آئیے مسکرائیں

آئیے مسکرائیں

  



٭ایک ننھی سے اس کے چچانے پوچھا”بیٹی تمہاراآپریشن کیساوہا؟“بچی نے جواب دیا،ڈاکڑوں نے کہا تھا کہ تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی اور ایسا ہی ہوا،انہوں نے میرے بازو میں ایک سوئی چبھوئی اور میں غائب ہوگئی۔

٭بادشاہ نے درباری مسخرے کے آتے ہی کہا”اچھا ہوا تم آگئے،اس وقت میرا دل کسی مسخرے سے گفتگو کونے کو چاہ رہا تھا“۔مسخرے نے جواب دیا”بادشاہ سلامت! میں بھی یہی سوچ کر آپ کے پاس آیا ہوں“۔

٭ایک بادشاہ کسی خوشی کے موقع پر سب قیدیوں کورہا کرنے کا حکم دیا۔قیدی اسے سلام کرنے آئے،ان میں ایک بوڑھا تھا۔بادشاہ نے بوڑھے سے پوچھا”بابا جی!آپ یہاں کب سے قید ہیں؟“بوڑھے نے جواب دیا”آپ کے دادا کے زمانے سے“۔بادشاہ نے سپاہیوں کو حکم دیا”اس بوڑھے کو پھر قیدکردویہ ہمارے بزرگوں کی نشانی ہے“۔

٭ایک مداری تماشہ دکھارہاتھا،اس نے ہجرم میں سے ایک لڑکے کو بلایااور پوچھا”لڑکے بتاو تم میرے وشتہ دار تو نہیں؟یا تم نے مجھے کہیں دیکھاتو نہیں؟“لڑکے نے معصومیت سے جواب دیا”جی نہیں ابا جان“۔

٭بیٹا(باپ سے)”ابا جان!جب میں گانے لگتا ہوں تو ٓآپ چھت پرکیوں چلے جاتے ہیں؟“

باپ:”تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ میں تمہاری پٹائی کررہا ہوں۔“

٭وکیل:”اب جبکہ میں نے تمہیں بری کر وادیاہے،یہ تو بتاتے جاو کہ تم نے چوری کی تھی یا نہیں؟“

چور:”عدالت میں آپ کی بحث سن کر مجھے یقفن ہوگیاہے کہ میں نے چوری نہیں کی۔“

٭بیٹا:”ابا جان!میرے دوست کی شادی ہے اسے کیا تحفہ دوں؟

باپ:”بیٹا!انگوٹھی دے دو“۔

بیٹا:”ابا جان!انگوٹھی اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ نظرہی نہیں آئے گی“۔

باپ تو پھر”سائیکل کا ٹائردے دو“۔

مزید : ایڈیشن 1 /صفحہ اول