وزیراعظم کا استعفیٰ لئے بغیرواپس کیوں آئے؟ اہلیہ کا جے یوآئی ایف کے رہنما کیساتھ ایسا سلوک کہ ہنسی روکنا مشکل

وزیراعظم کا استعفیٰ لئے بغیرواپس کیوں آئے؟ اہلیہ کا جے یوآئی ایف کے رہنما ...
وزیراعظم کا استعفیٰ لئے بغیرواپس کیوں آئے؟ اہلیہ کا جے یوآئی ایف کے رہنما کیساتھ ایسا سلوک کہ ہنسی روکنا مشکل

  



رحیم یار خان (ویب ڈیسک)وزیراعظم کا استعفیٰ لئے بغیرآزادی مارچ سے واپس آنے پرجے یو آئی ف کے رہنما کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی پٹائی کر ڈالی۔

روزنامہ جنگ کے مطابق رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے مولوی فضل الدین نے پولیس سے اس کی اہلیہ کیخلاف قانونی کاروائی کرنے کی اپیل کر دی۔اس کاکہناتھاکہ اہلیہ نے اسے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک تو تم اتنے دنوں تک گھروں سے باہر رہے اور پھر وزیراعظم کو استعفیٰ بھی لے کر نہیں آئے۔

یادرہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف کراچی سے آزادی مارچ شروع کیا تھا جو چوتھے دن یعنی یکم نومبرکو اسلام آباد میں داخل ہوا اور دھرنے کی شکل اختیار کرگیا، مولانا فضل الرحمان کے دھرنےکا سب سے اہم مطالبہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ تھا ، حکومت اور اپوزیشن کے دھرنا شرکا کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے، حکومت وزیراعظم کے استعفے کے بارے میں بات بھی سننے پرتیار نہ تھی جبکہ مولانا فضل الرحمان بھی اسی نقطے پر ڈٹے رہے اور بالآخر تین دن قبل مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں دھرنا ختم کرکے پورے ملک میں احتجاج اور دھرنے کی ہدایت پر مبنی اعلان کردیا جس کے بعد کارکنان اسلام آباد کے داخلی مقام پشاور موڑ سے اپنے اپنے علاقوں کو رخصت ہوگئے ۔ 

ادھر مذاکرات کے حتمی رائونڈ میں شامل سپیکر پنجاب اسمبلی اور تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویزالٰہی نے انکشاف کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے معاملات طے ہونے کے بعد اسلام آباد کا دھرنا ختم کیا۔جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں میزبان سلیم صافی نے پرویز الٰہی سے سوال کیا کہ ’مولانا نے کہا تھا کہ یا تو وزیراعظم استعفیٰ دیں یا پھر استعفیٰ کے وزن کے برابر اگر کوئی چیز آجائے تو وہ بھی قبول ہے، یہ استعفے جیسی چیز کیا ہے؟‘اس کے جواب میں پرویز الٰہی نے مسکرا کر جواب دیا کہ مولانا نے ’انڈر اسٹینڈنگ‘ کے تحت اسلام آباد مارچ ختم کیا، معاملات طے ہونے کے بعد مولانا اسلام آباد سے روانہ ہوئے۔پرویز الٰہی نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو ہم نے جو دے کر بھیجا وہ ’امانت‘ ہے۔

ادھرجے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ تمام صوبوں کو ملانے والی شاہراہیں اور شاہراہ ریشم بند ہے۔ اے آروائی نیوز کے مارننگ پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئےانہوں نے  کہا کہ پلان بی احتجاج کا دوسرا مرحلہ ہے جو جاری ہے، تمام صوبوں کو ملانے والی شاہراہیں اور شاہراہ ریشم بند ہے۔حافظ حمد اللہ نے کہا کہ وزیراعظم کے مستعفی ہونے کے مطالبے پر قائم ہیں، حکومت کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہ پیپلز پارٹی، ن لیگ اور جے یو آئی کے اہداف یکساں ہیں سب ناجائز حکومت سے نجات چاہتے ہیں مگر ان کا حکومت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا طریقہ کار شاید الگ ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ 13 نومبر کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں 14 روز سے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آگے کا لائحہ عمل یہ ہوگا کہ کارکن شہروں میں نہ بیٹھیں تاکہ لوگ پریشان نہ ہوں، اگلے دھرنے شہروں کے اندر نہیں قومی شاہراہوں پر ہوں گے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /رحیم یارخان