ایف اے ٹی ایف میں بھارت کو پھر سبکی لیکن گرے لسٹ میں پاکستان کی موجودگی کے بارے میں کیا فیصلہ ہوا ؟ خبرآگئی

ایف اے ٹی ایف میں بھارت کو پھر سبکی لیکن گرے لسٹ میں پاکستان کی موجودگی کے ...
ایف اے ٹی ایف میں بھارت کو پھر سبکی لیکن گرے لسٹ میں پاکستان کی موجودگی کے بارے میں کیا فیصلہ ہوا ؟ خبرآگئی

  



پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں بھارت کو ایک اور ناکامی کا سامنا،ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کا مطالبہ مسترد کر دیا اورپاکستان کو فروری2020 ءتک بدستور گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم خبررساں ایجنسیوں کے برعکس ایف اے ٹی ایف کی صدر نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں بتایا کہ فیصلہ 18 اکتوبر جمعہ کو سنایا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق بھارت نے حافظ سعید کے منجمد اکاو¿نٹ سے رقوم نکلوانے کی اجازت دئیے جانے پر پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی،ٹاسک فورس نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت جیسے معاملات پر پڑنیوالے ممکنہ اثرات پر تحفظات کا اظہار بھی کیا،تاہم ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت کے باعث پاکستان کو مبینہ طور پر بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اس حوالے سے اپنے فیصلے کا باقاعدہ اعلان جمعہ 18اکتوبر کو کرے گی۔ منگل کو پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے دوسرے دن منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے پاکستانی حکومت کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمے کیلئے پاکستان کو فروری 2020 تک کی مزید مہلت دیدی جائے۔جرمن میڈیا کے مطابق پاکستانی سفارت کار پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھے جانے کے فیصلے کو اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ اجلاس میں ٹاسک فورس نے پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ کے انسداد اور دہشت گردوں کی مالیاتی وسائل تک رسائی کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کا اعتراف کیا تاہم ساتھ ہی پاکستان کی طرف سے ایکشن پلان پر مزید عملدرآمد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔جرمن میڈیا کے مطابق 36 ممالک پر مشتمل ایف اے ٹی ایف کے چارٹر کے مطابق کسی بھی ملک کا نام بلیک لسٹ میں نہ ڈالنے کیلئے کم از کم بھی تین ممالک کی حمایت لازمی ہے۔پاکستان کو مزید چار ماہ تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس تنظیم کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اگر پاکستان منی لانڈرنگ روکنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف تسلی بخش اقدامات میں ناکام رہا، تو اسے ممکنہ طور پر بلیک لسٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ فورس اس حوالے سے اپنا حتمی فیصلہ فروری2020ءمیں کریگی۔

مزید : بین الاقوامی