جے یو آئی کا آزادی مارچ، دونوں اطراف تیاریاں عروج پر!

جے یو آئی کا آزادی مارچ، دونوں اطراف تیاریاں عروج پر!

  



جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن کی طرف سے حکومت مخالف آزادی مارچ کے اعلان کے بعد خیبرپختونخوا حکومت اور جے یو آئی آمنے سامنے کھڑی ہو گئی ہیں اور اس امر کا خدشہ ہے کہ دوبدو جنگ چھڑ جائے، جمعیت نے بھی اس مارچ کے حوالے سے اپنی تمام تر تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور خیبر میں بالخصوص خاصی سرگرمی دیکھنے کو مل رہی ہے جبکہ صوبائی حکومت بھی اس تناظر میں لنگوٹے کستی دکھائی دے رہی ہے۔ تجرباتی طور پر جے یو آئی پشاور سمیت مختلف علاقوں میں اپنے کارکنوں اور ہم نواؤں میں گرم جوشی پیدا کرنے کے لئے چھوٹی موٹی ریلیاں بھی نکال رہی ہے جبکہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو آزادی مارچ میں شامل کرنے یا ان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے بھی بڑے پیمانے پر تگ و دو جاری ہے، اس کے مقابلے میں خیبر حکومت بھی کسی قسم کے ممکنہ پر تشدد اقدامات کا مقابلہ کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے اس اعلان کے بعد کہ آزادی مارچ کو خیبرپختونخوا میں ہی روکا جائے گا اور اسلام آباد میں داخل ہونے کے تمام راستے مسدود کر دیئے جائیں گے، صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شوکت یوسفزئی بھی خاصے سرگرم دکھائی دے رہے ہیں اور گزشتہ روز انہوں نے جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے ڈنڈا بردار اور باوردی جھتے کی طرف سے اتوار کے روز پشاور میں نکالے جانے وا لی مارچ کو ریاستی عمل داری کے لئے کھلا چیلنج اور نیشنل ایکشن پلان کی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حرکت خوف و ہراس پھیلانے اور دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔ اس میں ملوث تمام لوگوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمات بھی درج کئے جائیں گے، ان کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ بڑی مشکلوں اور قربانیوں کے بعد اس ملک میں امن و امان قائم ہو ا ہے اور عالمی سطح پر ملک کا امیج بہتر ہو گیا ہے لیکن اس طرح کی حرکتوں سے بیرونی دنیا میں ملک کا امیج خراب ہو رہا ہے اور ہمیں ایک لاقانون ریاست کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن حکومت کسی کو بھی چند ایک مسلح یا ڈنڈا بردار لوگوں کو اکٹھا کرکے ریاستی عملداری کو چیلنج کرنے اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی کسی صورت اجازت نہیں دے گی۔

خیبرپختونخوا میں امور صحت کی صورت حال خاصی گھمبیر ہے اور یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ تشویشناک حد کو چھو رہی ہے، ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس کی ہڑتال ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور حکومتی نمائندوں یا اعلیٰ حکام کے اس حوالے سے ہڑتالیوں کے ساتھ مذاکرات بھی بار آور ثابت نہیں ہو رہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ لاکھوں مریض اور ان کے لواحقین کم و بیش دو ماہ سے ہسپتالوں میں خوار ہو رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ڈینگی اور پولیو سمیت کئی وبائی امراض بھی خوب جڑ پکڑتے جا رہے ہیں اور محکمہ صحت ان کی احتیاطی یا انسداد ی کارروائی کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا۔ ڈاکٹروں کے سروس سٹرکچر، تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر سہولیات کے معاملات تا حال حل طلب ہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث ہنگامی صورت حال بپا ہے۔ امور صحت کے حوالے سے ایک ہوش ربا اطلاع یہ آئی ہے کہ خیبرپختونخوا کے مختلف حصوں میں دور حا ضر کا سب سے خطرناک اور جا ن لیوا نشہ آئس نوجو ان نسل میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور تشویشناک صورتحال اختیار کرلی ہے اگر حکو مت اور انتظا میہ کی جا نب سے اس کی روک تھا م کیلئے سخت سے سخت اقدامات نہیں کئے تو آئندہ چند سا لو ں میں اس کے خطر نا ک نتا ئج سا منے آئیں گے، ایک ادارے کی طرف سے کئے گئے سروے کے مطا بق اس وقت پو رے پاکستان میں 68لاکھ افراد مختلف نشے کے عادی ہیں جبکہ صرف پشاور میں ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد شکار ہیں جس میں 20 ہزار خواتین شامل ہیں۔ طلباء کو سکولنگ کے دورا ن آئس نشہ میں مبتلا کرنے کا انکشاف بھی ہوا ہے، نشہ میں مبتلا 145 افراد جن میں 21خوا تین بھی شا مل ہیں کا علاج کرایا جا رہا ہے،گذشتہ ماہ ایک مقامی کا لج کے طلباء سکولنگ کے دورا ن آئس نشہ میں مبتلا کرنے کا انکشاف ہوا ہے جنہیں علاج کی غرض سے الخد مت نشہ بحالی سنٹر میں داخل کرایا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت اس طرف فوری توجہ دے اور مستقبل کے ان معماروں کو مفید اور صحت مند شہری بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔

سی پیک کے حوالے سے خاصی خوش آئند خبریں سننے کو مل رہی ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے پر سی پیک جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اعلیٰ سطح کا چینی وفد پاکستان بھی پہنچ گیا ہے۔ جس نے اعلیٰ حکام سے ملاقات بھی کی ہے اس دوران بتایا گیا کہ سی پیک منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ انفرا اسٹرکچر کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپ کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر 12 سو 70 کلو میٹر کی شاہراہیں تعمیر کرنے کا فیصلہ ہوا، سی پیک روٹ میں خیبرپختونخوا کے بیشتر علاقے شامل کئے گئے ہیں،گلگت سے چترال اور ڈیری غازی خان سے ڑوب تک شاہراہیں تعمیر ہوں گی۔ پشاور تا ڈیرہ غازی خان، سوات ایکسپریس وے فیز 2 سمیت قراقرم ہائی وے پر کام ہوگا۔ ادھر اہل خیبر بالعموم اور باسیان پشاور کو بالخصوص سفری سہولیات فراہم کرنے کے لئے شروع کئے گئے بی آر ٹی منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ پشاور بی آر ٹی منصوبہ سے متعلق جلد سرپرائز دیں گے منصوبہ اسی سال مکمل ہوجائے گا۔یہ منصوبہ اتنا بڑا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس کا خود افتتاح کریں گے۔ پشاور کے مختلف مقامات پر محنت کش دن رات اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں اور اب تو بی آر ٹی روٹ کے گرد و نواح میں صفائی کے انتظامات بھی خاطر خواہ دکھائی دیتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...