یمنی طوطے کی کہانی

یمنی طوطے کی کہانی

  



پہاڑ سے گرتے آبشار اور بہتی نہر کے ساتھ ایک چھوٹا سا،مگرہرا بھرا جنگل آباد تھا، جس میں طرح طرح کے خوبصورت جانوروں نے بسیرا بنا رکھا تھا۔نہر کے کنارے مختلف رنگ ونسل کے طوطوں کا قبیلہ بھی آباد تھا۔ان طو طوں کے قبیلے کا سردار ایک ادھیڑ عمر ملائیشین طوطا تھا،جس نے انپے قبیلے سے کہہ رکھا تھا کہ اپنی اس حسین وجمیل سر زمین کے سوا کہیں جانے کی کوشش نہ کرنا ورنہ کسی مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ گے۔ان طوطوں میں ایک یمنی طوطا بھی تھا، جس کا بہت دِل چاہتا تھا کہ مَیں جنگل سے باہر کی دُنیا بھی دیکھوں۔

ایک روز یمنی طو طے نے نظر بچا کر جنگل سے دور شہرکی طرف اڑان بھری اور ایک گھر کی دیوار پر جاکر بیٹھ گیا۔گھر میں موجود بچی سارہ نے جب اتنا خوبصورت طوطادیکھا توبہت خوش ہوئی اور جھٹ طوطے کو پکڑ کر پنجر ے میں بند کردیا۔اس رات خوشی کے مارے سارہ کو بالکل نیندنہ آئی۔اگلی صبح سارہ نے اپنی تمام سہیلیوں کو طوطے کے بارے میں بتایا تو وہ سب طوطے کو دیکھ کو بہت خوش ہوئیں۔پھر سارہ نے مزے مزے کا دانہ دنکا پنجرے میں ڈالا لیکن یمنی طوطا غمزدہ اور پر یشان بیٹھارہا،اس نے کچھ بھی نہیں کھایا۔

اسی طرح کئی دن گزر گئے۔اب یمنی طوطا بہت پچھتایا کہ مَیں نے سردار طوطے کی بات کیوں نہیں مانی۔اب نہ جانے کب تک مجھے اس پنجرے میں تنہا رہنا پڑے گا۔

ادھر طوطوں کے قبیلے میں ہل چل مچی ہوئی تھی،ہر ایک اپنی سی کوشش کر کے دیکھ چکا تھا، لیکن یمنی طوطے کا کچھ پتہ نہ چلا۔دن گزرتے گئے، یمنی طوطا رو رو کر اپنے آپ کو ملامت کرتا رہا۔ ایک دن سارہ نے اپنی ماما سے کہا:”کل ہماری کلاس کی تمام لڑکیاں ٹیچرکے ساتھ آبشار والے جنگل کی سیر کو جائیں گی“۔

طوطے نے جب سارہ کی یہ بات سنی تو جیسے اس کے بدن میں ایک نئی زندگی دوڑ گئی۔یمنی طوطے نے سارہ سے کہا:”جب تم کل آبشار والے جنگل جاؤ تو وہاں ہمارا قبیلہ رہتا ہے،اس کے سردار سے میراسلام کہنا“۔

سارہ خوشی سے بولی:”ضرور!“

اگلے روز کلاس کی تمام لڑکیاں ٹیچر کے ساتھ آبشار والے جنگل پہنچ گئیں اور خوب سیر سپاٹے کئے۔ اچانک سارہ کو طوطے کی بات یاد آئی تو اس نے اپنی ایک سہیلی وسیلہ کو ساتھ لیا اور طوطوں کے سردار کو یمنی طوطے کا سلام پہنچایا۔سردار طوطے نے پوچھا:”کیا وہ تمہارے پاس ہے؟“

سارہ بولی:”جی ہاں،مَیں نے اُسے پنجرے میں رکھا ہوا ہے“۔

یہ سننا تھا کہ ادھیڑ عمر ملائیشین طوطا گرا اور مر گیا۔یہ دیکھ کر سارہ اور وسیلہ بہت ڈریں اور بھاگ کر اپنے گروپ میں شامل ہو گئیں۔

واپسی پر شام ہو چکی تھی۔سارہ تھکی ہوئی تھی،اِس لئے جلدہی سوگئی۔

ا گلے روز جب سارہ یمنی طوطے کو دانہ پانی دینے لگی تو طوطے نے پوچھا:”کیا تم نے سردار طوطے کو میرا سلام پہنچایا تھا؟“یہ سُن کر سارہ کو وہ پورا واقعہ یاد آ گیا۔وہ جھٹ سے بولی:”مَیں نے جونہی تمہارا سلام انہیں پہنچایا تو تمہارا سردار طوطا زمین پر گرا اور مرگیا“۔

یہ سُن کر یمنی طوطا بھی گرا اور مر گیا۔یہ دیکھ کر سارہ بہت گھبرائی اور پنجرہ کھول کر طوطے کو باہر نکال کر پھینک دیا۔ طوطے کا پنجرے سے باہر نکلنا تھا کہ وہ پُھر سے اڑا اور قریبی درخت کی شاخ پر جا بیٹھا۔اس نئی صورتِ حال سے سارہ سہم گئی اور گھبرائے ہوئے لہجے میں بولی:”یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔

یہ سُن کر یمنی طوطا بولا:”جب تم نے سردار طوطے کو میرا سلام کہا تو وہ گر کر مرا نہیں تھا،بلکہ اُس نے مجھے یہ پیغام دیا تھا کہ مَیں بھی مرنے کا ڈرامہ کروں تو میری رہائی کی صورت نکل آئے گی،سو مَیں نے وہی کیا اور مجھے آزادی نصیب ہو گئی،لیکن اس دوران مجھے یہ نصیحت مل گئی کہ کبھی اپنے بڑوں کی نصیحت سے منہ نہیں موڑنا چاہئے ورنہ مصیبت اور پریشانی کے ساتھ کے ساتھ جان بھی جا سکتی ہے“۔ یہ کہہ کر یمنی طوطے نے اڑان بھری اور جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔

مزید : ایڈیشن 1 /صفحہ اول