بلوچستان کی چار بہادر خواتین

بلوچستان کی چار بہادر خواتین
بلوچستان کی چار بہادر خواتین

  

بلوچستان میں خواتین کی تعداد 58 لاکھ 60 ہزار 646 ہے۔ یہ قسمتی کی ماری ہیں اورپاکستان میں اگر کوئی سب سے پسماندہ ہے تو یہ صوبہ بلوچستانکی خواتین ہیں۔ اس حوالے سے ہم نے بلوچستان کی کچھ اہم خواتین سے بات چیت کی ہیں جنہوں نے بلوچستان کی ترقی میں اہم کارہائے نمایاں سر انجام دے رکھے ہیں۔یقین کیجئے بلوچستان جیسے پسماندہ اور قبائلی سماج میں وہ انقلاب برپا کرچکی ہیں ،اگر یہ یورپ میں ہوتیں تو لوگ ان کے مجسمے بناتے ،سر آنکھوں پر بیٹھاتے مگر ان کی ناقدری کاعالم دیکھا نہیں جاتا یہاں۔ان خواتین میں ایک مائی جوری جمالی ہے جو صوبائی اسمبلی میں الیکشن میں حصہ لے چکی ہیں جبکہ دوسرا مائی نصیباں جمالی ہے جو ایک کونسلر ہے تیسری خاتون آمنت خاتون ہے۔ وہ سکول ٹیچر ہے اور چوتھی خاتون لال خاتون ہے جنہوں نے آزادی کے سورج کو قریب سے دیکھا ہے۔ ان سب کی سوچ بلوچستان کے بارے میں بالکل الگ ہے۔ان سب کے خیالات ہم سب کیلئے ایک مشعل راہ ہیں۔

مائی جوری جمالی جو پاکستان کی پہلی کسان خاتون ہے جس نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اپنے سردار کے مقابلے میں الیکشن میں حصہ لیا تھا انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کی ترقی میں خواتین کے کردار کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا ، بلوچستان میں خواتین تبدیلی کی علامت بن چکی ہیں۔ بلوچستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے یہاں خواتین کے پاس اس طرح کے مواقع نہیں جس طرح ملک کے دیگر علاقوں میں ہیں۔ بلوچستان میں خواتین کے پاس ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ یہ خواتین انتہائی باہنر ہیں۔

بلوچ خواتین خاص کر کشیدہ کاری کے حوالے سے آج بھی پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہیں۔ یہاں سے بننے والے کشیدہ کاری کے کپڑے اندرون ملک سمیت بیرون ممالک فروخت کئے جاتے ہیں مگر ان کی مناسب قیمت بلوچستان کیخواتین کو نہیں ملتی جو افسوسناک عمل ہے۔بلوچستان میں غربت بہت زیادہ ہے اور تعلیم کے حصول کے آسان ذرائع بھی موجود نہیں ہیں ۔اس لیے زیادہ تر بلوچستان کی آبادی تعلیم کی نعمت سے بھی محروم ہے۔بلوچستان میں خواتین کی تعلیم پر توجہ کی اشد ضرورت ہے جو حکومت بلوچستان بالکل نہیں دے رہی ہے۔ بلوچستان میں موجود ہ حکومت اقتدار میں ہونے کے ساتھ ساتھ بے اختیار لگ رہی ہے۔

مائی نصیباں جمالی جو مقامی کونسلر ہے انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں خواتین کے لئے خصوصی اسکیموں اورمختلف شعبہ جات میں ٹریننگ کی ضرورت ہے۔بلوچستان میں پچاس فیصد خواتین کے نام پر کی جانے والی اسکیمیں استعمال انکے گھر کے مرد کرتے ہیں ۔بلوچستان اسمبلی میں موجود خواتین کا بھی یہی حال ہے۔ مرکزی حکومت کو چاہئیے کہکونسلر خواتین کیلئے مختلف اسکیموں کوترجیحی بنیادوں پر تشکیل دے تاکہ بلوچستان کی خواتین بھی خود کفیل ہوکر معاشرے میں برابری کی بنیاد پر میدان میں آسکیں اور دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کریں۔

آمنت خاتون جو مقامی ٹیچر ہے انہوں نے بتایا کہ ہم نے تعلیم ٹاٹ سکول پہ حاصل کی تھی۔ آج میں خود ٹیچر بنی ہوئی ہو ں اور اپنے علاقے کے بچوں کو ٹاٹ سکول پہ بٹھا کر تعلیم دے رہی ہوں ۔ بہت دکھ ہوتا ہے، دنیا چاند پہ پہنچ گئی ہے ہم ابھی تک ٹاٹ پر سورہے ہیں۔حالات جیسے بھی ہیں، بلوچستان میں ماضی کی نسبت اب خواتین زیادہ تعداد میں زیور تعلیم سے آراستہ ہوکر اپنا لوہا منوارہی ہیں۔ مگر ان کیلئے بہترین روزگار کے مواقع پیدا نہیں کئے جارہے ۔

بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی مسلسل چار سالوں سے چل رہی ہے مگر پھر بھی کوئی عملی تبدیلی تعلیم کے میدان میں نہیں ہوئی ، افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومت بلوچستان نے ابھی تک سکول کی بچیوں کے لئے دسویں جماعت تک مفت کتابیں کاپیاں اور وردی دینے کا اعلان کیا تھا وہ صرف اعلان تک محدود ہے آخر کیوں؟

لال خاتون وہ ماں ہے جس نے آزادی کے سورج کو ابھرتے ہوئے دیکھا ۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرح وڈیرہ شاہی اور سرداری نظام میں پھنسا ہوا ہے۔ ہمیشہ بلوچستان میں خواتین کو پاؤں کی جوتی سمجھا گیا ہے۔ اگر بلوچستان میں خواتین کے لئے زیادہ سے زیادہ نوکریوں کے مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں تو بلوچستان کی خواتین بھی بہترین طریقے سے معاشی ومعاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں گی۔ بلوچستان میں اکثر والدین چونکہ خود تعلیم یافتہ نہیں ہیں اِس لیے وہ تعلیم کی اہمیت اور اِس کے ثمرات سے بھی نا واقف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بچپن سے ہی حصولِ تعلیم کی بجائے حصولِ رزق کی دوڑ میں لگا دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی زندگی کی بنیادی ضروریات کو پورا کر سکیں۔جب تک مرکزی حکومت بلوچستان کی خواتین کے مسئلہ کو ایک بہت بڑا مسئلہ نہ سمجھے گی اور اِس کو اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر نہ رکھے گی تب تک بلوچستان میں امن لانا بہت مشکل ہو جائے گا۔ بلوچستان بہت سی چیزوں میں سب سے بڑی رکاوٹ جنسی تفریق بھی ہے۔ آج بھی مقامی سردار غریب کے بچے کو نوکر سمجھتا ہے۔ پتا نہیں یہ دن کب آئے گا ؟جب ان سرداروں کی سوچ بدلے گی اور بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -