وہ آئیں گھر میں ہمارے…………

وہ آئیں گھر میں ہمارے…………
وہ آئیں گھر میں ہمارے…………

  



برطانیہ عظمیٰ کا شہزادہ ولیم اور ان کی نصف بہتر کیٹ مڈلٹن کل جب اسلام آباد کی نورخان ائر بیس پر اترے تو ان کے استقبال کے لئے ہمارے وزیرخارجہ محترم شاہ محمود قریشی، ان کے لئے چشم براہ تھے۔ یہ جوڑا جونہی طیارے پر لگی سیڑھی کی سرخ قارلین سے سرزمینِ پاک پر بچھی سرخ قارلین پر قدم رنجہ ہوا، اسلام آباد کی فضاؤں میں گویا ایک اَن ہونی ہو گئی……کیا خوبصورت منظر تھا!…… ان کو خوش آمدید کہنے والوں میں سات آٹھ سال کا ایک پاکستانی لڑکا اور اس کی ہم عمر ایک پاکستانی لڑکی بھی ہاتھوں میں گل ہائے عقیدت کے گجرے تھامے منتظر تھے۔ پاکستانی لڑکے نے قرمزی رنگ کی دستار زیبِ سر کر رکھی تھی اور ساتھ ہی سنہری شیروانی بھی اس کے پاکستانی ہونے کا ثبوت دے رہی تھی جبکہ استقبالیہ لڑکی نے اپنی مہمان کے نیلگوں لباس کے تتبع میں نیلگوں شلوار قمیض اور دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا۔ شاہی جوڑا پاکستان کی دھرتی پر اترتے ہی ان ننھے میزبانوں کی طرف بڑھا۔ اس تصویر کو ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) نے جس انداز میں اپنے کیمرے میں پکڑا (Capture) اور ہمارے ایک نہایت موقر روزنامہ ڈان نے جس طرح اپنے صفحہ اول پر جگہ دی ہے وہ دیدنی ہے۔

شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ محترمہ دونوں بیک وقت ننھے میزبانوں کی طرف نگاہِ التفات ڈالتے ہیں …… ہم نے اپنے لڑکپن سے لے کر جوانی اور پھر اس بڑھاپے تک کثرتِ فلم بینی کا جو ارتکاب کیا اس میں کسی بھی سین میں کسی فلمی جوڑے کی آنکھوں میں بیک وقت وہ اتھاہ حیرانی نہیں دیکھی جو (اس تصویر میں) ولیم اور کیٹ کی آنکھوں میں اتر آئی ہے۔ دونوں کی آنکھوں فرطِ حیرت سے کھلی ہوئی ہیں گویا بلجیم ساختہ قدِ آدم آئینے کی حیرانی مجسم ہو کر میاں بیوی کی جوڑی میں سمٹ گئی ہے…… اداکاری اور تصنّع کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ لیکن دونوں کا بیک وقت حیرت فروش ہونا، اس تصویر کے کمالات میں سے ہے۔ شاہ محمود پاکستان کے وزیر خارجہ ہونے کے علاوہ ملتان کے ایک معروف روحانی خانوادے کے چشم و چراغ اور گدی نشین بھی ہیں۔

انہوں نے کئی بار اپنے اسلاف کی قبروں پر گل پاشی کی ہے، چادریں چڑھائی ہیں اور ان ہزاروں عقیدت مندوں کے ہجوم کی آنکھوں میں بسی دل بستگی کا نظارا بھی کیا ہے لیکن شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ کی آنکھوں میں نیاز مندی کی جگہ ناز و انداز کے جو ڈورے شاہ صاحب نے دیکھے ہوں گے وہ مزاروں کے زائرین کے ہاں کب دیکھے جاتے ہیں۔ اس لئے شائد وہ اس تصویر میں یہ سب دیکھ دیکھ کر ایک ”نُکّر“ میں چپ چاپ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ تصویر کا یہ پوز ان کی وزارت کے سارے پروفیشنل داؤ پیچ پر بھاری پوز ہے…… شاباش شاہ صاحب!

