”بارہویں کھلاڑی“ کا جارحانہ کھیل

”بارہویں کھلاڑی“ کا جارحانہ کھیل
”بارہویں کھلاڑی“ کا جارحانہ کھیل

  



اگرچہ 2018ء کے انتخابات اپوزیشن کے لئے زیادہ خوش کن نہ تھے کہ اس میں ماضی کی دونوں حکمران جماعتوں کو نئی سیاسی قوت نے انتخابی میدان میں چت کر دیا، لیکن دوبڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی اعلیٰ قیادت کے لئے ان انتخابات کا ایک خوشگوار پہلو یہ تھا کہ ان کی اگلی نسل پہلی بار منتخب ہوکر ایوانوں میں پہنچ گئی۔ بلاول بھٹو کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے سے جہاں بینظیر بھٹو عالم ارواح میں فرحاں و شاداں ہوگی وہیں ان کے والد سابق صدر آصف علی زرداری بھی بیٹے کی پارلیمانی سیاست کے آغاز پر مطمئن اور مسرور ہوئے،اسی طرح مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسد محمود بھی قومی اسمبلی کا الیکشن جیت کر اپنے باپ دادا کی سیاست کو آگے بڑھانے کے لئے میدان عمل میں آ گئے، لیکن مولانا فضل االرحمان خود اپنی شکست پر اس قدر غصے میں ہیں کہ بیٹے کی پہلی جیت پر ان کی طرف سے کبھی کسی خوشی کا اظہار دیکھنے میں نہیں آیا، مولانا کا موقف ہے کہ انہیں دھاندلی کے ذریعہ ہرا کر ایوان سے باہر رکھا گیا ہے۔ مولانا کے سیاسی عقیدت مند، پیروکار ا ور سیاسی کارکن بھی اس پر شدید ناراض ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے کبھی 2018ء کے انتخابی نتائج اور موجودہ حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور اب حکومت الٹانے کے لئے انہوں نے اکتوبر میں اسلام آباد لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے اور اس کے لئے اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں سرگرداں ہیں۔

مولانا فضل الرحمان ایک ایسی شخصیت ہیں کہ جس طرح ان کے کارکن ان پر جان چھڑکتے ہیں، اسی طرح ان کے مخالفین بھی ان سے ”والہانہ مخاصمت“ رکھتے ہیں،،، ان کے کیری کیچر تیار کئے جاتے ہیں، طرح طرح کے نام رکھے جاتے ہیں، تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں نے اپنے لیڈر کے کرکٹ بیک گراؤنڈ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ظنزاً مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن کی سیاسی ٹیم کا ”بارہواں کھلاڑی“ قرار دیا، جو گراؤنڈ سے باہر ہی تمام زور لگاتا رہتا ہے، لیکن اس کی قابلیت، مہارت، تجربہ میدان میں کھیلنے والی اس کی ٹیم کے عملی طور پر کسی کام نہیں آتا۔

دوسری طرف مولانا فضل الرحمان کرکٹ کے بارہویں کھلاڑی سے ہٹ کر اپنا کردار ہر گذرتے دن کے ساتھ اہم بناتے جارہے ہیں، اسلام آباد کی طرف آزادی لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان کر کے انہوں نے بلاشبہ حکومتی کیمپوں کو پریشانی سے دوچار کر دیا ہے،اور اب جبکہ تحریک انصاف کی قیادت خود اقتدار میں ہے تو سسٹم کی سب سے بڑی سٹیک ہولڈر ہونے کے ناطے اب اسے پتہ چل رہا ہے کہ سڑکوں کی سیاست میں حکومتوں کو کس آزمائش سے گذرنا پڑتا ہے،مولانا فضل الرحمان اسلام آباد کی طرف رُخ کرتے ہیں تو وہ اگر حکومت کو گرانے میں کامیاب نہ بھی ہوئے تو اسے ایک اچھا خاصا جھٹکا دے کر کمزور تر ضرور کر دیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی سیاست میں پینتیس پنکچر، امپائر اور انگلی کا ذکر بہت زبان زد عام رہا ہے،بلکہ ان الفاظ نے پچھلے چھ سال کی سیاست میں نئی سیاسی اصطلاحات کا درجہ اختیار کر لیا۔ مولانا فضل الرحمان کے قریبی حلقوں سے جب پوچھا جاتا ہے کہ اسلام آباد مارچ اور پھر اس کی کامیابی کے لئے اتنے پراعتماد کیوں ہیں تو اگرچہ وہ کسی امپائر یا اس کی انگلی کا ذکر تو نہیں کرتے، لیکن اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ انہیں بھی یہ یقین دہانی حاصل ہے کہ ان کی سیاسی جدوجہد بے ثمر نہیں ہو گی۔

اب اگر کرکٹ کی بات کرلیں تو وہاں ایک نئی تاریخ رقم ہوگئی ہے، آئی سی سی نے قوانین تبدیل کر دیئے ہیں، ٹیسٹ میچوں میں کسی کھلاڑی کے زخمی ہونے کی صورت میں اب بارہواں کھلاڑی میدان میں آ کر بیٹنگ یا بولنگ کر سکے گا، کرکٹ اور جمہوریت کے بانی انگلینڈ اور آسٹریلیا کے مابین جاری ایشز سیریز میں پہلی بار اس کا مظاہرہ بھی ہو گیا ہے۔ پاکستان میں مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ یا لاک ڈاؤن کا اعلان کرکے سیاسی ہلچل مچا دی ہے، تو میں سوچ رہا ہوں کہ اب جبکہ ملکی سیاست کے بڑے کھلاڑی کرکٹر وزیراعظم کے احتسابی باؤنسرز سے زخمی ہوکر جیلوں میں چلے گئے ہیں تو کہیں پاکستانی سیاست کی آئی سی سی نے بھی تو ”رولز آف گیم“ تبدیل نہیں کردیئے کہ جس میں بارہواں کھلاڑی قرار دئیے جانے والے مولانا فضل الرحمان دھواں دھار بیٹنگ کی تیاریاں کررہے ہیں …… خدا خیرکرے

مزید : رائے /کالم