احتساب عدالت کے باہر خورشید شاہ کے ہاتھ کو بوسہ دینا پولیس افسر کو مہنگا پڑ گیا

احتساب عدالت کے باہر خورشید شاہ کے ہاتھ کو بوسہ دینا پولیس افسر کو مہنگا پڑ ...
احتساب عدالت کے باہر خورشید شاہ کے ہاتھ کو بوسہ دینا پولیس افسر کو مہنگا پڑ گیا

  



سکھر(ویب ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور قومی احتساب بیورو کے ملزم سید خورشید احمد شاہ کے ہاتھ پر بوسہ دینا ٹریفک سارجنٹ کو مہنگا پڑ گیا۔ اعلیٰ پولیس حکام نے بوسہ دینے والے سارجنٹ کو معطل کردیا۔

ہم نیوز کے مطابق احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر سید خورشید احمد شاہ کے ہاتھ کو آغا شاہنواز نامی ٹریفک پولیس سارجنٹ نے چوما تھا۔ نیب ملزم کے ہاتھ کو چومنے کی ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہوگئی تھی۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ویڈیو وائرل ہوئی تو عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا جس پر حکام نے نوٹس لے لیا۔ ایس ایس پی سکھر عرفان علی سموں کے مطابق احتساب عدالت کے باہر پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید احمد شاہ کے ہاتھ چومنے والے سب انسپکٹر شاہ نواز کو معطل کیا گیا ہے اور ڈی ایس پی سائیٹ عبدالستار پھل کو واقعہ کی شفاف انکوائری پیش کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ذرائع کے مطابق  سینئر پولیس افسر آغا شاہنواز کے سید خورشید احمد شاہ کے ساتھ قریبی اور ذاتی تعلقات ہیں جس کی بنا پر اس نے ہاتھ کو بوسہ دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق سندھ کی تہذیب و ثقافت میں بڑوں اور بزرگوں کا ہاتھ چومنا، ان کے پاؤں کو ہاتھ لگانا اور رخصت ہوتے وقت ہاتھ جوڑ کر جانا عام معمول کی بات ہے اور جو اس سے روگردانی کرے اسے معیوب تصور کیا جاتا ہے لیکن سرکاری فرائض کی ادائیگی کے دوران یہ لازمی امر نہیں گردانا جاتا ہے۔پاکستان مسلم لیگ کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور پارٹی کی نائب صدر مریم نواز جب 2017 میں ایک پیشی کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچی تھیں تو وہاں متعین ایس پی اسلام آباد ارسلہ سلیم نے انہیں سلوٹ مارا تھا جس پر ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بے پناہ تنقید ہوئی تھی۔

مزید : علاقائی /سندھ /سکھر