حکومت مہنگائی اور کاروباری سستی کو تسلیم کرنے سے منکر،معاشی استحکام کا دعویٰ

حکومت مہنگائی اور کاروباری سستی کو تسلیم کرنے سے منکر،معاشی استحکام کا ...

  



ملتان سے شوکت اشفاق

تحریک انصاف کی حکومت کو سیاسی سے زیادہ معاشی مسئلہ درپیش ہے جو دراصل سیاسی انارکی کی طرف لے کر جارہا ہے،سخت معاشی مانیٹری پالیسی کا حکومتی موقف شاید درست ہو مگر معاشی سیاسیات میں اسے کسی بھی پالیسی سازوں کی ناکامی ہی قرار دیا جاتا ہے۔المیہ یہ ہے کہ حکومت مہنگائی اور کاروباری سست روی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے،وزراء کہتے ہیں کہ ہم معاشی استحکام کی طر ف جارہے ہیں اور آئندہ چند ماہ میں اس پر قابو پاکر مہنگائی کو کنٹرول کرلیں گے،لیکن ان حکومتی ترجمانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ جس دن وہ باجماعت یہ بیان داغتے ہیں ٹھیک اسی رو زکسی نہ کسی بین الاقوامی ادارے کا ایسا تجزیہ یاپھر اعداد و شمار آجاتے ہیں جو ان وزراء کے وعدوں کو یکسر مسترد کردیتے ہیں۔اس مرتبہ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب حکومت کے ترجمان اور معاشی پالیسی ساز یہ دعویٰ کررہے تھے کہ ملکی معیشت درست سمت میں چل پڑی ہے،عالمی بینک جس نے ہمیں اربوں ڈالر قرض بھی دے رکھا ہے اور مالی امداد علاوہ ہے،اس کے باوجود وہ ہماری معاشی سرگرمیوں پر گہری نظر بھی رکھتا ہے،نے بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑ دیا ہے اور اعداد و شمار جاری کئے جن کے مطابق بڑھتے ہوئے غیر ملکی قرضوں کی وجہ سے معیشت غیر محفوظ رہنے کا خدشہ ہے،یہی وجہ ہے کہ اس سال ترقی کی شرح محض دو اعشاریہ بڑھے گی مگر عالمی بینک 2020ء میں بھی مہنگائی کی شرح 13فیصد بڑھنے کی بات کررہا ہے۔جس کی وجہ شرح نمو میں کمی ہے جو مہنگائی بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہوسکتی ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی ردو بدل کے مطابق کمی نہ کرنا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔اگر مہنگائی کے جن کو قابو کرنا ہے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لانا ہوگی۔عالمی بینک کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2021ء میں پاکستان کے قرضوں کی شرح میں جی ڈی پی چھ فیصد ہونے کا امکان ہے،مطلب مزید مہنگائی اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی پیشگی نوید ہے،شاید اس لئے و زیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں احساس سیلانی لنگر خانہ کی افتتاحی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کہا تھا کہ لوگ صرف 13ماہ میں نیا پاکستان مانگتے ہیں۔اب کپتان صاحب کو یہ کون بتائے کہ اس میں لوگوں کا کیا قصور ہے کیونکہ جناب نے ہی جب اپنی حکومت کا سو روزہ پلان پیش کیا تھا تو اس میں واضع طور پر کہا تھا کہ سو دنوں میں 50لاکھ نئے گھر،ایک کروڑ نوکریاں، جنوبی پنجاب صوبے کا قیام اور ملک سے غربت،بے روزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ کرتے ہوئے نیا پاکستان بنائیں گے۔ اب اگر پرانے پاکستان کے مکین100دنوں کی بجائے 13ماہ بعد نئے پاکستان کا مطالبہ کر بھی رہے ہیں تو اس میں ان کی کیا غلطی ہے۔اگر ہے تو وہ صرف اور صرف یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن)کو شکست سے دو چار کرتے ہوئے آپ کو اور آپ کے اتحادیوں کو کامیاب کرایا ہے کیونکہ وہ توآپ کو اپنا نجات دہندہ سمجھ بیٹھے تھے وگر نہ پاکستان کے بھولے، بھالے عوام کو کیا معلوم کہ سیاستدان الیکشن کمپین میں جتنے دعوے اور وعدے کرتے ہیں وہ سب فرضی اورحصول اقتدار کیلئے کیے جاتے ہیں وگرنہ یہ سب اندر سے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں کیونکہ جب انہیں اقتدار کی منزل مل جاتی ہے تو پھر یہ سب کچھ ایسے بھول جاتے ہیں جیسے انہوں نے کچھ کہا بھی نہ ہو۔

