ہنستے مسکراتے حمید اختر

ہنستے مسکراتے حمید اختر
ہنستے مسکراتے حمید اختر

  

حمید اختر کی84ویں سالگرہ کی تقریب ”سیفما“ لاہور کے زیر اہتمام برپا تھی، لاہور بھر کے تمام ترقی پسند ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، صحافیوں ، سیاسی کارکنوں اور ٹریڈ یونین لیڈروں سے ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ مقررین اپنے اپنے مختصر خطاب میں جناب حمید اخترکی حیات و خدمات، خصوصاً سیاست و صحافت اور انجمن ترقی پسند مصنفین و کمیونسٹ پارٹی کے حوالے سے اُن کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کر رہے تھے۔ اس امر کا بھی بار بار تقریباً ہر مقرر ذکر کر رہا تھا کہ حمید اختر اس بڑھاپے میں بھی روٹی روزی کمانے کے لئے مسلسل کام اور کالم نویسی کر رہے ہیں۔ جب مقررین کی طرف سے حمید اختر کے بڑھاپے، بزرگی اور ضعیفی کا تذکرہ کچھ زیادہ ہی ہو گیا تو ہال کی پچھلی نشستوں سے بہت ہی شستہ اور شائستہ لہجے میں ایک آواز اُبھری: ....”جناب والا! پوائنٹ آف آرڈر“.... تقریباً سبھی نے پیچھے گردنیں گھما کر دیکھا۔ ٹیلی ویژن کے سینئر آرٹسٹ زبیر بلوچ اپنی نشست سے کھڑے ہو کر کچھ کہنے کے لئے بے تاب نظر آئے۔

پروگرام کے کمپیئر یا میزبان اعزاز احمد آذر نے سٹیج پر موجود مقرر سے چند ثانیوں کے لئے توقف کی درخواست کرتے ہوئے زبیر بلوچ صاحب کو بات کرنے کی دعوت.... گفتگو کی اجازت ملنے پر وہ یوں گویا ہوئے: ”جناب والا! تقریباً ہر مقرر نے اپنی گفتگو میں بار بار ان (حمید اختر صاحب) کے بڑھاپے اور بزرگی کا ذکرکیا ہے، جبکہ ابھی اُن کی عمر صرف84سال ہے۔ زبیر بلوچ نے مزید کہا کہ پچھلے دنوں ایک طویل میراتھن ریس ہوئی، جسے ایک115سالہ سکھ، سردار نے جیتا۔ جب ریس جیتنے کے بعد اس کا انٹرویو نشر ہوا تو اس نے 115سال کا ہونے کے باوجود ایک بار بھی اپنے بڑھاپے، بزرگی یا ضعیفی کا ذکر تک نہ کیا“.... اس پر مَیں نے برجستہ با آواز بلند کہا ” وہ بے چارہ تو سکھ سردار تھا ، اسے تو پتہ ہی نہیں چلا ہو گا کہ وہ 115سال کا ہو گیا ہے“۔میرے ان ریمارکس پر ہال میں ایک فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا۔ لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ خود سٹیج پر بیٹھے جناب حمید اختر بھی ہنستے ہنستے دہرے ہو گئے اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے اس برجستہ اور بے ساختہ لطیف جملے کی داد دی۔

 حمید اخترکی یہ داد بلاشبہ میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہ تھی، مگر یہ داد اور میرے جملے پر اُن کا قہقہہ دراصل اُن کی شگفتہ مزاجی، بذلہ سنجی اور ہنس مکھ طبیعت کا آئینہ دار تھا۔ جناب حمید اختر بلاشبہ ایک کھلے دل، کھلے ذہن اور کھلے مزاج کے ایک کھلے ڈھلے انسان تھے۔ مایوسی، پژمردگی، اور یبوست ان سے چھو کر بھی نہیں گزری تھی، اُن کی تحریریں، خصوصاً کالم اور یاد داشتیں اُن کی زندگی اور بیتے دنوں کی عکسی تصویریں ہیں، وہ جیسے تھے، ویسا ہی اظہار اپنی تحریروں میں کرتے تھے۔ حمید اختر کی یاد داشت بہت اچھی تھی اور انداز بیاں بہت دلفریب تھا، کسی واقعے کو بیان کرتے ہوئے وہ اپنے قاری کو اس کیفیت میں لے جاتے،جو اِس واقعہ کے ظہور کے وقت اُن کی اپنی کیفیت ہوتی۔

ایک روز بتانے لگے کہ وہ اپنے ایک دوست کے ہاں جب بھی جاتے، وہ یہ تذکرہ لے بیٹھتا کہ اُن کا ملازم کھانا یا چائے بناتے اور مہمانوں کو پیش کرتے ہوئے برتن بہت توڑتا ہے۔ کہنے لگے، ایک روز ہم اپنے اسی دوست کے گھر بیٹھے تھے اور وہ اپنے ملازم کی ”برتن توڑ“ کارروائیوں کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اتنے میں باورچی خانے سے برتن گرنے کی آواز آئی۔ میرے دوست نے بات ادھوری چھوڑ کر بآواز بلند وہیں سے بیٹھے بیٹھے ملازم کو آواز دے کر پوچھا:” اوے اَج کی توڑیا ای؟“ (ارے! آج کیا توڑا ہے).... ملازم نے وہیں سے جواب دیا: ”برتن گرا تھا مگر سر جی! ٹوٹا کچھ نہیں“۔ حمید اختر کہنے لگے، اس پر میرے دوست نے برجستہ کہا: ”برتن نئیں ٹُٹا، پر ریکارڈ تے ٹٹ گیا اے ناں“ (برتن نہیں ٹوٹا پر ریکارڈ تو ٹوٹ گیا ہے ناں)

 حمید اخترصاحب بلاشبہ ادب، سیاست، صحافت کی چلتی پھرتی تاریخ اور انسائیکلو پیڈیا تھے۔ مَیں پہلی بار اُن سے اس وقت ملا، جب مَیں ایم اے او کالج لاہور میں ایف اے کا طالب علم تھا اور وہ جناب عبداللہ ملک اور آئی اے رحمن و دیگر ساتھیوں کے ساتھ پی پی ایل کی احتجاجی تحریک چلا رہے تھے، غالباً یہ1972ءتھا اس دوران ان لوگوں نے بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگایا، جہاں مَیں بھی رضاکارانہ طور پر اس احتجاج میں شامل ہوا اور جناب حفیظ کاردار، احمد رضا قصوری، مختار رانا مرحوم کے ہمراہ بھوک ہڑتالی کیمپ کا حصہ بنا، فی الوقت یہ سنجیدہ معاملات میرا موضوع نہیں، مَیں صرف حمید اختر کے شگفتہ اور دلچسپ واقعات آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ آپ اُن کی اسیری کی داستان ”کال کو ٹھڑی“ کا مطالعہ کرب و تلخ،کڑے اور جبر کے حالات میں بھی مردانہ وار کھڑے اور ہنستے مسکراتے نظر آنے کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

احمد ندیم قاسمی کے ساتھ اُن کی دوستی، محبت اور تعلق مثالی تھا۔ ایک روز اپنی اور اُن کی داستان اسیری کے حوالے سے یکے بعد دیگرے اتنے دلچسپ اور یادگار واقعات سنائے کہ ہمیں اس عہد کی تاریخ اور حالات و واقعات کی خوب تفہیم ہوئی، مگر یہ سب کچھ پھر کسی اور وقت کے لئے چھوڑتے ہیں اور جیل کے دنوں کے حوالے سے اُن کا بیان کردہ جناب احمد دیم قاسمی کا یہ دلچسپ واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔

احمد ندیم قاسمی انجمن ترقی پسند مصنفین کے پلیٹ فارم پر سرگرم عمل تھے۔ حکومت وقت کے نقطہ ¿ نظر سے یہ سرگرمیاں وطن دشمنی پر مبنی تھیں، چنانچہ انہیں گرفتار کر لیا گیا، جب آپ کو جیل لے جایا گیا تو سپرنٹنڈنٹ جیل نے انہیں بند کرنے سے پہلے اُن کا سارا سامان نوٹ بک، کتابیں، قلم، مسہری اور اس کے بانس وغیرہ اپنے دفتر میں رکھوا لئے اور انہیں اندر لے جانے کی اجازت نہ دی، قاسمی صاحب نے اس پر احتجاج کیا تو جیل کے انچارج افسر نے تحکمانہ انداز میں کہا کہ اوپر سے حکم ہے کہ آپ کی یہ سب چیزیں ادھر میرے پاس رہیں گی۔ آپ انہیں اندر نہیں لے جا سکتے، مگر قاسمی صاحب یہ سب اشیاءلازماً ہمراہ لے جانے پر مصر تھے، انہیں متذکرہ افسر کا تحکمانہ انداز تخاطب اچھا نہ لگا، اِس لئے قاسمی صاحب متذکرہ افسر سے کہنے لگے، آپ بے شک یہ چیزیں اپنے پاس رکھ لیں، مگر مجھے اُن کی رسید دے دیں۔ اس پر متذکرہ افسر نے قاسمی صاحب کو یقین دلایا کہ آپ کی یہ سب اشیاءمیری ذاتی تحویل میں رہیں گی، لہٰذا آپ کو اِن کے بارے میں متفکر ہونے کی ضرورت نہیں، چنانچہ بات آئی گئی ہو گئی، تاہم کچھ روز بعد جب پابندیاں ذرا نرم ہوئیں تو قاسمی صاحب نے متذکرہ افسر کو ایک منظوم رقعہ لکھا کہ اُن کی وہ اشیاءواپس کر دی جائیں، رقعے کا پہلا شعر تھا:

مَیں نے دیئے تھے آپ کی تحویل خاص میں

اک نوٹ بک کے ساتھ مسہری کے چار بانس

جناب حمید اختر کی یاد داشتوں میں ایسے بے شمار دلچسپ اور مزے مزے کے واقعات محفوظ تھے جو وہ حسب موقع دوست، احباب اور اپنے ہم جیسے نیاز مندوں اور مداحوں کو سنا کر محظوظ کیا کرتے تھے۔ بلاشبہ اُن کی طبیعت کا یہ رنگ و انداز اُن کی ہمہ جہت اور ہفت رنگ شخصیت کا ایک پہلو تھا۔

دہر میں انتخاب تھا وہ شخص

آپ اپنا جواب تھا وہ شخص

حمید اختر اپنی تحریروں اور اپنے مثالی کردار کے باعث ہمارے دلوں اور ذہنوں میں موجود رہیں گے، مگر رضی اختر شوق کے لفظوں میں:

نقش پا کچھ رفتگاں کے خاک پر محفوظ ہیں

یہ نشانی دیکھ سکتے ہیں اُٹھا سکتے نہیں

اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرمائے (آمین)

مزید :

کالم -