش تھا، لیکن اس نے اس خوشی میں اپنے آپ پر قابو رکھا۔ جیکی کو اس کام میں پورا دن لگ گیا۔ وہ دن ڈھلے جنگل میں داخل ہوا۔ جیکی کچھ دیر بعد خرگوش کے گھر میں موجود تھا۔ خرگوش کاننھا بچہ تکلیف سے چلّارہا تھا۔جیکی نے تیزی سے پان کے پتے پیس کرزخم پر لگا دیے۔ پان کے پتوں کے رس کا ایسا اثر ہوا کہ تھوڑی دیر میں خرگوش کے بچے کو سکون مل گیا اور اس کا درد جاتا رہا۔

”جیکی بھیا! میں آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں؟“ خرگوش نے خوشی سے جیکی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

”جنگل میں ہم سب دوستوں کی طرح رہتے ہیں، اس لئے یہ شکریہ وغیرہ کہہ کر مجھے شرمندہ نہ کرو۔“ جیکی نے اس کا کندھا تھپکا۔

”یہ باقی پان کے پتے رکھ لو اور ایک دو دن تک ننھے خرگوش کے زخم پر لگاتے رہنا۔“ جیکی یہ کہتے ہوئے مڑا ہی تھا کہ کچھ یاد آنے پر رُک گیا اور بولا:

”میری تم سے گزارش ہے کہ میری اس نیکی کو راز ہی رہنے دینا، کسی کے سامنے میرا نام مت لینا، کوئی پوچھے تو اسے کہنا کہ کسی دوست نے لا کر دیے ہیں اور اگر کسی کو ضرورت ہو تو مجھے بتا دینا، میں لادوں گا۔“ جیکی کی بات سن کر خرگوش نے سر ہلایا اور سوچنے لگا:”واقعی کسی کے ساتھ نیکی کرو تو اُسے راز میں رہنے دو نہ کہ ساری دنیا کے سامنے اس کا دکھاوا کرتے پھرو۔“

مزید : ایڈیشن 1 /صفحہ اول