شہید ِ ملت لیاقت علی خان،امریکہ…… اور ہندوستان

شہید ِ ملت لیاقت علی خان،امریکہ…… اور ہندوستان
شہید ِ ملت لیاقت علی خان،امریکہ…… اور ہندوستان

  



پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان کے امریکہ میں استقبال کے لئے نہ صرف سرخ قالین بچھایا گیا تھا،بلکہ امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین نے وزیراعظم اور ان کے وفد کو لندن سے واشنگٹن لانے کے لئے صدرِ امریکہ کے لئے مختص طیارہ انڈیپنڈنٹ بھیجا تھا۔یہی نہیں،بلکہ 3مئی1950ء کو جب یہ طیارہ واشنگٹن ڈی سی کے ایئر پورٹ پر اترا تو صدر ٹرومین اپنی پوری کابینہ کے ہمراہ استقبال کے لئے موجود تھے۔ معروف صحافی اور دانشور شجاع نواز نے پاکستان کی تاریخ کے بارے میں اپنی کتاب ”کراسڈ سورڈز“ میں استقبال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ میں کسی مہمان کو خوش آمدید کہنے کے لئے یہ اعلیٰ ترین اعزاز تھا جو لیاقت علی خان کو دیا گیا۔

شجاع نواز کے مطابق اس زمانے کی ایک تصویر میں صدر ٹرومین وائٹ ہاؤس کے سامنے واقع بلیئر ہاؤس میں اپنی بیوی کے ہمراہ پاکستانی مہمانوں کے حصار میں نظر آ رہے ہیں جبکہ اس کی بیوی غراروں میں ملبوس باوقار مہمان خواتین کے ہمراہ کیمرے کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی ہیں۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد اس کے وزیراعظم کے اتنے شاندار استقبال کا ماجرا پڑھ کر ممکن ہے ان قارئین کو حیرت ہو جو بار بار موبائل پرگردش ہونے والی ویڈیو میں ایک عرصے سے صدر ایوب کے استقبال کا منظر دیکھتے چلے آ رہے ہیں اور اسے ہی کسی پاکستانی سربراہ کا امریکہ میں شاندار استقبال سمجھ کر فخر سے پھولے نہیں سماتے۔ان قارئین کو بھی جنہوں نے حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ کو ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے دیکھا یہ جان کر حیرت ہو سکتی ہے کہ پاکستانی وزیراعظم کو گلے لگانے کے لئے بھی کبھی امریکی صدر نے اس سے زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ کیا تھا۔

یہ اور بات ہے کہ کایا پلٹ کی اس ڈرامائی کہانی نے ہندوستان کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے دورہئ امریکہ کی ناکامی سے جنم لیا تھا، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لیاقت علی خان کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان قریبی تعلقات کا پہلا باب لکھنے کا موقع مل گیا۔سفارتی داؤ پیچ پر مبنی اس سنسنی خیز کہانی کی کڑیاں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان موجودہ تعلقات سے کچھ یوں جا ملتی ہیں کہ ٹرمپ اور مودی میں جس قربت کا مظاہرہ آج دیکھنے میں آ رہا ہے ایسے ہی کسی عہد و پیمان کی تمنا امریکہ نے ستر سال قبل کی تھی، جب ہندوستان برطانیہ کی غلامی سے نیا نیا آزاد ہوا تھا۔امریکہ نے بھی کیونکہ برطانیہ کے خلاف علم بغاوت بلند کر کے آٹھ سال کی جنگ کے بعد آزادی حاصل کی تھی، اِس لئے اس کا خیال تھا کہ برطانیہ کے خلاف جدوجہد کی یہ قدر مشترک دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لے آئے گی۔

امریکہ کو ہندوستان سے قربت کی خواہش چین کی وجہ سے بھی تھی،جہاں کمیونسٹ انقلاب آ چکا تھا اور جس کے خلاف امریکہ کو ایک بڑا اتحادی درکار تھا۔ چنانچہ اکتوبر1949ء میں پنڈت نہرو کو امریکہ کے دورے کی دعوت دی گئی،جس سے قبل امریکہ کے میڈیا اور سیاست دانوں نے اس دورے کی خوب پبلسٹی کی۔وہ ہندوستان سے بہت بڑی توقعات لگائے ہوئے تھے اور ان کا خیال تھا کہ ہندوستان دُنیا کی سٹیج پر امریکہ کے ایک اہم دوست کی حیثیت سے کردار ادا کرے گا،لیکن دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے پنڈت نہرو اونچی ہواؤں میں تھے۔ وہ دُنیا میں غیر جانبدار بلاک کے سربراہ بننا چاہتے تھے۔اس زعم میں ان کا رئیسانہ اور ناصحانہ رویہ امریکی قیادت کے مزاج سے لگا نہ کھا سکا۔رہی سہی کسر ان کے روس کی جانب جھکاؤ اور نجی محفلوں میں امریکہ پر تنقید اور ملامت نے پوری کر دی،چنانچہ نہرو کے دورے کے بعد، جسے امریکی مورخ رابرٹ مکموہن نے سرد جنگ پر اپنی کتاب میں اس ملک کا ناکام ترین دورہ لکھا ہے۔

