مصطفےٰ زیدی کی غزل کا منفرد اسلوب (2)

مصطفےٰ زیدی کی غزل کا منفرد اسلوب (2)
مصطفےٰ زیدی کی غزل کا منفرد اسلوب (2)

  



اُنہوں نے اُردو غزل کو منفرد تشبیہیں،استعارے اور علامتیں دی ہیں۔اُنہیں لفظوں کی صحیح نشست کا ملکہ حاصل تھا۔وہ لفظوں کے مروجہ مفہوم کے سامنے سپر ڈالنے کی بجائے اُن کو نئے معنی سے آراستہ کرتے تھے۔احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں:”قبائے ساز اور اِس سے پہلے کے مجموعوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بے شمار ایسے الفاظ ہیں جو زیدی کی نظموں اور غزلوں میں جگہ پاکر غیر معمولی طور پر چمک اُٹھے ہیں۔پھر یہ الفاظ جو بیشتر شاعروں کیلئے نظم وغزل کی تعمیر میں اینٹ پتھر کا کام دیتے ہیں، مصطفی زیدی کے ہاں باقاعدہ گونجنے لگتے ہیں“۔مصطفی زیدی کی غزل اپنے موضوعات اور اسلوب کے حوالے سے منفرد ہے۔یہ انفرادیت اُسے زندہ رکھنے کیلئے کافی ہے۔ مصطفی زیدی بحیثیت مجموعی نظم کے شاعر ہیں۔ اُنہوں نے پابند نظم سے معرا اور آزاد نظم کے ارتقائی دور میں نظم گوئی کی ابتدا کی ۔اُس دور میں تصدق حسین خالد، ن ۔م۔راشد اور میرا جی آزاد نظم کے سفر کو بہت آگے لے جارہے تھے۔ن۔م۔راشد نے آزاد نظم کو اُردو میں اِس قدر مقبول کیا کہ وہ اُردو میں آزاد نظم کے بانی تصور کئے جانے لگے۔1947ءسے پہلے آزاد نظم کہنے والوں میں محمد دین تاثیر، احمد ندیم قاسمی، مخدوم محی الدین، شریف کنجاہی،سلام مچھلی شہری، عظیم قریشی،وشوامتر عادل، راجہ مہدی علی خان،انجم رومانی، عزیز حامد مدنی، الطاف گوہر اور عزیز احمد وغیرہ شامل ہیں۔مصطفی زیدی نے اِسی شعری تناظر میں تخلیقی سفر کا آغاز کیا۔اُن کی نظموں کے موضوعات میں احساس تنہائی، بغاوت، رجائیت،درد مندی،ناسٹلجیا، شکست،پامالی اقدار،جسم وجنس، لمس،منافقت سے نفرت، رہنماﺅں کی بے راہ روی وغیرہ خاص ہیں۔

رومانویت اُن کا خاص چلن ہے،مگر وہ اختر شیرانی کی طرح کے رومانوی شاعر نہیں ہیں۔اُن کی رومانویت میں تجربے کی ایسی چاشنی ہے جو اُن کے ہم عصروں میں اِس طرح سے نہیں ہے کہ قاری کو بھی اِس چاشنی کی لذت سے بہرہ ور کردے۔مصطفی زیدی کی اولین نظموں سے لے کر”کو ہ ندا“ کی نظموں تک رومانویت نے ٹھوس تجربے سے استعارے اور علامت تک کے سفر کئے ہیں۔اِس رومانویت نے جمال پسندی کے خوب جوہر دکھائے ہیں۔اُن کی جمال پسندی کا ایک اہم عنصر نفاست پسندی ہے۔کہیں پر نفاست اور جمال پسندی سفید پھولوں کی بارش برساتی ہے۔ کہیں فضاﺅں میں انگڑائیوں کے مناظر بکھیر دیتی ہے، کہیں تھرتھراتا ہوا سیماب بن جاتی ہے ،کہیں سانسوں کی مہک، آتشیں رُخ کی نمی، شبنمی ہونٹوں کی دہک، سِمساتے ہوئے سینے کا خروش بن جاتی ہے۔اِس رومانویت نے جمال کے پیکروں کو کسی ایک نام، لفظ یا Signifire کا محتاج نہیںرہنے دیا۔ رومان اور جمال پسندی نے نفاست اور لذت کے کئی عنوان پیدا کردئیے ہیں۔ ایکSignifire کے کئیSignifieds ہوگئے ہیں۔ کبھی محبوب آتشِ تبسم ہوگیا۔کبھی آتشِ جمال،کبھی ستارہ اور کبھی سفر کا رہنما ہوگیا۔

مصطفی زیدی کی اِس حسی شائستگی کے بارے میں محمد علی صدیقی لکھتے ہیں:”مصطفی زیدی کے یہاں حسی شائستگی (Sensuous refinement) فراق اور فیض کے دھیمی آنچ والے لہجے کی طرف لے جاتی ہے“”کوہ ندا“ تک آتے آتے مصطفی زیدی کے یہاں فیض کا انداز جوش کے اثر پر حاوی ہوگیا تھا۔مصطفی زیدی کی انفرادیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بیسویں صدی میں جب عشق اور رومان کے موضوع کو متاثر اور اُس دور میں محبوب کی روایتی مقناطیسی قوت ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو عاشق،غم روزگار پر زندگی کی اہم ترین جبلت کو نثار کرنے پر تیار ہوگیا....لیکن مصطفی زیدی نے اِس جبر کو قبول نہیں کیا اور اپنے جمالیاتی احساس کو مقصد کی قربان گاہ کی بھینٹ نہیں چڑھایا۔

