ہنی مون ختم، حکومتی کارکردگی، معاشی پالیسیوں سے عوام مضطرب ہیں 

ہنی مون ختم، حکومتی کارکردگی، معاشی پالیسیوں سے عوام مضطرب ہیں 

  



اسلام آباد سے سہیل چودھری 

دھرنے کا آسیب دارالحکومت کو اپنی گرفت میں لینے لگا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو اپنی حکومت کے پہلے سال تو خوب کھل کھیلنے کا موقع ملا۔ وزیراعظم عمران خان کو ایک سال تک تو کسی بڑے سیاسی چیلنج کا سڑکوں پر سامنا نہیں کرنا پڑا،تاہم پارلیمنٹ کے اندر چیئرمین سینٹ کے الیکشن جیسے بعض جاں گسل مراحل آئے، لیکن مہربانوں کی امداد سے انہوں نے ایسے مراحل بخوبی طے کر لئے، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے ہنی مون کا عرصہ ختم ہو گیا ہے۔ حکومتی کارکردگی اور معاشی پالیسیوں کی بدولت عوام میں اضطراب اور بے چینی بڑھ رہی ہے، بلکہ ایسا لگتا ہے کہ اگر حکومت کی پالیسیوں اور طرز حکمرانی کے اثرات نچلی سطح تک منتقل ہوتے نظر نہ آئے تو لوگوں کی بے چینی اور اضطراب کہیں غصہ میں تبدیل نہ ہونا شروع ہو جائے۔ اپوزیشن ویسے ہی پہلے سے سراپا احتجاج ہے۔ اپوزیشن کی بڑی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی عوام کو بہت حد تک باور کرانے میں کامیاب نظر آ رہی ہیں کہ حکومت کی احتساب کی مہم محض سیاسی انتقام ہے۔ درحقیقت حکومت بے لاگ، غیر جانبدارانہ، منصفانہ اور شفاف احتساب کا تاثر قائم کرنے میں کامیاب نظر نہیں آ رہی۔ ملک کے اندر سیاست سے جڑی ہوئی معاشی صورت حال کی زبوں حالی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو خود ملک کے چوٹی کے کاروباری افراد سے اشتراک کار کرکے انہیں تنبیہ کرنا پڑی کہ وہ ملک کی معاشی صورت حال کی بہتری کے لئے اپنا موثر کردار ادا کریں۔ اگرچہ پاکستان تحریک انصاف کے بعض وزراء ملک کی ان نامور کاروباری شخصیات کے بارے میں یہی کہہ رہے کہ یہ لوگ ستر سال میں صرف اپنے ذاتی مفادات کی ہی نگہبانی کرتے ہیں، ان سے کوئی توقع رکھنا عبث ہے،تاہم ان کاروباری شخصیات کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے بعد حکومت کی جانب سے کاروباری شعبوں کے لئے بعض رعائتیں دی گئی ہیں، لیکن تاحال یہ معلوم نہیں کہ حکومت  کی جانب سے بعض رعائتیں دینے کے اقدامات کیا واقعی ملکی معیشت کو سنبھالا دینے میں کوئی کردار ادا کریں گے کہ نہیں، تاہم دگرگوں معاشی صورت حال میں سیاسی بے یقینی میں اضافہ کے سائے بڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ شاید پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے گھائل زیرک  سیاستدان جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن بھی ملک کی معاشی صورت حال کے پیش نظر عوامی جذبات کو احتجاج میں ڈھالنے کے لئے پُرامید ہیں۔ سب کی نظریں مولانا فضل الرحمن کی وفاقی دارالحکومت میں دھرنے کی کال پر لگی ہوئی ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں ہر جگہ دھرنے کی کامیابی اور ناکامی کے بارے میں قیافے لگائے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت اپنے اقتدار میں پہلی دفعہ سیاسی طو رپر دباؤ میں نظر آ رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو پہلی بار ایک منظم جماعت کی جانب سے سڑکوں پر احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں جمعیت علمائے اسلام کے مدارس میں زیر تعلیم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد حتیٰ کہ ڈنڈا بردار فورس کی شمولیت بھی متوقع ہے، پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) اس احتجاج کی حمایت کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں، لیکن یہ جماعتیں اس احتجاج میں اپنی شمولیت کے حوالے سے کوئی حکمت عملی وضع نہیں کر سکیں، بلکہ قدرے کنفیوژن کا شکار نظرآ رہی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی اس ضمن میں ابھی اپنی حتمی حکمت عملی واضح کریں گی کہ ان کی کس درجے کی قیادت او رکس انداز میں احتجاجی دھرنے میں شرکت کرے گی، تاہم مولانا فضل الرحمن کی کال کے نتیجہ میں ڈنڈا برداروں کے دھرنے میں شامل ہونے سے بعض لوگوں کے تحفظات سامنے آ رہے ہیں، جبکہ ڈنڈا برداروں کی جانب سے کسی ممکنہ تشدد کو جواز بنا کر حکومت کی جانب سے دھرنے کے خلاف طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دارالحکومت میں دھرنے کے ملتوی ہونے کے امکانات پر بھی خوب قیافے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ بہت سے سیاسی پنڈت دھرنے کی کامیابی کے حوالے سے بھی مختلف اندازے لگا رہے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کمزور دھرنا جو حکومت پر کاری ضرب نہ لگا سکے۔ حکومت کو سیاسی تقویت بخشے گا، لیکن یہ کہنا بجا ہے کہ دھرنے کی کال سے ملک کے اندر حکومت کے خلاف ایک سیاسی عمل کا آغاز ہو گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے دھرنے کی کال دے کر ایک محدود سیاسی چال چلی ہے۔ دھرنے کے کامیاب اور ناکام ہونے کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کی اپنی اپنی تشریح ہو گی، لیکن دھرنا کامیاب ہو یا ناکام ہر دو صورتوں میں اس کا فائدہ اپوزیشن کو ہو گا۔ اب دیکھنا ہے کہ حکومت اس دھرنے سے نبردآزما ہونے کے لئے کیا حکمت عملی اپناتی ہے۔ کیا حکومت مولانا فضل الرحمن کو فری ہینڈ دے گی یا پھر مذاکرات کے ذریعے کوئی حل نکالنا چاہے گی یا طاقت کا بھرپور استعمال کیا جائے گا یا ایک سے زیادہ آپشنز کو اپنانے کی حکمت عملی بنائی جائے گی،لیکن حکومت کے اس ایشو پر زیر دباؤ ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دھرنے کے موضوع پر طویل بحث و تمحیص ہوئی۔اب دیکھنا ہے کہ حکومت اس چیلنج سے کیسے نبرد آزما ہوتی ہے۔ داخلی طور پر ملک کو درپیش ان سیاسی اور معاشی چیلنجز میں وزیراعظم عمران خان نے چین کا اپنا تیسرا دورہ بھی کیا اور سی پیک کو فعال اور سرگرم کرنے کے لئے چینی قیادت سے نئے عہد و پیماں بھی کئے، لیکن پاکستان کی معاشی صورت حال شاید اس بات کی اجازت نہیں دے رہی کہ سی پیک کے زیر التواء منصوبوں پر پاکستان بھرپور انداز میں کام کا آغاز کر سکے۔ دوسری طرف پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی کی جامع رپورٹ پیش کی جا چکی ہے لیکن ہنوز ایف اے ٹی ایف کی تلوار پاکستان کے سر پر لٹکی ہوئی ہے۔ بعض ابتدائی اطلاعات سے یہی اندازہ ہو رہا ہے کہ پاکستان کو شاید بلیک لسٹ میں نہ ڈالا جائے لیکن گرے لسٹ سے نکلنے کا معاملہ ابھی واضح نہیں ہے، تاہم پاکستان خطے میں سفارتکاری کے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے،تاکہ خلیج میں جنگ کے بادل چھٹ جائیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اس ضمن میں ایران کا ایک مختصر دورہ کیا ہے جس میں انہوں نے ایرانی قیادت سے عرب ممالک سے امن قائم کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا اب وہ سعودی عرب کے دورہ پر شاہ سلمان اور کراؤن پرنس محمد بن سلمان سے ملاقات کرکے انہیں اعتماد میں لیں گے۔ اب دیکھنا ہے کہ پاکستان کی کوششیں کس قدر بارآور ثابت ہوتی ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہو گاکہ وزیراعظم داخلی سیاسی امن کے لئے بھی کیا اقدامات بروئے کار لاتے ہیں۔

برطانوی شاہی جوڑا پرنس ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن پاکستان کے چار روزہ دورے پر پہنچ گیا۔شاندار استقبال ہوا، دونوں کی مصروفیات بھی شروع ہو گئیں۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...