ایں کار از تو آئد و مرداں چنیں کنند

یہ شاہی جوڑا ہمارے ہاں 5دن تک قیام فرمائے گا۔ ان ایام میں لاہور بھی جائے گا اور چترال کا دورہ بھی کرے گا۔ ان کے استقبال کی تیاریاں پہلے سے کی جا چکی ہیں۔ کئی ثقافتی اور خیراتی شوز ترتیب دیئے گئے ہیں۔ ان میں ایس او ایس ویلج اور شوکت خانم ہسپتال کا دورہ بھی شامل ہے۔ شاہزادہ ولیم کی آنجہانی والدہ لیڈی ڈیانہ بھی یادش بخیر ایک بار شوکت خانم آئی تھیں لیکن ان کے ہمراہ ان کا میاں شہزادہ چارلس نہیں تھا۔ شاہی تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ یہ وہ ایام تھے جب ڈیانہ اپنے شوہرِ نامدار کے ہرجائی پن سے تنگ آکر کسی گوشہ ء عافیت کی تلاش میں تھیں۔ انہوں نے بہت جگہ دل لگانے کی کوششیں کیں اور ملکوں ملکوں ماری ماری پھریں لیکن دل کی بے قراری کو قرار نہ آ سکا۔ حالانکہ صاحب اولاد تھیں پھر بھی اپنے میاں سے نجانے کیوں نالاں رہا کرتی تھیں۔میاں سے پوچھا گیا تو ان کا مضمون بھی واحد تھا۔ انہوں نے بھی کئی بار ڈیانا کو برملا جتلایا: ”ہم وفادار نہیں، تو بھی تو دلدار نہیں“…… لیکن لیڈی ڈیانہ مان کر نہیں دیتی تھیں …… وہ چونکہ شاہی خانوادے کی ”چشم و شمع“ نہیں تھیں (چراغ کی مونث چونکہ شمع ہے اس لئے محاورے کے غلط سلط ہونے کی معذرت) اس لئے آدابِ شاہی کی نزاکتوں سے چنداں باخبر نہیں تھیں۔

وہ اپنے شہزادے کو بھی سمجھا سمجھا کر تنگ آ گئی تھیں لیکن وہ بھی غالب کی طرح وفاداری بشرطِ استواری کے رسیا تھے۔ ایک ”گئی گزری“ حسینہ پر ان کا دل آیا ہوا تھا۔ان کا اسم گرامی کامیلا تھا۔ 22برس تک اینڈریو پارکر کی بیوی رہیں۔ 2005ء میں شہزادہ چارلس کے حبالہء عقد میں آئیں۔آج 72سال کی ہو چکی ہیں۔ چارلس سے عمر میں بڑی ہیں۔ شادی سے پہلے کئی بار یہ جوڑا رنگے ہاتھوں پکڑا بھی گیا لیکن مجال ہے دونوں اپنی ڈگر سے ایک انچ بھی اِدھر اُدھر ہوئے ہوں۔ وہ تو جب فرانس کی ایک سرنگ میں ایک کار کے حادثے میں لیڈی ڈیانہ اپنے ایک دوست دودی فیض کے ہمراہ راہی ء ملک بقا ہو گئیں تو چارلس نے ”غم غلط کرنے کے لئے“ اپنی سابقہ محبت سے بیاہ رچا لیا…… پرنس ولیم جو آج کل پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں وہ پرنس چارلس (اور ڈیانہ مرحوم) کے بڑے صاحبزادے ہیں ……میری مرحومہ خوشدامن صاحبہ نے جب ڈیانہ کی بے وقت موت کی خبر سنی تھی اور ساتھ یہ بھی سنا تھاکہ وہ دو جوان جہان بچوں کی ماں اور جواں سال ولی عہد پرنس چارلس کے ہوتے ہوئے بھی ایک مصری کے ساتھ دار فانی کو سدھار گئی تھیں تو بے ساختہ فرمایا تھا: ”ہائے ہائے اس موئی کو کیا پڑی تھی کہ سمندر میں بسنے کے باوجود پیاسی تھی!“

برطانوی شاہی خاندان کی تاریخ اس قبیل کی ایسی ہی درجنوں ”انہونیوں“ سے بھری پڑی ہے۔ ملکہ الزبتھ دوم کے والد شہنشاہ جارج ششم کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن تاجِ خسروی ان کے سر سجے گا۔ وہ تو جب ان کے بڑے بھائی ایڈرڈ ہشتم نے بظاہر ایک ”گئی گزری“ امریکی خاتون (مسز سمپسن) سے عہدِ وفا نبھانے کے لئے تاجِ شاہی کو ٹھوکر مار دی تو اچانک چھوٹے بھائی کا نصیب جاگا اور جب ان کا انتقال ہو گیا تو اولادِ نرینہ نہ ہونے کی وجہ سے ملکہ الزبتھ دوم کو تاجِ شاہی پہنا دیا گیا۔

پاکستان نے اس برطانوی شاہی جوڑے کے 5روزہ قیام کے لئے سیکیورٹی کے جو انتظامات کئے ہیں، وہ چشم کشا ہیں۔ چترال کے دورہ کے موقع پر مالاکنڈ سے پولیس کی ایک بھاری نفری طلب کرکے شاہی جوڑے کے تحفظ کا اہتمام کیا گیا ہے۔

