امریکی خواب اور پاکستانی سماج

امریکی خواب اور پاکستانی سماج
 امریکی خواب اور پاکستانی سماج

  

پاک، امریکہ تعلقات میں نمودار ہوتے بگاڑپرچہ میگوئیاں بدستور جاری ہیں۔ کچھ حلقے اسے امریکی محکمہ دفاع اور خارجہ کے درمیان چپقلش سے تعبیر کررہے ہیں،جبکہ کچھ کے نزدیک وائٹ ہاؤس کا مائنڈ سیٹ پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔

مستقبل میں کیا ہوگا یہ بعد کی باتیں، لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے امریکن پالیسی ساز اداروں میں پاکستان بارے اتفاق رائے کی کمی ہے۔

ویسے تو ان اداروں کے درمیان چپقلش کوئی نئی بات نہیں، جیسا کہ کلنٹن دور حکومت میں ہوا۔ صدر بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کا معاشقہ منظر عام پر آتے ہی امریکن کانگریس کچھ ہفتوں کے لئے عضو معطل کی سی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔ سیاست دان بل کلنٹن کے مستقبل بارے کنفیوژن کا شکار تھے۔

یہی وہ وقت تھا جب پینٹاگان نے سیاست دانوں کی اس شش و پنج کی کیفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاست کے کئی معاملات پر برتری حاصل کر لی ۔ فوج کی اس برتری کو ابھی تک واپس نہیں کیا جا سکا۔

یہ اسی برتری کا نتیجہ ہے درجنوں عالمی مسائل پر امریکن سول اداروں اور فوج میں اختلاف رائے نظر آتا ہے۔پاکستان کے بارے میں بھی کانگرس، سٹیٹ ڈپارٹمنٹ، فارن آفس، سی آئی اے اور پینٹاگان اسی مسئلے کا شکار ہیں۔

امریکی ،پاکستانی افواج کو افغانستان میں بھرپور کردار دینے سے بدستور انکاری ہیں، لیکن افواج پاکستان کی انتہائی پروفیشنل اپروچ انہیں مسلسل اپنی اہمیت کا پیغام بھی دے رہی ہے۔ پاکستان متواتر باور کروا رہا ہے اس سلگتے خطے میں بالآخر اشرف غنی، بھارت اور نیٹو کی بجائے پاکستان کی سننی پڑے گی۔

یہ حقیقت بھی ہے امریکہ کو خطے سے باعزت واپسی کے لئے پاکستان کا تعاون درکار ہوگا۔ افغانستان میں مزید اور طویل قیام کی خواہش سی آئی اے کے دور رس مقاصد کو تو پورا کر سکتی ہے، لیکن یہ قیام محکمہ خزانہ کے لئے انتہائی مہلک ثابت ہو گا۔

بنیادی وجہ امریکہ کے اندر تیزی سے سرایت کرتی وہ معاشی بے چینی ہے جو پوری سوسائٹی کو گرفت میں لے چکی ہے۔ جنگی اخراجات کی بدولت گزرے برسوں میں امریکہ کاسماجی اور معاشی ڈھانچہ شکست و ریخت کا شکار ہوا ۔ امریکن فوجی عراق اور افغانستان میں حوصلہ ہار رہے ہیں۔

صرف عراق میں دس ہزار امریکی فوجی موت کی وادیوں میں جا چکے ہیں۔ اٹھائیس ہزار کے قریب زخمی فوجی شدید ڈپریشن کے عالم میں لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کے لئے درد سر بن چکے ہیں، جبکہ دنیا کو ’’جراثیمی ہتھیاروں‘‘ کے حملے سے بچانے کی خاطر شروع ہونے والی یہ جنگ اب تک 889بلین ڈالر کی رقم ہڑپ کر چکی ہے۔

امریکہ کے قرضوں میں فی منٹ ایک ملین ڈالر کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرحالات اسی نہج پر رہے تو وہ وقت دور نہیں جب جنگی اخراجات اور قرض کی یہ رقم کئی ٹریلین ڈالر تک جا پہنچے گی اور یہ اتنی بڑی رقم ہوگی کہ اس صدی میں پیدا ہونے والا ہر امریکن ساری زندگی قرض ادا کرتا رہے گا۔

کیا امریکن اکانومی میں اتنی سکت باقی ہے کہ وہ ایران یا شمالی کوریا پر حملہ کر سکے؟ پاکستانی فوج کا ہر گزرتے دن بلند ہونے والا مورال اور ڈومور سے انکار ان حقائق سے آگاہی کی بدولت ہی ہے۔

امریکہ کا قومی تشخص بھی جنگ کے انہی شعلوں کی نذر ہو چکا ہے۔ Land of Opportunities کا آج یہ عالم ہے امریکن گرین کارڈ کا خواب دیکھنے والے تھائی لینڈ، دبئی، جنوبی افریقہ، پرتگال اور حتی کہ بھارت جیسے ملکوں کی نیشنیلٹی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ امریکہ اپنے یورپین اتحادیوں کی نظروں میں امیج داؤ پر لگا چکا ہے۔ برطانیہ میں امریکہ کی پسندیدگی کا ریٹ 75 فیصد سے گر کر 51 فیصد، جرمنی میں60فیصد سے گر کر 30 فیصد اور فرانس میں62 سے 32 فیصد رہ چکا ہے۔

