بزنس لیڈروں کی وزیراعظم سے ملاقات

بزنس لیڈروں کی وزیراعظم سے ملاقات
 بزنس لیڈروں کی وزیراعظم سے ملاقات

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان کی معاشی حالت اگرچہ اس وقت کچھ مشکلات میں گھری ہوئی ہے، لیکن اب سٹیک ہولڈر سرجوڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ کسی بھی شکل میں ہماری معیشت کو ریورس گیئر نہ لگے۔اس سلسلے میں نیچے سے اوپر تک کوششیں جاری ہیں۔

ایکسپورٹ میں کمی کا مسئلہ بھی درپیش ہے اور اس وقت حکومت کی شدید خواہش ہے کہ ایکسپورٹ میں اضافہ کیا جائے۔ دوسری طرف ایکسپورٹر اور بزنس کمیونٹی بھی پوری کوشش کر رہی ہے کہ حکومت کو ان مشکلات سے آگاہ کرے،جن کی وجہ سے معیشت سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چند روز پہلے بزنس کمیونٹی کے اہم لیڈروں کے ساتھ ایک بہت اہم ملاقات کی، جس میں تمام معاشی مسائل خصوصاً ایکسپورٹ کے مسائل زیر بحث آئے۔بزنس لیڈران کا ایک وفد پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زبیر طفیل کی قیادت میں وزیراعظم سے ملا۔

اس وفد کے اہم ارکان بھی ٹریڈ ڈویلپمنٹ آف پاکستان کے سربراہ ایس ایم منیر،یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک، سینیٹر الیاس بلور، سینیٹر حسیب خان، کامرس منسٹر پرویز ملک، اپٹما اور اہم ایکسپورٹ انڈسٹری کے لیڈروں کے علاوہ موقع پر ہی مسائل کو حل کرنے کے لئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دوسرے تمام متعلقہ محکموں کے سربراہ بھی موجود تھے۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زبیر طفیل نے بزنس کمیونٹی کے مسائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اگر ایکسپورٹ میں اضافہ کرنا چاہتی ہے تو پھر بہت ضروری ہے کہ پیداواری لاگت میں کمی کی جائے،اِس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ حکومت ترجیحی بنیادوں پر بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی کرے،کیونکہ گیس اور بجلی بنیادی خام مال ہیں ان کے بغیر پیداوار وجود میں نہیں آ سکتی۔


پاکستان میں پیداواری یونٹوں کے لئے بجلی اور گیس کے نرخ دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ ہیں۔اس وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات دُنیا کی مارکیٹوں میں مقابلہ نہیں کر سکتیں اور مہنگی ہونے کی وجہ سے پاکستان کی معیاری مصنوعات کی فروخت بھی کم ہوتی ہے۔مختلف ممالک کے ساتھ ہمارے تجارتی تعلقات ہیں،لیکن ایکسپورٹ میں اضافے کے لئے ہمیں ایران سے اپنے تجارتی تعلقات بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں بننے والی بہت سی مصنوعات کی ڈیمانڈ ایران میں موجود ہے،لیکن ان مصنوعات سے زیادہ ڈیمانڈ پاکستانی چاول، پھلوں اور سبزیوں کی ہے۔اگر پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات خوشگوار ہو جائیں تو اس صورت میں پاکستان پانچ لاکھ ٹن چاول فروخت کرنے کی نئی مارکیٹ حاصل کر سکتا ہے۔ ایکسپورٹ میں اضافہ کرنے کے لئے ایکسپورٹ ریفنڈ کا مسئلہ حل کرنا بھی ضروری ہے۔

ایکسپورٹرز کے اربوں روپے حکومت کی طرف واجب الادا ہیں۔اگر یہ رقم ایکسپورٹروں کو مل جائے تو ایکسپورٹ کی سرگرمیاں تیز ہو سکتی ہیں۔یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے بتایا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ بزنس لیڈران کی ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی۔

وزیراعظم اور ان کی ٹیم نے تمام تجاویز کو خندہ پیشانی سے سُنا اور بزنس کمیونٹی کے نمائندوں کو بتایا کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مشاورت کر کے آپ لوگوں سے آئندہ ہفتے ایک اور ملاقات کریں گے تاکہ معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لئے ایک جامع حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکے۔


افتخار علی ملک نے میٹنگ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا: ’’وزیراعظم کے طرزِ عمل اور مثبت باڈی لینگوئج سے بزنس لیڈران کی امیدیں بڑھ گئی ہیں کہ اب ان کے مسائل جلد از جلد حل ہوں گے خصوصاً ایکسپورٹ میں اضافہ کرنے کے لئے ٹیکسٹائل گارمنٹس اور لیدر سمیت تمام انڈسٹری کے لئے جلد ہی اصلاحات سامنے آنے کا امکان ہے، ریفنڈ کے مسئلے پر بھی وزیراعظم نے مثبت ردعمل دیا ہے اس لئے قوی امید ہے کہ ایکسپورٹ ریفنڈ کا مسئلہ بھی حل ہونے کی طرف جا رہا ہے۔

پچھلے دِنوں پاکستان کی معیشت کا جائزہ لینے کے لئے ایک بزنس وفد لاہور کے دورے پر آیا تو مَیں نے اپنے گھر پر ان کے اعزاز میں ایک دعوت کا اہتمام کیا، جس میں پاکستان کے اہم بزنس لیڈر شریک ہوئے۔ امریکی وفد بھی پاکستان کی معاشی پالیسیوں کے بارے میں مثبت سوچ رکھتا تھا۔پاک یو ایس چیمبر آف کامرس کی وجہ سے بھی پاکستان اور امریکہ کی بزنس کمیونٹی میں خوشگوار تجارتی تعلقات ہیں،لیکن اب کاروباری تعلقات میں اضافہ ہونا چاہئے۔پاکستان کی بزنس کمیونٹی کو چاہئے کہ وہ دوسرے ممالک میں اپنے ایکسپورٹ ویئر ہاؤس قائم کرے۔

امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ کاروباری تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں جرمنی اور فرانس بھی پاکستان سے کاروباری تعلقات میں اضافے کے خواہش مند ہیں۔ دوسری طرف سی پیک اور چین کی46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نے پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کے لئے ایک پُرکشش مُلک بنا دیا ہے۔

بزنس کمیونٹی کے لیڈروں کو پوری امید ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی کر کے ایکسپورٹرز کی پیداواری لاگت کم کر کے پاکستان کی ایکسپورٹ بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے،ابھی دو روز پہلے ہی پورٹ قاسم کے پاکستان کے پہلے کول، کلنکر اور سیمنٹ ٹرمینل کا افتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم نے خوشخبری سنائی کہ دسمبر تک پاکستان میں گیس اور بجلی کی فراوانی ہو گی۔

سوچنے کا مقام ہے کہ صرف چارسال پہلے ایک انڈسٹری کو گیس اور بجلی پوری نہیں مل رہی تھی اور صرف چار سال میں اللہ نے ایسی رحمت کی ہے کہ بجلی اور گیس وافر دستیاب ہو گی،نہ صرف انڈسٹری کو سستے داموں ملے گی،بلکہ عام صارفین کو بھی دستیاب ہو گی، جس سے پاکستان کی خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا۔ پاکستان چین کے مشترکہ منصوبوں سے پاکستان میں ایسی مصنوعات تیار کی جائیں گی، جن کی ایکسپورٹ دُنیا بھر میں ہو سکے گی۔

مزید :

کالم -