اس علاقے کے پار افغانستان کی سرزمین پر چونکہ دہشت گردوں کے ٹھکانے بھی ہیں اس لئے چترال کے دورے میں موبائل سروس بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یعنی وزارت داخلہ نے اپنی طرف سے فول پروف سیکیورٹی کے اقدامات کئے ہیں۔ اس جوڑے کا یہ پہلا دورۂ پاکستان ہے۔ شہزادہ ولیم کی والدہ لیڈی ڈیانا البتہ کئی بار پاکستان کا دورہ کر چکی تھیں۔ ملکہ الزبتھ دوم کی ایک چھوٹی بہن مارگیٹ بھی تھیں۔ ان کے معاشقوں کا احوال پڑھیں تو مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے اکلوتے بیٹے شہزادہ سلیم کی یاد آتی ہے۔ سوچتا ہوں کہ مشرق ہو کہ مغرب تاج شاہی کے ساتھ اس طرح کے معاشقوں کی لائنیں کیوں لگ جاتی ہیں۔ لیکن یہ بھی دیکھئے کہ جس انگریز نے 1857ء کی جنگ آزادی میں آخری مغل تاجدار کو رنگون کے قلعے میں قید کرکے اس خاندان کا خاتمہ کر دیا تھا اسی انگریزی نے اپنے ہاں اس رسمِ شاہی اور دودمانِ شہنشاہی کی روایات کو ختم نہ کیا اور زندہ رکھا۔ انگلستان کی تاریخ کا مطالعہ کیجئے۔ برطانوی قوم نے جمہوریت کی دہلیز پر قدم رکھا تو اپنی آمریت کو کسی رنگون کے قلعے میں جلاوطن نہ کیا بلکہ ایک نیا نظامِ شاہی وضع کیا جو آج تک رائج چلا آ رہا ہے۔شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن اسی روائت کی توسیع اور تسلسل ہیں۔

پاکستان نے اس جوڑے کا خیر مقدم کرکے اور اس کو اپنے ہاں ٹھہرا کر دنیا کو یہ بتا دیا ہے کہ ہم پاکستانی ایک کشادہ دل قوم ہیں۔ دنیا بھر کی حکمرانی کی روایات کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس بات کے امیدوار رہتے ہیں کہ برطانوی حکمران بھی پاکستانی روایات و اقدار کا خیال رکھیں گے، پاکستان کے راندۂ درگاہ سیاستدانوں کو اپنے ہاں پناہ نہیں دیں گے اور جو پاکستانی وہاں پناہ لے کر اور پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کرکے دادِ عیش دے رہے ہیں ان کو واپس پاکستان بھیجیں گے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔

تفنن برطرف! مشرق و مغرب کے ازدواجی بندھن اور شادی بیاہ کی روایات اتنی مختلف ہیں کہ یہ اختلاف بعض اوقات ایک دوسرے کی ضد بن جاتا ہے۔

برطانوی حکومت کو معلوم ہے کہ پاکستان ماضی ء قریب میں دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنا رہا ہے۔ اس کے 70,000شہری دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ مغربی مصنفین پاکستان کو ایک Hard Country کہتے نہیں تھکتے تھے۔

بین الاقوامی کھلاڑیوں کی ہر ٹیم پاکستان آنے سے کتراتی رہی ہے اور آتی بھی ہے تو سوبار سوچتی ہے اور پھر بھی ہچکچاتی ہے۔ ایسے میں اگر برطانوی حکومت نے اپنے شہزادے، شہزادی اور ان کے دو ننھے بچوں کو پاکستان بھیج کر 5دن قیام کرنے کی اجازت دی ہے تو اس کا مطلب کیا ہے؟…… مطلب یہ ہے کہ اول تو پاکستان اب ہارڈکنٹری نہیں رہا، سافٹ کنٹری بن چکا ہے اور دوسرے چترال جیسے علاقے میں بھی اب افرادِ شاہی کے جانے کا کوئی ڈر نہیں۔ اس شاہی جوڑے کی آمد پاکستان کے لئے ایک ایسا بین الاقوامی کلیئرنس سرٹیفکیٹ ہے جو ہمیں ایک مدت سے درکار تھا۔ اور اس حوالے سے ہمیں حکومتِ برطانیہ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے اپنے ایک پورے شاہی خاندان کو ہمارے ہاں بھیجا۔

اگرچہ برٹش حکومت نے اس شاہی خاندان کے تحفظ کے لئے اپنی پولیس کی بھی ایک بڑی نفری ساتھ بھیجی ہے لیکن اس قسم کی تحفظی نفری بیرونی دوروں میں ساتھ بھیجنا ایک معمول ہے۔ گزشتہ جمعہ جب چینی صدر شی جِن پنگ چنائی (انڈیا) کے دورے پر آئے تھے تو انہوں نے نہ صرف اپنی اور اپنی ٹیم کی سیکیورٹی کے لئے چینی نفری انڈیا بھیجی تھی بلکہ دورے سے پہلے اپنی بلٹ پروف گاڑیاں بھی بھیجی تھیں۔ صدر شی اور ان کے رفقاء نے اس دو روزہ دورے میں انہی گاڑیوں میں سفر کیا…… برطانوی حکومت نے کم از کم اپنی بلٹ پروف گاڑیاں تو شاہی جوڑے کے ساتھ نہیں بھیجیں!

مزید : رائے /کالم