اسحاق ڈار، عوام اورخوابوں کی تعبیریں!

اسحاق ڈار، عوام اورخوابوں کی تعبیریں!
اسحاق ڈار، عوام اورخوابوں کی تعبیریں!

  

گزشتہ پانچ سال کی جمہوری حکومت سے نڈھال عوام نے حسب دستور انتخابات کے موقع پر ایک بار پھر نئے خواب بُننا شروع کر دیئے.... امن و امان ہو گا، بجلی کی روشنی ہو گی، سرمایہ کاری ہو گی، بیروز گاری کم ہو گی، مہنگائی کا بال بیکا ہو گا، وغیرہ وغیرہ۔ اس پر مستزاد ان خوابوں کی تعبیر کے بے شمار علم بردار سیاست دان لاکھوں کے مجمعے اور لائیو ٹیلی کاسٹ میں لوگوں سے وعدے لیتے رہے.... ساتھ دو گے ناں!! حکومت بننے کے پانچ ماہ بعد اب گلیوں گلیوں ان خوابوں اور ان کی تعبیر پر تکرار ہو رہی۔ بقول احمد فراز:

ایک تو خواب لئے پھرتے ہو گلیوں گلیوں

اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ

تعبیر کے لمحات قریب آئے ہیں تو ہمیشہ کی طرح کم بخت آئی ایم ایف درمیان میں آ ٹپکا ہے۔ خوش تعبیری کے منتظر عوام کو اسحاق ڈار ایک بار پھر یہ سناتے ہوئے نہیں تھکتے کہ انہیں ورثے میں دیوالیہ معیشت ملی ہے۔ ان کا چارٹرڈ اکاﺅٹینسی کا تجربہ مصر ہے کہ ”مشکل فیصلے“ کرنا ہوں گے۔ ان کی اپنی چھٹی حس اور دیگر ماہرین کی پانچوں”حِسّیں“ بھی ملتی جلتی تعبیریں نکال رہی ہیں۔ بجٹ میں پوشیدہ سبسڈی ختم ہو گی، ٹیکس محاصل کی تلوار مسلسل بے نیام رکھی جائے گی۔ گزشتہ دو سال سے ایک ہی جگہ کھڑے رہنے کے جرم میں روپے کو سزا ملنی لازم ہے، بجلی کے موجودہ نرخ ملک کے لئے زہر قاتل ہیں، زرمبالہ کے ذخائر میں ملک کی جان اٹکی رہے گی.... وغیرہ وغیرہ۔

گزشتہ ہفتے اسحق ڈار اپنے وفد کے ہمراہ واشنگٹن میں ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس میں شریک ہوئے۔ سالانہ اجلاس میں ترتیب دیئے گئے مختلف مذاکروں اور مباحثوں میں شرکت کاوقت انہیں خاک ملتا کہ انہیں اس دوران 49ملاقاتوں کو نمٹانا تھا۔ ہر ملاقات میں انہوں نے اپنی بپتا سنائی اور پاکستان کی رام کہانی کو ایک نیا موڑ دینے کا آہنی عزم دہرایا۔ بپتا وہی جو گزشتہ 25سال سے آپ اور ہم سنتے آئے ہیں۔ گزشتہ حکومت نے خزانہ خالی چھوڑا، معیشت کا دیوالیہ نکل گیا، ڈیفالٹ سر پر کھڑا ہے، نااہل حکمرانوں نے معیشت اور اداروں کی چولیں ہلا دی ہیں.... اس رام کہانی کا مجوزہ موڑ بھی اسی کہانی کی طرح وہی ہے، جسے25سال سے ہم سنتے آئے ہیں۔ ٹیکس محاصل نظام اور ایف بی آر میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، روپے کی ”حقیقی“ قدر پر ”مارکیٹ“ کو قدرت حاصل ہونی چاہئے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی ضرورت ہے، سبسڈی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس عطیہ خدا وندی ہے۔ ٹیکس شکنجے میں پھنسے احمقوں کے لئے اس عطیے کا دل کھول کر استعمال کیا جائے....

معیشت کی بدحالی کے لئے اسحق ڈار کو مسلسل داد فریاد کی ضرورت نہیں، معاشی طور پر واجبی شدبد رکھنے والا بھی صورت حال کی سنگینی سے آگاہ ہے۔ اِلاّ یہ کہ سیاسی مخاصمت اور ٹاک شوز کی رینکنگ کی مجبوری آڑے آ جائے۔ ہماری معیشت کی بدحالی کو یوں تو سارا عالمی ” باغِ معیشت“ جانتا ہے، مگر اپنے یہاں حالت یہ ہے کہ....، جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے“.... عمران خان سے لے کر منور حسن تک، سب یک زبان ہیں کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جا کر ملک کی ناک کٹوا دی ہے۔ کچھ کا اصرار ہے کہ حکومت بہانے بہانے سے آئی ایم ایف کے سامنے اس لئے لیٹ گئی ہے کہ اصلاحات کے جوتے کا ماپ لے سکے۔ کچھ ناقدین نے تحقیق سے یہ راز فاش کیاہے کہ چپکے چپکے حکومت کے کشکول کا سائز کتنا بڑھ گیا ہے.... جتنے مُنہ اتنی باتیں، حسنِ زمانہ کہ مُنہ بھی بہت ہیں اور ٹی وی چینل ان سے بھی زیادہ، لہٰذا در فنطینیوں کی کمی نہیں۔

