فیملی کورٹس میں خلع کی درخواستوں میں اضافہ ہونے لگا لیکن اکثر خواتین کو اپنے شوہروں سے کیا گلہ ہوتا ہے؟ تفصیلات منظرعام پر

فیملی کورٹس میں خلع کی درخواستوں میں اضافہ ہونے لگا لیکن اکثر خواتین کو اپنے ...
فیملی کورٹس میں خلع کی درخواستوں میں اضافہ ہونے لگا لیکن اکثر خواتین کو اپنے شوہروں سے کیا گلہ ہوتا ہے؟ تفصیلات منظرعام پر

  



لاہور(نامہ نگار)فیملی عدالتوں میں خواتین کے جلد فیصلہ حاصل کرنے کے لئے خلع کی بنیاد پر طلاق کے دعویٰ جات دائر کرنے کی شرح میں اضافہ ہونے لگا، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے کیسوں کی تعداد زیادہ ہونے پر فیملی عدالتوں کی تعداد 15کر دی۔سول کورٹ میں فیملی کی پندرہ عدالتیں کام کررہی ہیں، جہاں پرخواتین کی طرف سے خلع کی بنیادپرطلاق کے دعوے دائر کرنے کی شرح میں ریکارڈاضافہ ہوگیاہے،ایک روزمیں تقریبا6سے 10دعوے دائر کئے جارہے ہیں،ان دعویٰ جات میں خواتین کاموقف ہے کہ خاوندتوجہ نہیں دیتے،خرچا مانگو توتشددکرتے ہیں وغیرہ۔ دوسری جانب فیملی عدالتوں سے ایک ہفتے میں 20خواتین کوطلاق کی ڈگریاں جاری کی گئی ہیں،حق مہر،جہیزواپسی کے دعووں کی تعدادزیادہ ہونے پر سیشن جج لاہورنے گارڈین کی 5عدالتوں کوبھی فیملی عدالت کا درجہ دے دیا،قانونی ماہرمدثر چودھری،سابق سیکرٹری لاہور بارکامران بشیر مغل اور حسیب اسامہ کا کہناہے کہ عدالت سے طلاق لے کرخاتون کایونین کونسل جانالازمی ہے،جہاں سے 3ماہ بعدطلاق موثرہوتی ہے،خلع میں خاتون کو اداشدہ حق مہرچھوڑنالازمی ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور