”غفلت برتنے والے ایس ایچ او ز کے دماغ سے اکڑ نکالنا ضروری ہے اور ۔۔“لاہور ہائیکورٹ کا پولیس افسر پر سخت برہمی کا اظہار

”غفلت برتنے والے ایس ایچ او ز کے دماغ سے اکڑ نکالنا ضروری ہے اور ۔۔“لاہور ...
”غفلت برتنے والے ایس ایچ او ز کے دماغ سے اکڑ نکالنا ضروری ہے اور ۔۔“لاہور ہائیکورٹ کا پولیس افسر پر سخت برہمی کا اظہار

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس میں ناقص تفتیش سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او ز کو معطل کر دینا اور شوکاز جاری کرنا کافی ہے ؟غفلت برتنے والے ایس ایچ اوز کے دماغ سے اکڑ نکالنا ضروری ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی قتل کیس میں ناقص تفتیش کرنے کیخلاف کیس کی سماعت کی جس دوران ڈی آئی جی آپریشنزاور ایس ایس پی انویسٹی گیشن عدالت میں پیش ہوئے ۔ عدالت میں متاثر خاتون نے موقف بیان کیا کہ اس کے بیٹے کو قتل ہوئے چار سال بیت چکے ہیں لیکن ملزم ابھی تک گرفتار نہیں ہواہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کیا کر رہی ہے ؟ قتل کیس کی اتنی ناقص تفتیش کی گئی۔ عدالت نے ناقص تفتیش کرنے پر ایس ایچ او مناواں پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔

ایس ایچ او مناں نے کمرہ عدالت میں ناقص تفتیش کا اعتراف کر لیا اور کہا میں نے بغیر سوچے سمجھے رپورٹ تیار کی ۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او ز کو معطل کر دینا اور شوکاز جاری کرنا کافی ہے ؟غفلت برتنے والے ایس ایچ اوز کے دماغ سے اکڑ نکالنا ضروری ہے ۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کا نظام کب ٹھیک ہو گا ،؟ پولیس والے کسی کو کچھ سمجھتے نہیں ۔ ایس ایس پی انوسٹی گیشن نے عدالت میں کہا کہ تفتیش بہتر کر کے رپورٹ پیش کریں گے ۔ عدالت نے ایس ایس پی کو 15 روز کی مہلت دیدی ہے ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور