ایران،سعودی کشیدگی اور پاکستان کی سہولت کاری

ایران،سعودی کشیدگی اور پاکستان کی سہولت کاری
ایران،سعودی کشیدگی اور پاکستان کی سہولت کاری

  



ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر پاکستان نے اپنے طور پر سہولت کاری شروع کی ہے۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم عمران خان نے دونوں ملکوں کادورہ کیا پہلے وہ ایران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی اور ایرانی سپریم کمانڈر علی خامنہ ای سے ملاقاتیں کیں جو مفید رہیں، جس میں ایرانی قیادت نے خطے کے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتقاق کیا اور اس امر کا اظہار عمران خان اور صدر حسن روحانی نے ایک مشترکہ کانفرنس میں کیا۔ طویل عرصہ سے سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی کے باعث سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔ دوملکوں کے درمیان اگر سفارتی تعلقات بھی ختم ہوجائیں تو یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ان ملکوں کے درمیان مسائل پیچیدہ ہیں، جن کا حل ناممکن تو نہیں، مگر مشکل ضرور ہوتا ہے، لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض ممالک ایک دوسرے کے خلاف پیچیدہ اور مشکل معاملات میں بھی سفارتی تعلقات قائم رکھتے ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اسلامی رشتے کا ایک مضبوط تعلق موجود ہے اور اسی بنا پر ہر دو ممالک کو چاہیے کہ وہ سفارتی تعلقات قائم کریں اور عمران خان نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو استوار رکھنے کے لئے جو کوشش کی ہے دعا ہے کہ وہ کامیاب ہو اور ہم وزیر اعظم پاکستان سے کہیں گے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو بحال کرانا اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ ازاں بعد دیگر مسائل کے حل کی کوششیں جاری رکھیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل اور ان جیسی بعض اسلام دشمن طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جنگ ہو، تاکہ وہ اس سے مالی اور دیگر فوائد حاصل کر سکیں۔

وزیر اعظم عمران خان کے اس اقدام سے سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی جھلک نظر آئی جو مسلم امہ کے اتحاد کے داعی تھے اور اس حوالے سے 22سے 24 فروری 1974ء میں لاہور میں اسلامی ممالک کے سربراہوں کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی، جس کا اہتمام بھٹو نے کیا تھا، جس میں دور رس نتائج کے حامل فیصلے کئے گئے۔ جہاں تک عمران خان کی سعودی، ایران سہولت کاری کا تعلق ہے تو یہ ایک اچھا اقدام ہے، اسی طرح انہیں چاہیے کہ وہ پاکستان کے اندرونی مسائل پر بھی ٹھوس اقدامات کریں اور خصوصاً ملک کے داخلی اور سیاسی مسائل پر فوراً توجہ دیں، اس وقت جو فوری اہمیت کا حامل مسئلہ ہے وہ ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری۔اس پر جس قدر جلد ممکن ہو قابو پایا جائے کہ اس سے عوام میں اضطراب پایا جاتا ہے، جس میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ملکی و قومی مسائل کے حل کے لئے تنہا حکومت ہی کافی نہیں اس کے لئے ملک کی دوسری سیاسی قوتوں کا اشتراک بھی ضرور ی ہے کہ قومی اسمبلی کی 342 نشستوں میں 177 پر مشتمل پاکستان تحریک انصاف کی مخلوط حکومت ہے، جبکہ 165اراکین کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے جو خاصی تعداد ہے، جہاں تک سینیٹ کا تعلق ہے تو اس میں اپوزیشن کی اکثریت ہے، اسے ایک سیاسی کرامت ہی کہہ سکتے ہیں، جس کے باعث سینیٹ کے چیئر مین صادق سنجرانی تحریک عدم اعتماد سے محفوظ رہے۔ ہم اگر وزیرعمران خان سے یہ کہیں تو بے جانہ ہوگا کہ وہ قوم سے خطاب کریں اور اپوزیشن کے لوگوں کو مل بیٹھ کر ملکی و قومی مسائل کو حل کرنے کی دعوت دیں اور مخالف سیاسی رہنماؤں کو کرپٹ، چور اور ڈاکو کہہ کر دیوار سے نہ لگائیں۔ ویسے بھی کہنے کو تو ہم جمہوری ملک ہیں، مگریہ ہم جیسے ترقی پذیر ممالک کا المیہ رہا ہے کہ کل کی اپوزیشن آج جب حکومت میں آتی ہے تو وہ کل کے حکمرانوں اور آج کی اپوزیشن کوخاطر میں نہیں لاتی، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ایسا نہیں ہوتا وہ ملکی و قومی مسائل کو متحد ہوکر حل کرتے ہیں اور اگر وہاں کسی سیاستدان پر کرپشن کے الزامات ہوں بھی تو وہ عدالتوں کے فیصلوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ ان کا میڈیا ٹرائل نہیں کرتے۔

یہاں ہم اپوزیشن کو بھی یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ پاکستان کسی ایک فرد یا جماعت کا نہیں ہے ہم سب کا ملک ہے اور اس کے مسائل کا حل ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے حکومت مخالف سیاستدانوں کو بھی چاہیے کہ وہ آگے بڑھیں اور ملک سے غربت،مہنگائی اور دیگر مسائل جن کا ملک کو سامنا ہے کے خاتمے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں اوراس کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ یہی درخواست ہماری حکومت سے بھی ہے، کیونکہ برسرا قتدار طبقہ پر یہ ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلے۔اس وقت ہمیں بیرونی اور اندرونی خطرات لاحق ہیں، ہمارا ازلی دشمن بھارت اس تاک میں ہے کہ وہ ہمارے سیاسی انتشار سے فائدہ اٹھا کر ہمیں نقصان پہنچائے اس سے پہلے کہ ایسا کوئی لمحہ آئے ہم تمام تر سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرکے جیسا کہ ہم نے کشمیر کے مسئلے پر کیا اور دشمنان پاکستان کو متحد ہوکر یہ دکھا دیں کہ ہم ایک ہیں، جس سے انہیں مایوسی ہوگی اور اسی میں ہماری جیت ہے۔

جہاں تک بیرونی خطرات کا تعلق ہے تو الحمد للہ! ہم ایک ایٹمی و میزائل قوت ہیں اور اپنے دشمن کا دندان شکن جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔حقیقت ہے کہ وزیر اعظم بننے سے پہلے عمران خان دو مرتبہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہائش گاہ پر جا کر ان سے ملاقات کر چکے ہیں، مگر حکومت میں آنے بعد انہوں نے ایسا نہیں کیا اگر وہ خود چل کر ڈاکٹر صاحب کے پاس جائیں تو اس پرعوام میں ان کی توقیر و عزت میں بھی اضافہ ہوگا کہ محسن پاکستان قومی ہیرو ہیں اور پاکستانی قوم انہیں دل و جان سے پیار کرتی ہیں۔ اس اقدام سے عمران خان کی مقبولیت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

مزید : رائے /کالم