مسلم ممالک میں امریکن اپنے ڈاؤن امیج کی خطرناک حدوں کو چھو رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں امریکن مصروفیات کا فائدہ چین ، روس اور ایران اُٹھا رہے ہیں۔ ان تینوں ممالک نے گزرے برسوں میں نہ صرف معاشی، عسکری طاقت حاصل کی، بلکہ انہیں بین ا لاقوامی اثر و رسوخ بھی حاصل ہو چکا ہے۔ چائنہ بھرپور طریقے سے مڈل ایسٹ اور افریقہ میں داخل ہو چکا ہے۔

چین حکومت تیل، توانائی، مائننگ، روڈ ورکس، پورٹس اور ریلوے نیٹ ورکس بچھانے کے عوض خام دھاتوں کی خریداری جیسے بڑے اہم سٹرٹیجک معاہدے کر رہی ہے،جبکہ روس، بھارت اور چین کے ساتھ مستقبل کی ایسی پارٹنر شپ کی بنیا د ڈال چکا ہے جسے ختم کرنا امریکہ کے بس کی بات نہیں رہی۔

ایران، میزائل تجربات سمیت اپنی قوم کو امریکہ مخالف ایک ایسے پلیٹ فارم پر لا چکا ہے جسے توڑنا یا تباہ کرنا اسرائیل سمیت امریکہ کا خواب بن چکا ہے۔

امریکن ایڈمنسٹریشن ہر روز 343 ملین ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ ملٹری ریکروٹنگ کے لئے ’آرمی گائیڈ لائن‘ کو توڑا جا رہا ہے۔ فوجیوں کی اشد ضرورتوں کو پورا کرنے کی خاطر ایسے نوجوان بھرتی کئے جا رہے ہیں، جن کے پاس نہ تو ہائی سکول کا ڈپلومہ ہے اور نہ ہی جسمانی حالت قابلِ قبول۔ ان میں بیشتر ایسے نوجوان ہیں جن کا ماضی جرائم پیشہ، دماغ میں ڈرگز کا دھواں اور سانسیں الکحل کی بو سے اٹی ہوئی ہیں۔

نیشنل گارڈز کی حالت اس سے بھی بدتر ہے۔ کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں جو کسی فوری خطرے سے نمٹ سکے۔ امریکن فوج اور نیشنل گارڈز میں بھرتی شدہ افراد کی نجی زندگیاں بھی متاثر ہو چکی ہیں۔

شرح طلاق میں اضافہ، ڈپریشن، جرائم پر مائل بچے اور اپنے پسندیدہ بارز، ریستورانوں سے دوری نے امریکن فوجیوں کا مورال پست کر دیا ہے۔ امریکن اب اس قابل نہیں رہے کہ وہ کوئی فوری محاذ کھول سکیں۔

یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ امریکن ’’پالیسی شفٹنگ‘‘ کے اس دوراہے پر پاکستانی سماج کی ساکھ بدستور مضبوط ہو رہی ہے۔ بظاہر پاکستان کے حالات ساز گار نہیں ہیں، لیکن مضبوط فوج اور پاکستانی عوام کی محبت مشکل وقت کو تیزی سے گزار رہی ہے۔

باشعور تو ایک طرف ان پڑھ اور مزدور پیشہ فرد بھی فوج کے حوالے سے شدید جذباتی لگاؤ کا حامل ہے۔ خوش قسمتی سے عوام اور افواج کے درمیان ایسی خلیج نمودار نہیں ہو سکی، جس نے مشرق وسطی کے ممالک میں بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔ افواج پاکستان سے یقیناًامریکنوں کو بھی بہت سی امیدیں ہیں، لیکن ان کی اور پاکستانی عوام کی امیدوں میں فرق ہے۔ امریکن امیدیں معاشی مفادات کے گرد گھوم رہی ہیں، جبکہ پاکستانی امیدیں بہترسوسائٹی کے گرد۔ امریکن افغانستان سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، پاکستانی عوام مُلک میں مثالی لاء اینڈ آرڈر،بہتر معاشی سرگرمیاں دیکھنا چاہتے ہیں۔

امریکن فی منٹ ملین ڈالر کے بوجھ کو اتارنا چاہتے ہیں،جبکہ پاکستانی سبز پرچم کو عالم اقوام میں بلند دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایسا پاکستان جسے کوئی bully نہ کرسکے۔ تمام تر سختیوں ، اندرونی چپقلشوں اور دہشت گردی کی لہروں کے باوجود پاکستان نے مستقبل میں قدم رکھا۔

پے در پے سانحات نے قوم کو بکھرنے کی بجائے ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا۔ قومی ایشوز پر سیاسی قیادتوں نے آگ کو بھڑکانے کی بجائے سرد کیا۔

اداروں کی تطہیر اور نئے سوشل آرڈر کی باتیں عام ہوئیں۔ عالم اقوام میں پاکستانی کردار کی سوچ گھر گھر ، پہنچی اور یہ تمام ایسے فیکٹر تھے جو کسی ریاست کو آگے بڑھانے کے لئے از حد ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ توقع کی جانی چاہئے آنے والے دنوں میں اس ہم آہنگی کو مزید بڑھایا جائے گا۔

مزید :

کالم -