ایسا نہیں کہ ان ناقدین کے پاس ٹھوس متبادل حل نہیں ،ہے، ضرور ہے، لیکن قباحت یہ ہے کہ یہ حل ایسے ہیں، جیسے کہانیوں میں شہزادے کو جنگل میں بزرگ بتاتے تھے کہ تین سمندر اور چار جنگل عبور کرنے کے بعد کوہ قاف آئے گا.... پنجرے میں بند طوطے کو آزاد کرتے ہی تمہاری شہزادی ظالم جِن کی قید سے آزاد ہو کر تمہارے سامنے آ کھڑی ہو گی۔ایسے تجویز کردہ حل میں افسانوی راحت تو ضرور ملتی ہے،مگر وقت کی قلت، شہزادے اور بزرگ کی بروقت دستیابی آڑے آ جاتی ہے۔ صرف ڈیڑھ ماہ کے لئے موجود زرمبادلہ کے ذخائر کو بزرگ کے مشورے، شہزادے کی دستیابی اور طویل سفر کے آسرے پر کیسے چھوڑا جائے؟معاشی معاملات تو روز کی روز حاجت براری چاہتے ہیں، اخراجات کے تسلسل کے لئے محصولات کا تسلسل چاہتے ہیں۔ بس یہیں نیند اور خواب میں گڑ بڑ آ جا تی ہے، ورنہ.... ”الزام تراشی آسان ہے، سو خاصی وافر دستیاب ہے“....۔ اللہ بھلا کرے ٹاک شوز کا ایسے ایسے سیاسی تجزیہ کار معاشی امور پر چیرہ دستی کرتے ہیں، جنہوں نے زندگی بھر معاشیات کی الف بے بھی باقاعدہ نہیں پڑھی، لیکن حکومت کو ” ل م ی“ تک پڑھا کر چھوڑتے ہیں۔ گزشتہ شب ہم نے ا نگریزی کی استاد ، مگر حالیہ سیاست دان کی زبانی ٹاک شوز پر ایسے معاشی داﺅ پیچ سنے کہ طفل دانش کے سب کس بل نکل گئے۔

سیاسی مخالفین اور ٹاک شوز کی اپنی مجبوری ہے، لیکن ہمیں تو حکومت کی مجبویوں پر حیرت ہو رہی ہے۔ شیر کے نشان پر انتخاب لڑنے والی حکومت ابھی تک اپنے کچھار کی پیمائش سے فارغ نہیں ہوئی۔ گھن گرج سے سرکاری اداروں میں مقابلے کے ذریعے قابل لوگوں کے انتخاب کا معاملہ ابھی تک کھٹائی میں ہے، مکمل وزیر تجارت موجود نہیں، وزیر مملکت سے ہی کام چلایا جا رہا ہے۔ 31 سرکاری اداروں کی نجکاری کا ارادہ خوش کن سہی، لیکن نجکاری وزارت اضافی چارج پر چل رہی ہے۔ وزارت پانی و بجلی کے مکھن میں سے خواجہ آصف کا بال نکالا جا رہا ہے۔ مکھن پر پس ِ آئینہ تصرف وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر مملکت عزیز عابد شیر علی کا ہے۔ امریکہ جیسے حساس ملک کے لئے سفیر کی تعیناتی میں پانچ مہینے لگ گئے۔ وزارتِ خارجہ کے لئے وزیر ندار د....البتہ باہم دست و گریبان دو مشیر برسر پیکار.... درجن بھر مائیکرو فنانس اداروں کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب ایک ”اور“ روزگار بینک کھولنے کی تیاری میں ہیں.... کیسے اعتبار کریں کہ اس بار خوابوں کی تعبیر مختلف ہو گی۔” انداز ہو بہو تیری آواز ِپا کا تھا“ والا معاملہ جا بجا نظر آ رہا ہے۔

ہمیں اسحق ڈار، عوام اور معیشت سے ہمدردی ہے۔ اسحاق ڈار اپنی سیاسی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ معیشت اپنی کرنی کا پھل پا رہی ہے۔ رہے عوام تووہ اپنے خواب یوں شرمندہ ¿تعبیر ہوتے دیکھ کر خواب دیکھنے پر شرمندہ ہو رہے ہیں.... امید پر دُنیا قائم ہے۔ سوتے جاگتے میں خواب امید کو قائم رکھتے ہیں۔ کچھ خواب حسب ِ خواہش شرمندہ¿ تعبیر نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ بقول شعیب بن عزیز:

ہم نیند کے شوقین زیادہ نہیں، لیکن

کچھ خواب نہ دیکھیں تو گزارا نہیںہوتا

مزید :

کالم -