بے سمت سفر

بے سمت سفر
بے سمت سفر

  

شاندار ابتدا شاندار اختتام کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔پہلا قدم صیح سمت اٹھ جائے تو آخری قدم منزل پرجا کر رکتا ہے۔پہلا قدم ہی اگر غلط سمت اٹھ جائے تو عمر بھر کا سفر رائیگاں ہی جاتا ہے۔ دیوانوں کی تو خیر ہے ان کی اپنی زندگی ہوتی ہے ان کا پچھتا وا بھی فخر کا باعث ہوتا ہے لیکن راہنما کے ساتھ قوم کو بھی غلط سفر کا  تاوان ادا کرنا پڑتاہے۔17   اگست  2018ء  ایک تاریخی دن تھا۔بائیس سالہ جدوجہد کے بعد عمران خان وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئے۔  وزیراعظم عمران خان کا پارلیمنٹ سے پہلا خطاب سننے کے لئے کروڑوں لوگ ایک امید لئے ٹیلی ویثرن سکرین پرنظریں جمائے بیٹھے تھے کہ کپتان اپنی پہلی تاریخی تقریر میں قوم کو اگلے پانچ سال کے اہداف اور ان کے حصول کی منصوبہ بندی سے آگاہ کرے گا۔معاشی بدحالی، تھانہ و پٹوار کلچرکا فرسودہ نظام، عدالتی اصلاحات اور تعلیمی پالیسی کے لئے انقلابی اقدامات سننے کے لئے لوگ بے قرار تھے لیکن خان اپنے پہلے خطاب میں ہیرو سے ولن کے روپ میں آگیا۔ایک فاتح کی بجائے ایک انتقام پسند شخص کے روپ میں دھاڑنے لگا۔۔۔”نہیں چھوڑوں گا، سب کو جیلوں میں ڈالوں گا۔“ پہلی تقریر کا حرف آغاز انتقام تھا اور آخر بھی انتقام پر ختم۔۔عجب جنون ہے یہ انتقام کا جذبہ بھی انسان دشمنی  نبھاتے نبھاتے خود کو ضائع کردیتا ہے۔کپتان کا اپوزیشن سے انتقام لینے کا جذبہ خود کپتان اور پاکستان تحریک انصاف کو کہاں سے کہاں لے آیا۔کپتان اپوزیشن سے انتقام لیتے لیتے قوم سے انتقام لینے لگا جس کا نتیجہ اس کی اپنی ساکھ کو بری طرح متاثر کرگیا اور اب  ہر جگہ سب سے بڑا سوال اس کی بطور وزیراعظم اپنی انتظامی اہلیت کا زیرباعث ہے۔

خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے

میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا

تبدیلی ایک بڑا کارنامہ تھا،بہت بڑا، ہر پاکستانی کی خواہش تھی کہ یہاں معاشی،تعلیمی، عدالتی، تھانہ وپٹوار کلچر میں انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں۔بڑا کارنامہ رقم کرنے کے لئے محنت و ریاضت کے ساتھ ساتھ  بڑے ظرف کی ضرورت ہوتی ہے  تنگ نظری اورتعصب بڑے کارنامے کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔کپتان نے خود ایک غلط رستے کا انتخاب کیا۔کپتان کی ٹیم دیکھیں  اور مختلف سکینڈلز کی رپورٹوں کا جائزہ لیں تو میرکارواں کے ساتھ ہی راہزن ہیں جو کاروان کو راستے میں  ہی لوٹ لیں اور کبھی بھی منزل پر نہ پہنچنے دیں۔

کیسے  نہ اس کا سارا سفر رائیگاں رہے

جس کاروانِ شوق کی ہے راہگزر دھند

قوم ایک بار پھر خوشحالی کے خواب کی تعبیر سے کئی سال دور چلی گئی۔روٹی کپڑاور مکان، قرض اتارو ملک سنوارو، کرپشن کا خاتمہ اور تبدیلی کا چکمہ۔۔کیسی زندہ دل قوم ہے ہر بارلُٹتی ہے اور پھر سے امید باندھ لیتی ہے۔اتنی بارلٹی ہے کہ اس کی حالت دیکھ کر قدیم دہلی کے باشندوں کی یاد تازہ ہوگئی۔دہلی کوشمال و مغرب میں افغانستان و ایران کے ہر بادشاہ نے شوق اقتدار میں تہہ و تیغ کیا۔ہر بار اجڑا برباد ہوا اور عوام مفتوح ہوتے رہے۔ہر نیا حکمران انہیں بہتر مستقبل کی نوید سنا کر اپنی اطاعت کا پابند بناتا رہا کہ لوگوں کا حکمرانوں سے اعتبار ہی اٹھ گیا۔مغلوں، نادر شاہ،احمد شاہ ابدالی،سکھ،جاٹ اور مرہٹہ حملہ آوروں نے ایک کے بعد ایک حملے کئے شہرکی اشرافیہ اپنا وقار کھو چکی لوگوں نے ہجرت کرکے دوسرے علاقوں میں پناہ لی۔میر تقی میر لکھنو پہنچے تو وہاں کے شعرا نے دہلی کا حال پوچھا جسے میرنے غم میں ڈوب کریوں بیان کیا۔

