قانون توسزایافتہ کوباہربھیجنے کااختیار حکومت کو بھی نہیں دیتا،جسٹس علی باقر نجفی کے ریمارکس

قانون توسزایافتہ کوباہربھیجنے کااختیار حکومت کو بھی نہیں دیتا،جسٹس علی ...
قانون توسزایافتہ کوباہربھیجنے کااختیار حکومت کو بھی نہیں دیتا،جسٹس علی باقر نجفی کے ریمارکس

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)نوازشریف کی ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست کے دوران جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون توسزایافتہ کوباہربھیجنے کااختیار حکومت کو بھی نہیں دیتا،عدالت نے ہدایت کی کہ نوازشریف اور شہبازشریف وطن واپس آئیں گے، لکھ کر دیں۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں نوازشریف کی ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی،عدالت نے وکیل امجد پرویز سے استفسارکیا کہ آپ کس طرح کی ضمانت دیں گے،ہمیں ڈرافٹ بنا کر دیں ہم ان الفاظ کو دیکھ لیں گے ، اشراوصاف ایڈووکیٹ نے کہا کہ آرٹیکل 4 کے مطابق کسی شہری پر شرط عائد نہیں کی جا سکتی،جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں یہ معاملہ اتفاق رائے سے طے ہو۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم صرف ایک کاغذ کا بیان حلفی مانگ رہے ہیں،ہم مانتے ہیں کہ نوازشریف واپس آئے،یہ آدھی بات مان چکے تھے بعد میں باہر جا کر بدل گئے،جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ تو باقی آدھی بات آپ مان جاتے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ تحریری بیان حلفی دیں،پھر ہم ہدایات لے لیں گے۔عدالت نے کہا کہ یہ بیان حلفی 3 بار کے وزیراعظم اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے ہوگا، عدالت نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کل رضا مندی کی فضا بن گئی ہے اس کا فائدہ اٹھائیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور