مہنگائی،وزراء اعلیٰ طلب!

مہنگائی،وزراء اعلیٰ طلب!

  



وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے مطابق پیر کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دیگر فیصلوں کے علاوہ مہنگائی پر قابو پانے کے لئے اقدامات کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے تشویش کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے،اِس سلسلے میں وزیراعظم نے صوبائی وزراء اعلیٰ کو اسلام آباد طلب کیا ہے،جو جمعہ کو آئیں گے۔معاون خصوصی برائے اطلاعات نے یہ وضاحت نہیں کی وزراء اعلیٰ ریاستی اکائیوں کی حیثیت سے بلائے گئے ہیں یا حکومتی اور جماعتی اہلیت کے تحت طلب کیے گئے ہیں۔بہرحال بریفنگ کے دوران یہی کہا گیا کہ وزراء اعلیٰ کو طلب کیا گیا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وزراء اعلیٰ ہی کو بلایا گیا ہے۔یوں اجلاس میں بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزراء اعلیٰ ہی شریک ہوں گے،اور مہنگائی پر قابو پانے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ یوں یہ اجلاس سندھ کے وزیراعلیٰ کے بغیر ہو گا، اس سے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ سندھ میں شاید مہنگائی ہے ہی نہیں۔ معاون خصوصی کی طرف سے بریفنگ کے دوران یہ ہدایت بھی گرانی کے حوالے سے ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ اب یہ احساس ہوا کہ شہریوں کی چیخیں یونہی نہیں نکل رہیں کہ مہنگائی کا سونامی آیا ہوا ہے جو اُترنے کا نام ہی نہیں لیتا۔وزیراعظم نے جو تشویش ظاہر کی وہ رسمی ہی لگتی ہے کہ مہنگائی کا تعلق مارکیٹ سے اور اسے روکنے کے لئے ضرورت سے زیادہ پیداوار اور مارکیٹ میں مال کی ضرورت ہے اور یہی وہ عمل ہے جو مہنگائی کا ذریعہ بھی بنتا ہے،اِس لئے پیداواری اور درآمدی یونٹوں سے لے کر صارف تک کے تسلسل کی پڑتال لازم ہے اور یہ دیکھنا ہو گا کہ کون کہاں ڈنڈی مار رہا ہے۔ توقع کرنا چاہئے کہ جمعہ کو ہونے والے اس اجلاس میں باریک بینی سے حالات کا جائزہ لے کر مارکیٹ کے اصولوں پر ضرورت کے مطابق اشیاء مارکیٹ میں پہنچیں اور ان کے نرخ بھی مناسب ہوں،تاہم مارکیٹ کمیٹیوں کو زیادہ بااختیار ہونا چاہئے،حکومت کو خود اپنی پالیسیوں پر نظر ڈالنا چاہئے کہ کہاں اور کس وجہ سے مہنگائی ہو رہی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