ہندوستان کے بارے میں امریکہ کا رویہ تبدیل ہو گیا۔ ہندوستان کی زبردست امداد کا ذکر ختم ہو گیا، اِس لئے اپنے مسائل کے حل کے لئے اسے عالمی بنک کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔اقوام متحدہ میں بھی امریکہ نے ہندوستان پر کشمیر سے فوجیں ہٹانے کے لئے دباؤ بڑھا دیا اور اس کی توجہ ہندوستان سے ہٹ کر پاکستان پر مرکوز ہو گئی،جو کمیونزم کے خلاف دفاعی پشتہ بننے کے لئے تیار تھا۔یہ وہ صورتِ حال تھی جس میں لیاقت علی خان نے روس کے دورے کا خیال ترک کر کے جس کے لئے روس کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہونے میں تاخیر ہو رہی تھی، امریکہ کے دورے کی دعوت یہ تاثر دیتے ہوئے قبول کرلی کہ انہوں نے امریکہ کی خاطر روس کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔انہوں نے امریکہ میں اپنے قیام کے دوران میزبانوں پر فوجی امداد کے حصول کے لئے زور دیا،جس کی پاکستان کو سخت ضرورت تھی۔ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں شمالی کوریا کارروائی میں امریکہ کی حمایت کر کے بھی پاکستان نے امریکہ کا دِل جیت لیا،لیکن کوریا میں پاکستانی فوج بھیجنے کے تقاضے سے وہ پہلو بچا کر نکل گیا۔

اس سلسلے میں اپنی سرحدوں پر مشرق میں ہندوستان اور مغرب میں افغانستان کے حوالے سے دفاعی تقاضوں کو عذر کے طور پر پیش کیا گیا۔اگرچہ امریکہ نے فوج بھیجنے کے سلسلے میں ایک بریگیڈ کو پوری طرح مسلح کرنے کی پیشکش بھی کی،لیکن پاکستان اپنے موقف پر قائم رہا۔لیاقت علی خان کی امریکہ آمد سے گیارہ سال بعد امریکہ میں دوسرا بڑا شاندار استقبال یقینا صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں کا ستمبر1961ء میں ہوا۔امریکی جاسوس طیارہ جو پشاور کے قریب بڈھ بیر کے ہوائی اڈے سے اڑا تھا،روس میں گرائے جانے کے ایک سال بعد صدر ایوب کے لئے بھی امریکہ میں سرخ قالین بچھا دیا گیا۔پشاور اور بڈھ بیر سے امریکی جاسوس طیارے یوٹو اڑانے کی منظوری ایوب خان نے 1958ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد دی تھی۔ طیارے کے زندہ بچ جانے والے امریکی پائلٹ کے ذریعے معلومات حاصل ہونے پر روس نے اس بات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور بدلہ لینے کی دھمکی دی تھی،جو اس نے1971ء میں پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کی سازش میں بھارت کا ساتھ دے کر لے بھی لیا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ روس کی مدد کے بغیر بھارت اپنے مذموم مقاصد کبھی پورے نہ کر پاتا۔صدر ایوب کے استقبال کے لئے بھی امریکہ کے اس وقت کے صدر جان ایف کینیڈی اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایئر پورٹ پر موجود تھے،جو بہت بڑا اعزاز تھا۔صدر ایوب کے شاندار استقبال کے موقع پر امریکی فوج کے بینڈ نے قومی ترانے کی جو دھن بجائی تھی اس کی گونج رفتہ رفتہ مدھم پڑتی گئی اور وقت کے ساتھ ساتھ روس اور چین میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے باعث امریکہ کی پالیسیاں بھی بدلتی گئیں۔ادھر ہندوستان کی معاشی پالیسی میں بھی سوشلزم کی جگہ سرمایہ دارانہ نظام کی حوصلہ افزائی کے لئے جس سے امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیوں کے لئے ہندوستان میں سرمایہ کاری کے دروازے کھل گئے۔امریکی مصنوعات کے لئے ایک بڑی مارکیٹ ہونے کے سبب امریکہ کا جھکاؤ ہندوستان کی طرف تیزی سے بڑھنے لگا۔اس کے علاوہ اس دفعہ بھی امریکہ کو چین کے مقابلے میں اتحادی کی ضرورت تھی، کمیونزم کا راستہ روکنے کے لئے نہیں، بلکہ ایک سپرپاور کی حیثیت سے چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کا زور توڑنے کے لئے۔اس دفعہ امریکہ کے لئے میدان اس لحاظ سے بھی ہموار تھا کہ ہندوستان میں منتخب ہو کر آنے والی ایک نسل پرست قیادت امریکہ کو خوش آمدید کہنے کے لئے تیار بیٹھی تھی۔

