نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر اٹارنی جنرل کا موقف بھی سامنے آگیا

نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر اٹارنی ...
نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر اٹارنی جنرل کا موقف بھی سامنے آگیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے کہا ہے کہ نیب قانون میں واضح سزا کو معطل اور ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ نوازشریف سزایافتہ ہیں، ان پر 7 ارب جرمانہ ہوا، سابق وزیراعظم کی سزا اورجرمانے کا فیصلہ برقرارہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس میں لیگل ایشوبہت کروشل ہیں، نوازشریف کوجرمانے والا فیصلہ ابھی برقرارہیں۔ نوازشریف کو ایک کیس میں 7 ارب روپے کا جرمانہ ہوا ہے۔اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ تحریری فیصلہ آنے تک ایپل سے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتے، فیصلے کو وزارت داخلہ میں پیش کیا جائے گا۔

انور منصور خان نے کہا کہ ہمارا موقف آج بھی وہی ہے، عدالت کوئی نہ کوئی قدغن ضرورلگاتی، عدالت نے چار ہفتے کے لیے قدغن لگائی، عدالت نے 5 سوالات رکھ دیئے ہیں، عدالت نے ابھی شیورٹی بانڈ پرفیصلہ نہیں دیا مطلب جنوری میں فیصلہ کیا جائے گا، حکومتی موقف کوعدالت نے ابھی رد نہیں کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ زر ضمانت شریف خاندان کا گزشتہ ریکارڈ سامنے رکھتے ہوئے مانگا گیا، خاندان کا ماضی ہے کہ معاہدہ کر کے مکر گئے، افسوس ہے کہ شیورٹی بانڈ پر واویلا کیا گیا، وزیراعظم کی کردا ر کشی افسوسناک ہے۔فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نےانسانی ہمدردی کی بنیاد پر فیصلہ کیا، افسوس وزیراعظم کے فیصلے کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا، ہمدردیاں سمیٹنے کیلئے حکومت کیخلاف سازش کی گئی، ہمیں نوازشریف کی صحت بہت عزیزہے، مسلم لیگ (ن) کا منفی رویہ قابل افسوس ہے۔

مزید : قومی