شہباز شریف کا طرز حکمرانی اور دھرنا سیاست

شہباز شریف کا طرز حکمرانی اور دھرنا سیاست
شہباز شریف کا طرز حکمرانی اور دھرنا سیاست

  

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی عید الاضحی کے دن اخبار میں تصویر دیکھی جس میں متاثرین سیلاب کے ساتھ نماز ادا کر رہے ہیں اور کھانا بھی کھایا ۔محمد شہباز شریف نے عید الاضحی کا دن حافظ آباد اور چنیوٹ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گزارا ۔وزیراعلیٰ پنجاب نے حافظ آباد کے سیلاب زدہ علاقے کوٹ سلیم میں متاثرین سیلاب کے ساتھ نماز عید ادا کی اور نماز کی ادائیگی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف لوگوں کے ساتھ گھل مل گئے ان سے عید ملے متاثرین کے ساتھ قربانی کی اور ان میں عید کے تحائف بھی تقسیم کئے ۔لوگ وزیراعلیٰ پنجاب کو اپنے درمیان دیکھ کر بہت خوش ہوئے ،کیونکہ حکمران وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہولوگوں کی خدمت کرے ۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ایک طرف تبدیلی کے دعوے کرتے ہیں ۔نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں ۔90دن میں کرپشن کے خاتمے کی بھی بات کرتے ہیں ،لیکن ان کے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے عید الاضحی کا دن اپنے گاﺅں مانکی شریف نوشہرہ میں پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ گزارا ۔انہیں بھی مصیبت زدگان کے ساتھ دن گزارنا چاہیے تھا جو گھروں سے بے گھر ہوئے جوملک کی خاطر اپنے گھر بار چھوڑ کر ضلع بنوں میں خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی تقلید کرنی چاہیے تھی اور بنوں کے آئی ڈی پیز کے ساتھ عید گزارنا چاہیے تھی ،سیاسی نعروں سے عام آدمی کا پیٹ نہیں بھرتا وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے مانکی شریف میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دھاندلی ثابت ہو جائے تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک عمران خان کو اس بات پر پہلے قائل کریں کہ دھاندلی کی تحقیقات کا آغاز خیبرپختونخوا سے کریں اور خیبرپختونخوا میں پہلے پانچ حلقوں کو کھولیں، کیونکہ صوبے کی سیاسی جماعتیں اور خصوصاً جمعیت علماءاسلام(ف)کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کئی بار خیبرپختونخوا کے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے ،کیونکہ تحقیقات سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ خیبرپختونخوا میں دھاندلی ہوئی ہے یا نہیں ۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک وزیراعظم محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس وزیراعلیٰ سے بھی استعفیٰ مانگتے ہیں جو عید الاضحی کا دن بھی اپنے بچوں اور اہل خانہ کے ساتھ نہیں گزارتا اور عید کی خوشیاں بھی سیلاب متاثرین میں بانٹتا ہے جو مسلسل بیس دن سیلاب متاثرین کے ساتھ گزارتا ہے اور اپنی جان کی پرواہ بھی نہیں کرتا بغیر سیکورٹی کشتی میں پھرتا ہے ۔جہاں جہاں متاثرہ افراد ہوں وہاں بغیر اطلاع پہنچ جاتا ہے اور متاثرہ لوگوں کی خدمت کرتا ہے اور متاثرین کو عید الاضحی سے پہلے پچیس ہزار روپے کی امداد بھی فراہم کرتا ہے ،تاکہ متاثرہ لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں اور رقوم کی نگرانی بھی براہ راست خود کرتا ہے ،تاکہ کوئی متاثرہ شخص مالی امداد سے محروم نہ رہ جائے ۔

قوم ملک میں ایسے حکمران چاہتی ہے جو عام آدمی کے دکھ درد میں شریک ہوں ۔جہاں ظلم ہووہاں فوراً پہنچ جائیں ۔جو ظلم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں ۔یتیموں اور بیواﺅں کے سر پر ہاتھ رکھے ۔کرپشن کے خلاف جہاد کرتا ہو۔قومی خزانے کو عوام کی امانت سمجھے اور ایک ایک پائی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے ۔نہ دن کی دھوپ کو دیکھے اور نہ رات کی نیند کو دیکھے جو خادم کہلانے پر فخر محسوس کرتا ہو۔ایسے شخص کو بھی کام کرنے نہیں دیا جارہا ۔ نیا پاکستان بنانے والے اور تبدیلی کے دعویداروں سے خیبرپختونخوا کے غیور عوام پوچھنا چاہتے ہیں کہ عمرا ن خان نے الیکشن سے پہلے 90دن میں کرپشن کے خاتمے کا اعلان کیا تھا چار ماہ میں دہشت گردی کے خاتمے کا کہا تھا ۔کرپٹ لوگوں کا احتساب ہو گا ۔میرٹ کی پالیسی پر عمل ہو گا ۔تھانوں میں عام آدمی کو انصاف ملے گا۔نوکریاں میرٹ کی بنیاد پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملیں گی ۔ہسپتالوں میں ادویات مفت فراہم کی جائیں گی ۔ڈاکٹر مریضوں کی خدمت کریں گے ۔لوگ خود تبدیلی محسوس کریں گے ۔صوبے خیبرپختونخوا کو ماڈل صوبہ بنائیں گے۔

تحریک انصاف کی حکومت کو سولہ ماہ پورے ہو گئے ہیں، لیکن عوام کے ساتھ ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیاگیا ۔ہسپتال کے نظام میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکے ۔غریب لوگوں کو ہسپتالوں میں مفت ادویات ملنا ایک خواب بن چکا ہے ۔میرٹ پر نوکریاں نہیں ملتیں ،اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں اپنے ہاتھوں میں لئے پھر رہے ہیں، لیکن انہیں روزگار نہیں مل رہا ہے سفارش کی بنیاد پر نوکریاں بانٹی جا رہی ہیں ۔تھانوں میں عام آدمی کو انصاف نہیں مل رہا ہے ۔کرپٹ لوگوں کو ابھی تک احتساب کے شکنجے میں نہیں لایاگیا۔ خیبرپختونخوا میں 80ارب روپے ترقیاتی فنڈ ز کو پسماندہ اور ناخواندہ اضلاع میں خرچ نہیں کیاگیا، کیونکہ عمران خان کہتے ہیں کہ اس میں کرپشن ہو گی اگر اپنی صوبائی حکومت پر اعتماد نہ ہو اور اپنی حکومت میں یہ اہلیت نہ ہو کہ شفاف طریقے سے ترقیاتی فنڈز خرچ کر سکیں پورے ملک میں فنڈز کیسے خرچ کریں گے ۔

سولہ ماہ میں صوبہ خیبرپختونخوا میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکے تو ملک میں کیا تبدیلی لائیں گے ۔اسلام آباد کے دھرنوں میں ناچ گانوں کا کلچر متعارف کرایاگیا ۔قوم کے بیٹوں اور بیٹیوں کو نچانا ہی تبدیلی ہے ۔ملک میں نام نہاد روشن خیالی کے کلچر کو متعارف کرایا جارہا ہے اور مغربی آقاﺅں کے ایجنڈے کو پورا کیا جارہا ہے ۔لیڈر وہ ہوتا ہے جو قوم کو رہنمائی فراہم کرے اور ملک کو بحرانوں سے نکالے ،لیکن عمران خان دھرنوں میں ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جو کسی قومی لیڈر کو زیب نہیں دیتی اور نوجوان نسل کو ناچ گانے پر لگا کر اسلامی شعائر کا بھی جنازہ نکالا گیا۔پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے یہاں مغربی کلچر کو فروغ دیاجارہا ہے ۔ا ابھی بھی وقت ہے کہ عمران خان ایک قومی لیڈر کی طرح سوچے ۔دھرنوں کی سیاست کو ختم کرے ۔اس سے ملک کی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے ۔سیاسی جلسوں اور دھرنوں میں لیڈروں کے خلاف غیر مہذب زبان استعمال کرنا چھوڑ دیں اور پاکستان میں ایسے کلچر کو خدارا متعارف نہ کرائیں کہ کل وہ بھی اس سے جان نہ چھڑا سکیں ۔

مزید :

کالم -