اس تناظر میں شہید ملّت لیاقت علی خان کی 68ویں برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ انہوں نے موقع محل کے حساب سے موثر حکمت ِ عملی اپناتے ہوئے ستر سال قبل امریکہ سے دوستی کے جس سفر کا آغاز کیا تھا اب اسے نئے موڑ کا سامنا ہے،جس کا سنگ ِ میل امریکہ نہیں،بلکہ چین ہے،جو امریکہ کی طرح ایک سپرپاور بن چکا ہے۔ چین سے پاکستان کی دوستی دُنیا کی سیاست کے نئے ماحول میں اِس لئے بھی اہم ہے کہ سی پیک کے ذریعے چین نے اپنے علاوہ روس،افغانستان، آذر بائیجان،تاجکستان اور دیگر کئی ممالک کو گرم پانیوں تک آسانی سے رسائی کے مواقع فراہم کر کے دفاعی حکمت ِ عملی کے لحاظ سے بھی خطے میں پاکستان کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔یہ پیش رفت اپنی جگہ،لیکن دوسری طرف تشویش کا بھی ایک پہلو یہ ہے کہ اس دوران ہندوستان ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر ابھرا ہے،جس کے نتیجے میں خطے سے لے کر عالمی سطح تک اس کی اہمیت بھی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔پاکستان دفاع کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر جن میں ایٹمی میزائل بھی شامل ہیں ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ ہندوستان سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہے،لیکن معیشت کے میدان میں ہندوستان کے مقابلے میں ہمارا جو حال ہے اس میں ہمارے پاس سوائے شرمندگی کے اور کوئی چارہ نہیں۔

کیا اس میں کوئی شک ہے کہ ہندوستان نے ہماری اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کشمیر میں جارحیت کا ارتکاب کیا جس کے جواب میں ہم سوائے تقریروں کے اور کچھ کرنے کے قابل نظر نہیں آئے۔ان تقریروں کا حاصل بھی یہ ہے کہ جنرل اسمبلی میں زبردست خطاب کے بعد جب وزیراعظم عمران خان اعلیٰ سطحی سیاسی اور فوجی وفد لے کر چین جاتے ہیں تو چین کے صدر شی پنگ ملاقات کے بعد دو روزہ دورے پر ہندوستان روانہ ہو جاتے ہیں۔ان کے ہندوستان سے کئی تنازعات ہیں،لیکن اس کے باوجود وہ ہندوستان کی معیشت اور اس سے چین کی90بلین ڈالر سالانہ کی تجارت کو پیش نظر رکھتے ہوئے تعلقات کو بہتر سے بہتر بنا رہے ہیں۔یہ تو شکر ہے کہ کشمیر کے تنازعے میں وہ شروع سے ہمارے موقف کے حامی اور ساتھی رہے ہیں اور آج بھی ہیں ورنہ اگر یہ بھی نہ ہوتا تو ہم کہاں کھڑے ہوتے۔

ایسا لگتا ہے کہ اس موقع پر ملک کو ایک بار پھر لیاقت علی خان جیسے زیرک سیاست دان کی ضرورت ہے، جو ہندوستان کی غلطیوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں اپنے ملک کے فائدے کے لئے استعمال کرنے کا اتنا ہی گُر جانتا ہو،اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کی سیاسی قیادت کشمیر کے بارے میں بہت بڑی سیاسی غلطی کر بیٹھی ہے،لیکن اس غلطی سے کیا ہم کشمیریوں کے لئے یا اپنے ملک کے لئے کوئی قابل ِ ذکر فائدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔چین کے صدر شی پنگ کے ہندوستان کے حالیہ دورے کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے شہید ملت کی برسی کے موقع پر تسلی بخش جواب کا منتظر یہ ایک بڑا سوال ہے۔

مزید : رائے /کالم