نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست، دوران سماعت عدالت نے ایسی بات کہہ دی کہ کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے

نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست، دوران سماعت عدالت نے ایسی بات ...
نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست، دوران سماعت عدالت نے ایسی بات کہہ دی کہ کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)نوازشریف کا نام ای سی ایل سے غیر مشروط طورپر نکالے جانے کی درخواست پر سماعت کے دوران کچھ دلچسپ جملوں کاتبادلہ بھی ہوا۔دوران سماعت عدالت نے کہا اگرنوازشریف برگر شاپ میں نظر آئے یا پھر شاپنگ کرتے پھر رہے ہیں توکیا سرکاری وکیل  کہیں گے کہ وہ ٹھیک ہوگئے ہیں اور درخواست دائر کردیں گے۔ جس پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہااسحاق ڈار بھی طبی بنیادوں پرباہرہیں لیکن وہ بھی گھومتے پھرتے نظرآتے ہیں۔

بعدازاں نوازشریف کا نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر حکومت اور نون لیگ کے ڈرافٹس پر اتفاق نہ ہوسکا،جس کے بعد ہائیکورٹ نے قراردیاہے کہ وہ دونوں ڈرافٹس کا جائزہ لے کر بیان حلفی کا مسودہ خود تیارکرے گی۔ان ریمارکس کے بعد عدالت نے سماعت تیسری بارکچھ دیر کیلئے ملتوی کردی۔

دوران سماعت ایڈیشنل جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کو عدالت نے ایک مدت تک ضمانت دی ہے،نومبرکی پچیس تاریخ کوانہیں دوبارہ عدالت کے سامنے پیش ہونا ہے اگر وہ نہ آئے تو کیاہوگا؟ اسی لئے ان کو انڈیمنٹی بانڈ جمع کرانے کا پابند کیاگیاجبکہ بیان حلفی میں رقم سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہابیان حلفی میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نوازشریف کب واپس آئیں گے ،نواز شریف ٹائم فریم بتائیں کہ کب جائیں گے اور کب واپس آئیں گے۔اگر مخالف فریق انڈرٹیکنگ پر اعتراض دور کردیں پھر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

دوسری جانب عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بیان حلفی مناسب لگ رہاہے۔جسٹس باقر علی نجفی نے کہا سرکاری وکیل کے اٹھائے گئے قانونی پہلوو¿ں پروہ کیا کہتے ہیں جس پر وکیل نے کہا کہ جرمانے کی رقم بھردیں گے۔شہباز شریف کے ڈرافٹ میں لکھے گئے لفظ ’سہولت کاری‘ کو’ یقینی ‘بنایاجائے گامیں بدل دیں ۔جس پر شہبازشریف کے وکیل نے کہا کہ لفظ کو ٹھیک کردیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ شہبازشریف یہ لکھ کر دیں کہ صحتیاب ہونے کے بعد بھی اگر نوازشریف واپس نہیں آتے تو کیا ہوگا؟سرکاری وکیل نے کہااگر نوازشریف واپس نہ آئے تو کیا وہ جرمانے کی فیس اداکریں گے۔؟دوران سماعت حکومتی وکیل نے بھی اپنا ڈرافٹ جمع کرایا جسے شہبازشریف کے وکیل نے مستردکردیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس