پارلیمینٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ کی توقعات پر پورا اترے

پارلیمینٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ کی توقعات پر پورا اترے

  



اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو سلیقے کے ساتھ یاد دِلا دیا ہے کہ صدارتی حکم نامے کے ذریعے آئین کی دفعات میں ترمیم نہیں کی جا سکتی،چیف جسٹس اطہر مِن اللہ نے الیکشن کمیشن کے دو نئے ارکان کی تعیناتی کا معاملہ پارلیمینٹ کو بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ ڈیڈ لاک ختم کرائیں۔ گزشتہ روز سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وفاقی حکومت کی جانب سے ایک صفحے پر مشتمل تحریری جواب عدالت میں جمع کرایا،جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہونے تک سماعت ملتوی کی جائے، سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں بھی درخواستیں دائر ہوئی ہیں۔اس موقع پر چیف جسٹس اطہر مِن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن تقریباً غیر فعال ہو چکا ہے، پارلیمینٹ پر اعتماد ہے وہ اس معاملے کو حل کر لے گی کیا کوئی چاہے گا کہ پارلیمینٹ کے فورم پر یہ معاملہ حل نہ ہو،کیا پارلیمینٹ اتنا چھوٹا معاملہ بھی حل نہیں کر سکتی، سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو یہ معاملہ مشاورت سے حل کرنا چاہئے، چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت ابھی تک ڈیڈ لاک کا دفاع کرنا چاہتی ہے آئینی اداروں کو غیر فعال نہیں ہونا چاہئے،کیا حکومت یہ چاہتی ہے، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے وفاقی حکومت سے ہدایات لینے کی اجازت دی جائے، عدالت نے اپنے تحریری حکم میں قرار دیا کہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل213 اور218 کے مطابق نہیں ہوئی۔

الیکشن کمیشن کے دو ارکان سندھ اور بلوچستان کا معاملہ ہی حل ہونے میں نہیں آ رہا کہ دسمبر میں موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی مدت بھی ختم ہو رہی ہے۔اگر دو ارکان کے تقرر پر اب تک ڈیڈ لاک موجود ہے تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ جب دسمبر میں چیف الیکشن کمشنر کی مدت ختم ہو جائے گی تو کیسا ڈیڈ لاک پیدا ہو گا،کیونکہ حکومت نے اگر دو صوبوں کے ارکان کی تعیناتی میں آئینی شقوں کا خیال نہیں رکھا تو ان حالات میں کس طرح توقع کی جائے کہ وہ نئے چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کرتے وقت آئینی دفعات کی پیروی کرے گی،کیونکہ دو ارکان کے تقرر کے معاملے میں حکومت واضح طور پر آئینی دفعات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نظر آئی پھر حکومت نے اس معاملے میں صدرِ مملکت کو بھی ملوث کر دیا اور اُن سے ایسا کام کرایا، جو اُن کے منصب کے شایانِ شان نہ تھا،انہوں نے اس انداز میں دو ارکان کا تقرر کر دیا،جس کا انہیں کوئی اختیار نہیں تھا،صدرِ مملکت نے دو ارکان کا تقرر ایسے کیا جیسے انہیں اس معاملے میں صوابدیدی اختیار حاصل ہو،حالانکہ یہ اختیار اُن کے پاس نہیں ہے،آبرو مندانہ اور پُروقار طریقہ تھا کہ جب یہ معاملہ صدرِ مملکت کے پاس گیا تھا تو وہ آئینی پوزیشن سلیقے سے حکومت کو سمجھا دیتے اور بتا دیتے کہ اُن کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ آئینی طریقے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت کی خواہش کے مطابق ارکان کا تقرر کر دیں،لیکن انہوں نے صدرِ مملکت کے اعلیٰ منصب کا لحاظ کئے بغیر ایسا رویہ اختیار کیا جو ایک پارٹی کارکن سے تو متوقع تھا، صدرِ مملکت سے نہیں، انہوں نے اپنی پارٹی کی حکومت کی خواہش تو پوری کر دی،لیکن آئینی منشا کا لحاظ نہ رکھا، اب جب یہ معاملہ مختلف ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے تو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے میں پہل کرتے ہوئے حکومت کو بالواسطہ طور پر جتلا دیا ہے کہ اس نے الیکشن کمیشن کے دو صوبائی ارکان کا تقرر کرتے وقت آئینی طریق ِ کار کو نظر انداز کیا جو یہ ہے کہ وزیراعظم قائد حزبِ اختلاف کی مشاورت سے ارکان کا تقرر کریں،لیکن وزیراعظم نے بامعنی اور نتیجہ خیز مشاورت کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے ڈیڈ لاک پیدا ہونے کا تاثر دے کر اس انداز سے صدرکو تقرر کرنے کی سفارش کر دی جیسے یہ معاملہ صدر کا صوابدیدی اختیار ہو،جو ایک زمانے میں واقعتا ً تھا لیکن اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ ختم ہو گیا۔ اب جو حکومت الیکشن کمیشن کے دو ارکان بروقت مقرر نہیں کر سکی، جو مدت ختم ہونے کے بعد ہو جانا چاہئے تھے اس سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ دسمبر میں خالی ہونے والی چیف الیکشن کمشنر کی سیٹ پر خوش اسلوبی سے تقرر کرے گی جو نسبتاً زیادہ مشکل کام ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں گیند پارلیمینٹ کی کورٹ میں پھینک دی ہے اور سپیکر اور چیئرمین سینیٹ سے کہا ہے کہ وہ مل کر یہ معاملہ حل کر دیں،جو زیادہ بڑا نہیں ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ سے جو توقعات وابستہ کی ہیں امید ہے وہ ان پر پورا اُتریں گے اور اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کر دیں گے،کیونکہ بادی النظر میں حکومت نے دو ارکان کی تعیناتی آئین کے مطابق نہیں کی،اِسی لئے چیف الیکشن کمشنر نے دونوں ارکان سے حلف نہیں لیا،لیکن حکومت نے اسے ضد اور اَنا کا مسئلہ بنا لیا اور اب تک اس معاملے پر نظرثانی نہیں کی،اب اسلام آباد ہائی کورٹ نے پارلیمینٹ کو یہ ذمے داری سونپی ہے تو توقع کرنی چاہئے کہ وہ اس پر پورا اُترے گی اور جلد اس معاملے میں کوئی فیصلہ کر دے گی۔یہ واقعی کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے جسے مزید لٹکایا جائے اور کسی اَنا کی تسکین کا بندوبست کیا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