روز بروز ابتر ہوتے معاشی حالات اس بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ مہنگائی کے ہاتھوں مجبور عوام جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ بھی کھڑے ہوسکتے ہیں اور بظاہر لگتا ہے کہ حکومتی ”سیانے“اس بات کو بھانپ چکے ہیں اس لئے وہ روزانہ کی بنیاد پر کوئی عملی سیاسی قدم اٹھانے کی بجائے اب جائز ناجائز کے چکر میں پڑ کر دھمکیوں پر بھی اتر آئے ہیں۔اب ان جائز ناجائز اور دھمکیوں کاکیا اثر ہوگا اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔لیکن دوسری طرف پیپلز پارٹی بھی سیاسی طور پر متحرک نظر آرہی اور ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی جنوبی پنجاب کو ہی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کیلئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 10روز کیلئے ملتان آنا چاہتے ہیں اس بات کا انکشاف سید یوسف رضا گیلانی نے کیا ہے اور بتایا کہ مقصد اس خطے میں پارٹی کو متحرک کرنا ہے۔سابق وزیر اعطم نے موجودہ حکومت پر بھر پور تنقید بھی کی اور لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کرنے کا ذمہ دار بھی قرار دیا،ان کا کہنا تھا کہ اب ہم عوام کیلئے کھڑے ہورہے ہیں،عوام کے حق کیلئے آواز کہیں سے بھی اٹھے گی ہم اس کا ساتھ دیں گے یعنی حکومت کے خلاف مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں ہمراہ ہوں گے۔اب یہ کیسے ہوگا اس کے لئے انتظار کرنا پڑے گا۔ مگر سید یوسف رضا گیلانی شاند ار روایت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے دیرینہ سیاسی حریف حاجی سکندر حیات خان بوسن کے گھر ان کی عیادت کیلئے اپنے بیٹوں سمیت گئے اور ان کی صحت کے حوالے سے دریافت کیا۔واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر حاجی سکندر حیات خان بوسن گردو ں کے عارضے میں مبتلا تھے اور چند دن قبل ہی کراچی سے ٹرانسپلانٹ کروا کر گھر پہنچے ہیں۔یہ بات بھی اہم ہے کہ گزشتہ تین سے زیادہ دہائیوں سے ایک دوسرے کے خلاف انتخابات میں نبرد آزما رہنے کے باوجود سید یوسف رضا گیلانی نے ایک ایسی مثال قائم کی ہے جو سیاسی بونوں کیلئے ایک خوبصورت مثال ہے اور خواہش ہے کہ ایسی مثال اور بھی سیاسی حریف اپنائیں تاکہ اس ملک میں سیاست کا ایک نیا باب شروع ہوسکے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ہفتہ وار دورہ ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت بحرانوں کی صورت میں ملی،خزانہ خالی تھا ان حالات میں ہمیں مشکل فیصلے کرنے پڑے،ڈالر مہنگا ہوگا تو مہنگائی بھی بڑھے گی تاہم ملکی معیشت استحکام کی طرف آرہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ چین کے بہت بڑے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری خواہش مند ہیں،سرمایہ کاروں کیلئے ماحول بنا رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کار پاکستان میں آئیں،غیر ملکی سرمایہ کار ی بڑھے گی تو ملکی معیشت میں اضافہ ہوگا اور نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر ملکی معیشت میں بہتری کسی صورت بھی ممکن نہیں ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ملک میں ہر طرف احتجاج اور ہڑتالوں کا سماں ہوگا تو کون سے سرمایہ کار ملک میں سرمایہ کاری کرنا پسند کریں گے۔اگر موجودہ حکومت حقیقی معنوں میں ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کی خواہش مند ہے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے ملک میں قائم غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنا ہوگا، تب کہیں جاکر سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گے۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 2


loading...