مصطفی زیدی کی غیر روایتی سچائی بھی اُن کی انفرادیت کی وجہ بنی۔وہ روایتی تصورِ محبت کے قائل نہیں تھے اور یہ بغاوت بڑھتے بڑھتے جسم وجنس تک جاپہنچی۔شہر لندن میں ایک طرف صنم خانے ہیں تو دوسری طرف محبوب کی یاد اور کبھی تو برملا کہتے ہیں کہ زندگی جسم کی خواہش کے سوا کچھ بھی نہیں۔ مصطفی زیدی کے فن میں رومانویت سے حقیقت اور حقیقت سے انسانیت تک کے سفر میں جو وسعت اور آفاقی قدریں پید ا ہوئی ہیں، اُنہوں نے اُن کی شاعری کو بڑائی اور عظمت سے ہمکنار کیا ہے۔اُن کے یہاں کیفیتوں کے ذکر میں آفت زدہ شہروں کی دہشت اور آسیبی فضا بعض اوقات منیر نیازی کی یاد دلاتے ہیں۔ خاص طور پر جب وہ اپنے عہد کے مسائل اور مصائب کی خوفناک صورت حال سے سہم جاتے ہیں تو یہ خوف اورپریشانی اُنہیں منیر نیازی کی طرح دہشت زدہ کردیتی ہے۔اُنہوں نے ایسے مقامات پر الفاظ کو نئے معنوی حوالوں سے استعمال کیا ہے۔

مصطفی زیدی کی نظموں میں آہنگ بھی منفرد عناصر سے ترتیب پاتا ہے۔وہ لفظ کی تخیلاتی اور جمالیاتی سطحوں کا بہترین استعمال کرتے ہیں۔مجید امجد لکھتے ہیں:”مصطفی زیدی کا لہجہ ایک رقصندہ وجنہدہ انداز نگارش سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ یہاں نرم اور شفاف سطور کا رقص اور الفاظ کی واضح طور پر کھنکتی ہوئی آواز، نغمہ انداز قافیوں کی موسیقیاں لئے اظہار کی منزلیں طے کرتی ہے۔اِن سطور کی ہیئت کسی ترتیب کے تحت جمع ہوکر سامنے نہیں آتی،بلکہ مضمون کے تقاضوں کے تحت ڈھلتی بدلتی رہتی ہے....اِس لہجے کی برجستگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ لہجہ مرعوب نہیں کرتا ،بلکہ دلوں میں ہمدردیاں جگاتا ہے ،اپنی طرف بلاتا ہے۔اپنے خلوص کی طرف“۔ پسندیدگی کے اعتبار سے مصطفی زیدی خوش قسمت شاعر ہیں کہ نوجوان نسل کے علاوہ بھی عوام وخواص کے پسندیدہ شاعر ہیں۔اُن کے یہاں موضوعات کا خاصا تنوع ہے۔رومانویت کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل، ہجرت فسادات وغیرہ بھی اُن کے موضوعات رہے اور یہ خیالی اور ہنگامی موضوعات نہیں ہیں۔سو اُن کا کلام وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پس منظر میں چلے جانے والا ہرگز نہیں ہے۔اُن کے کئی اشعار اور مصرعے اب بھی عوام وخواص کو یاد ہیں۔اُن کا مجلسی تبسم،اُن کے گھر کے راستے کے پتھر،تمام شہر کے ہاتھوں پر دستانے اور آندھی چلنے کے ساتھ ہی نقش پا کا نہ ملنا، کسے یاد نہیں۔

یہ تو ادب کے عام قاری کی پسندید گی ہوئی، اہم ادبا اور شعراءکو بھی مصطفی زیدی کے اشعار ادبی لطف پہنچاتے ہیں۔اُن کے حلقہ اثر میں عوام سے زیادہ خواص رہے ہیں۔ڈاکٹر محمد فخر الحق نوری لکھتے ہیں:”.... وہ شاعر جن کے حلقہ اثر میں لکھے پڑھے، بالغ نظر اور اعلیٰ ذوق کے حامل اربابِ ادب ہر دور میں شامل ہوں اور خواہ اُن کی تعداد قلیل ہی کیوں نہ ہو،اُن کی ادبی زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ایسے شاعروں کی قدر کا تعین بار بار ہوتا ہے اور وہ ہر بار ادبی عظمت کی کسوٹی پر پورا اُترتے ہیں“۔ مصطفی زیدی بھی شعراءکے اِسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔اُن کی شاعری میں فکر انگریزی ،سماجی بصیرت،سیاسی شعور اور جدت کا مظاہرہ اُنہیں زندہ رکھنے کیلئے کافی ہے کیونکہ جس سیاسی وسماجی شعور، نفسیاتی ژرف بینی اور شدید جمالیاتی تاثر نے جدید اُردو ادب کے رحجانات کی تشکیل کی ،وہ اُن کی شاعری کے بنیادی عناصر ہیں۔ (ختم شد)  

مزید : کالم