میری قربانی

میری قربانی

  

”مَیں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے“....اللہ رب العالمین نے انسان کی تخلیق کا مقصد وحید اپنی عبادت قرار دیا ہے ،تعلیمات قرآنیہ اور ہدایات محمدیہ سے ہمیں راہنمائی ملتی ہے کہ کوئی عبادت اس وقت تک قبولیت کے درجے تک نہیں پہنچتی ،جب تک اس میں تین بنیادی شرائط نہ پائی جائیں....ایمان صادق۔ خلوص نیت۔ موافقت سنت صحیحہ....در ج ذیل سطور میں ہم صرف اخلاص اور قربانی کے بارے میں کچھ گزارشات سپرد قلم کرتے ہیں، اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ”اخلاص “کی نعمت سے نوازے۔ آمین

اخلاص کیا ہے ؟اخلاص کا مفہوم یہ ہے کہ ہرقسم کی عبادت (مالی ، بدنی ، قولی ، فعلی)صرف رضائے الٰہی کے حصول کے لئے ادا کی جائے۔ اخلاص کی نعمت سے ہی عمل کا اجر ملتا ہے۔ اخلاص کا فقدان اور عدم موجودگی عمل صالح کو بے کا ر اور ختم کر دیتی ہے جیسا کہ ارشاد حقانی ہے:” اس دن (مراد روز قیامت) کئی چہرے ذلیل ہوں گے ، سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے ہوںگے دہکتی آگ میں داخل ہوںگے....رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیتوں پر ہے....صحیح بخاری

قربانی اور اخلاص:چونکہ قربانی بھی ایک عظیم مالی عبادت ہے، اس لئے اس کی قبولیت کا دارومدار بھی نیک نیت پر ہے۔ قربانی میں ریاکاری ، نمود و نمائش اور دنیاوی اغراض و مقاصد سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔قرآن کریم اور حدیث حبیب صلی اللہ علیہ وسلم میں ان لوگوں کی قربانی کو عنداللہ غیر مقبول قرار دیا گیا ہے، جو قربانی جیسی عظیم عبادت بھی صرف دنیاوی جا ہ و جلال اور ریاکاری کے لئے کرتے ہیں۔ ارشاد رب العالمین ہے: ”جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کی زینت چاہتا ہے تو ہم انہیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ اسی (دنیا )میں دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی، یہی لوگ ہیں ،جن کے لئے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور برباد ہو گیا جو کچھ انہوں نے اس (دنیا )میں کیا اور جو عمل وہ کرتے رہے ضائع ہوگئے“۔

اس آیت عظیمہ میں اللہ رب العزت نے دنیاوی جاہ و جلال کے لئے نیک اعمال کرنے والے لوگوں کے اعمال باطل قرار دیئے ہیں۔ مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں امام ابن کثیر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ ابن ِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ریاکاروں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جائے گا، اس لئے کہ ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت خصوصی طور پر ریاکاروں کے لئے نازل ہوئی ہے۔ مفسر شہیر امام قتادة رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس شخص کا ارادہ و نیت طلب دنیا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کا اسے دنیا میں ہی بدلہ عطا فرما دیتا ہے اور آخرت میں ایسے شخص کے پاس کوئی نیکی نہیں بچے گی، جس کا اسے بدلہ دیا جائے، جبکہ مومن(خالص) کو اس کی نیکیوں کا صلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور وہ آخرت میں بھی ضرو ر اجرو ثواب سے نوازا جائے گا ،جس طرح کہ سورئہ شوریٰ میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ارشاد ایز دی ہے:” جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ،ہم اس کے لئے اس کی کھیتی میں اضافہ کرتے ہیں اور جو شخص دنیا کی کھیتی چاہتا ہے، ہم اسے اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں اور اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں“....

قربانی میں اخلاص کے لئے اللہ رب العزت نے تاکید اً حکم فرمایا اور کہا:”کہہ دیجئے کہ میری نماز ، قربانی، میرا جینا اور مرنا (سب کچھ) اللہ رب العزت کے لئے ہے“....امام ابن ِ کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان مشرکوں کو یہ بتا دیں جو غیر اللہ کی عبادت کرتے اور غیر اللہ کے نام پر اپنے جانوروں کو ذبح کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کاموں میں ان کے مخالف ہیں ،آپ کی نماز محض اللہ ہی کے لئے ہے اور آپ کی قربانی (دیگر عبادات) صرف اور صرف اللہ وحدہ لا شریک کے لئے ہے جیسا کہ فرمایا: .... ”اپنے پروردگار ہی کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی کریں“....یاد رکھیے ! اگر قربانی میں غیر اللہ کی نیت اور ارادہ شامل ہو گیا تو یہ قربانی آپ کے لئے وبال جان بن سکتی ہے....یعنی اپنی نماز اور قربانی کو اسی کی ذات گرامی کے لئے خالص کریں ،مشرکین بتوں کی عبادت کرتے اور انہی کے لئے جانور ذبح کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان مشرکوں کی مخالفت کرتے ہوئے ان کے طریقے سے انحراف کریں اور اللہ ہی کے لئے اخلاص کی نیت اور قصد و ارادہ کر لیں۔ امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مناسک سے مراد حج و عمرہ میں جانوروں کا ذبح کرنا ہے....ملخصاً از المصباح المنیر فی تہذیب ابن ِ کثیر

قرآن اور اخلاص:سورئہ زمر میں اللہ رب العزت نے رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ ”کہہ دیجئے مَیں اللہ کے لئے اپنی بندگی کو خالص کرتے ہوئے اسی کی عبادت کرتا ہوں“....اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ ہے )جو آپ کے پاس آئے کہ آپ انہیں (سفر جہاد کے لئے )سواری دیں (اور)آپ نے کہا کہ میرے پاس کوئی سواری نہیں تو وہ اس حال میں لوٹ گئے کہ ان کی آنکھیں آنسوﺅں سے بہہ رہی تھیں کہ ان کے پاس کچھ نہیں ،جسے وہ (اللہ کی راہ میں )خرچ کریں۔ نیت صالح کی وجہ سے ہی اللہ نے ان کے نام مجاہد ین کی فہرست میں رقم فرما دیئے۔اللہ تک ان (قربانی کے جانوروں ) کا گوشت ہر گز نہیں پہنچتا اور نہ ہی ان کا خون ،لیکن اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے، یعنی قربانی سے مقصود اخلاص و تقویٰ ہے۔

الشیخ ابن سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلوص سے خالی عبادت بے روح جسم کی مانند ہے....اور اللہ رب العزت نے حج اور اس کے متعلقات قربانی وغیرہ میں خلوص نیت کی طرف خصوصی توجہ مبذول کروائی ہے....” اے میرے رب !مجھے توفیق دے کہ میں نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو جائے“....یعنی صالحین اپنے نیک اعمال میں نیت صالحہ اور رضائے الٰہی کو مد نظر رکھتے ہیں....”اور بے شک (ان)آپ کے رب کے پاس ٹھکانا ہے“۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ہر چیر کا ٹھکانا اس کی طرف ہے تو انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی عبادات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔

” وہ (اللہ )جس نے موت و حیات کو پیدا کیا ، تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہ بڑا زبردست ہے خوب بخشنے والا“.... اللہ رب العزت نے کثرت عمل کو نہیں ،بلکہ احسن عمل کا ذکر فرمایا ہے ،کیونکہ کثیر عمل اخلاص سے خالی ہو تو بے فائدہ ہے، جبکہ قلیل عمل پر اخلاص کے ساتھ مداومت ایک محبوب اور پسندیدہ فعل ہے....”اور وہ لوگ جنہوں نے ایک مسجد بنائی، تاکہ (مسلمانوں کو) ضرر پہنچائیں اور کفر پھیلائیں“ ....مسجد بنانا ایک نیک عمل ہے ،مگر خرابی نیت اور فساد کی وجہ سے یہ نیک عمل بھی ان منافقوں کے لئے وبال جان اور آخرت میں باعث عذاب ہوگا۔

آخری بات:محترم قارئین درج بالا سطور کا خلاصہ یہی ہے کہ ہم اس حیات میں اخلاص کے ساتھ نیک اعمال بجا لائیں۔ یاد رکھیں قیامت کے دن دلوں کی نیتوں کو بھی ظاہر کر دیا جائے گا، اگر ہماری نیت درست ہوئی تو ہم اس دن کی شرمندگی سے بچ سکتے ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم ہر نیک کام اخلاص کیساتھ کریں....اور ” اذ جاءربک بقلب سلیم “ کی صفات اپنے اندر پیدا کریں۔  ٭

مزید :

کالم -