دلی جو ایک شہر تھا عالم  میں انتخاب  ،    رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگا ر کے

 اس کو فلک نے لُوٹ کر ویران کر دیا  ،   ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

پاکستانیوں کی حالت بھی اس وقت قدیم دلی کے باشندوں جیسی ہے۔اتنی بار لُٹے ہیں کہ اعتبار ٹوٹ گیا۔ایک اجاڑتا ہے دوسرا سنوارنے آجاتا ہے اور پہلے سے زیادہ بگاڑ جاتا ہے۔پاکستانی روپیہ 2001ء میں 56.18 پر ڈالر تھا آج 175.6 ہے۔یہی حال بیرونی قرضوں کا ہے لیکن ہماری تقدیر بدلنے والے سارے حکمرانوں کی تقدیر بدل گئی جبکہ قوم اپنی تقدیر پر نوحہ کناں ہے۔عمران خان سے قوم کو بڑی امیدیں تھیں کہ اسے بطور اپوزیشن لیڈر قوم کا درد بہت بے چین رکھتا تھا۔مہنگائی کے ستائے عوام کا دکھ بھی اسے باقیوں سے زیادہ ہوتا۔ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے اور پٹرول کی بڑھتی قیمتیوں سے عوام پر پڑنے والے بوجھ پر یہ عوام کے ساتھ کھڑا ہوکر ان کی آواز بن جاتا تھا لیکن اقتدار میں آکے یہ بھی حکمران ہی بن گیا۔اقتدار کا اپنا نشہ ہے۔اقتدار جب ضرورت بن جائے تو آنکھوں کے آگے حکمرانی کا پردہ آجاتا ہے۔عوام انسانوں کی بجائے کیڑے مکوڑے نظر آنے لگتے ہیں۔ان کی تکالیف، دکھ اور زخم خوردہ ہوکر تڑپنا کسی شکاری کی طرح شکار کئے جانور کے تڑپنے جیسا  لطف دینے لگتے ہیں۔رعایا تکلیف میں ہو اور حکمران مطمن اس سے بڑا غافل کوئی ہو سکتا ہے۔

آج تین سال بعد اگر جائزہ لیں تو کپتان کا ہر فیصلہ بغیر منصوبہ بندی  اور مشاورت سے کیا گیا دکھائی دے رہا ہے۔کے پی کے میں پرویز خٹک کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے کپتان کو وہاں دو تہائی اکثریت ملی لیکن خان نے اسے بدل کر ایک نیا وزیراعلٰی لگا دیا جسے ابھی تک سمجھ نہیں آرہی کہ حکومت کیسے اور کہاں سے کام کا آغاز کرے گی۔پنجاب کو پاکستان تحریک انصاف کے سنئیر ترین  اور متحرک بندے کی ضرورت تھی۔محمود الرشید یا علیم خان بہترین انتخاب ہوتے  یہاں بھی سنگین غلطی کی گئی اور یہیں سے صاف پتہ چلا کہ کپتان کی حکومت میں آنے سے پہلے کسی قسم کی کوئی منصوبہ بندی نہ تھی۔پنجاب جیسا سب سے بڑا صوبہ جو مرکزمیں حکومت بنانے کے لئے مرکزی کردار ادا کرتا ہے اسے بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا اور آج حال یہ ہے کہ کرپشن کے خلاف نعرہ لگا کر آنے والی جماعت کی حکومت میں کرپشن کے بغیر کام کرانا ناممکن ہے۔نظام میں تبدیلی پر عمل اتنا ہوا ہے کہ کرپشن کا ریٹ تبدیل ہو گیا ہے۔پہلے جہاں پانچ سو سے تھانے پٹوار میں کام ہوتا تھا اب دو تین گنا بڑھ گیا ہے۔

ان سب کے باوجود خان صاحب کے سارے فیصلے اور بری کارکردگی دب سکتی تھی اگر مضبوط معاشی پالیسی ہی بنا لی جاتی اور عوام کو مہنگائی کے عذاب سے بچایا جاتا لیکن یہاں بھی بس باتیں ہی سننے کو ملیں۔خان صاحب کی ناکامیوں کااگرمختصر جائزہ لیا جائے تو اس کا سبب  پہلے سے ایک مضبوط اور باصلاحیت ٹیم کا نہ ہونا ہے اور ٹیم نہ ہونے کی وجہ سے کسی قسم کی پیشیگی منصوبہ بندی اور بحرانوں سے نمٹنے کا کوئی حل ان کے پاس نہیں ہے بس ایک کے بعد ایک ناکام تجربہ اور محکموں کے قلمدانوں کی تبدیلیاں جو صاف ظاہر کر رہی ہیں کہ باصلاحیت ٹیم کا انتخاب پہلے سے نہ کیا گیا بس پسند نہ پسند اور مجبوریوں کی وجہ محکموں کی بندر بانٹ کی گئی  اور حکومت چلانے کو گیارہ کھلاڑیوں کی ٹیم چلانے سے بھی کم اہمیت دی گئی جبکہ مخالف ٹیموں کے کھلاڑیوں کوٹیکنکلل ناک آؤٹ کے باوجود سست،کاہل اور نا اہل کھلاڑی کارکردگی دکھانے میں بری طرح ناکام ہو رہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -