نوازشریف کا بیان حلفی ہائیکورٹ میں جمع، سماعت ڈھائی بجے تک ملتوی

نوازشریف کا بیان حلفی ہائیکورٹ میں جمع، سماعت ڈھائی بجے تک ملتوی
نوازشریف کا بیان حلفی ہائیکورٹ میں جمع، سماعت ڈھائی بجے تک ملتوی

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیراعظم نوازشریف نے ای سی ایل سے نام نکالنے کے حوالے سے بیان حلفی عدالت میں جمع کرادیا،عدالت نے درخواست پر سماعت ڈھائی بجے تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کی ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی،اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،پولیس کی بھاری نفری احاطہ عدالت میں تعیناتی تھی،مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف، پرویز رشید، احسن اقبال،امیر مقام،عظمیٰ بخاری اور دیگررہنما عدالت میں موجود رہے۔

عدالت نے کہا کہ سماعت سے پہلے کچھ سوالات کا جواب جاننا چاہتے ہیں ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ای سی ایل سے نکالنے کیلئے شرائط لگائی جا سکتی ہیں ؟،ضمانت کے بعدایسی شرائط لاگوہوں تو کیا اس سے عدالتی فیصلے کو تقویت ملے گی یا نہیں ؟،عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیاحکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنا چاہتی ہے یا نہیں ؟۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزارادائیگی کے لیے کوئی اور طریقہ ڈھونڈنے کو تیار ہے ؟کیا لگائی گئی شرائط علیحدہ کی جا سکتی ہیں؟کیا کوئی چیز میمورنڈم میں شامل یا نکالی جا سکتی ہے؟ عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا میمورنڈم انسانی بنیادوں پر جاری کیا گیا؟ کیا فریقین اپنے انڈیمنٹی بانڈز میں کمی کر سکتے ہیں؟ کیا فریقین نواز شریف کی واپسی سے متعلق یا کوئی رعایت کی بات کر سکتے ہیں؟۔

حکومتی وکیل نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق نوازشریف کی حالت تشویشناک ہے،ایڈیشنل اے جی نے کہا کہ نوازشریف بیرون ملک علاج کرانا چاہتے ہیں تو کراسکتے ہیں ،بیرون ملک علاج کیلئے نوازشریف عدالت کو مطمئن کریں ۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ جو شرائط بھی عائد کی گئی ہیں وہ عدالت کے ذریعے ہونا چاہیے تھیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ درخواست گزار سے ہدایات لینا چاہتے ہیں؟امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ شہباز شریف کمرہ عدالت میں ہی ہیں، عدالت شہباز شریف سے مشورہ کرنے کیلئے 15 سے 20 منٹ دے دے،عدالت نے سماعت15 منٹ کیلئے ملتوی کردی۔

نوازشریف کی درخواست پر ہائیکورٹ میں سماعت دوبارہ شروع ہوئی ،حکومتی وکیل نے کہا کہ حکومت بھی نوازشریف سے ضمانت ہی مانگ رہی ہے،نوازشریف واپس نہیں آتے توقانون کے مطابق کارروائی ہوسکے گی،عدالت نے کہا کہ چاہتے ہیں معاملہ افہام وتفہیم سے حل ہو۔

نوازشریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نیب کی جانب سے 3ریفرنس دائر کیے گئے ، جس وقت یہ ریفرنس دائرہوئے نوازشریف لندن میں تھے،وکیل نوازشریف نے کہا کہ نواز شریف خود بیرون ملک سے آئے اور گرفتاری دی ،18اپریل 2018 کو وارنٹ جاری ہوئے اور 3 دن بعد خود گرفتاری دی،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نواز شریف ہمیشہ عدالت میں پیش ہوئے اور کبھی دانستہ عدالت سے دور نہیں رہے ،امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ نواز شریف اپنی اہلیہ کو بیماری کی حالت چھوڑ کر پاکستان آئے اور کیسز کا سامنا کیا،نواز شریف عدالتی حکم کا احترام کرتے ہیں اور سزا کاٹ رہے ہیں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ایون فیلڈ کیس میں 8 ملین پاوَنڈ جرمانہ کیا گیا۔

وکیل امجد پرویز نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ علاج کے بعد نواز شریف واپس آئیں گے،ڈاکٹر کی تجویز پر بیرون ملک جائیں گے،میں انڈرٹیکنگ دینے کیلئے تیارہوں،نوازشریف صحتیاب ہونے کے بعدوطن آجائیں گے،عدالت نے استفسارکیا کہ آپ کی انڈرٹیکنگ کاکیاطریقہ کارہے؟عدالت نے استفسار کیا کہ شہبازشریف آپ بتائیں کس طرح کی ضمانت دینے پرتیارہیں؟

شہبازشریف خود روسٹرم پر آگئے ،صدرمسلم لیگ ن شہباز شریف کی بھی عدالت کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ خدانواز شریف کو واپس لائےگا،وہ واپس آئیں گے،عدالت نے شہبازشریف سے استفسار کیا کہ کیانوازشریف واپس آئیں گے؟نوازشریف کو واپس لانے میں آپ کاکیا کردار ہوگا؟شہبازشریف نے کہا کہ میں ان کے ساتھ بیرون ملک جارہا ہوں وہ علاج کے بعد واپس آئیں گے،عدالت نے کہا کہ اگرضمانت پرپورانہیں اتراجاتاتوتوہین عدالت کاقانون موجودہے،نوازشریف کوجانے کی اجازت دے رہے ہیں توشرائط کی کیاضرورت؟نوازشریف اورشہبازشریف سے لکھ کرضمانت لے لیتے ہیں، عدالت نے نوازشریف کی واپسی سے متعلق بیان حلفی مانگ لیا ،عدالت نے کہا کہ بیان حلفی لکھ کردیں،عدالت حتمی فیصلہ کریگی،عدالت نے سماعت دوبارہ 15 منٹ کیلئے ملتوی کر دی۔

مقدمے کی سماعت تیسری مرتبہ شرع ہوئی تونوازشریف کی جانب سے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر مسلم لیگ نون کے رہنما کی جانب سے عدالت میں بیان حلفی کا ڈرافٹ جمع کرادیا،ڈرافٹ ججز چیمبر میں بھجوایاگیاہے،دوصفحات پر مشتمل مسودہ ہاتھ سے لکھا گیاہے،امجد پرویزایڈووکیٹ نے دو صفحات پر مبنی بیان حلفی کاڈرا فٹ عدالت میں جمع کروا دیا۔

ڈرافٹ کے متن میں کہاگیاہے کہ نوازشریف پاکستان کے ڈاکٹرز کی تجویز پر بیرون ملک علاج کیلئے جارہے ہیں۔میاں نواز شریف صحتیاب ہونے اور ڈاکٹرز کی اجازت ملنے کے بعد وطن واپس آجائیں گے اور تمام مقدمات کا سامنا کریں گے۔عدالت نے درخواست پر سماعت ڈھائی بجے تک ملتوی کردی گئی ۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور