’’آزادی مارچ‘‘ سے قبل اسلام آباد میں ایک اور بڑے مارچ کا اعلان، لاکھوں افراد پانچ کلومیٹر طویل کشمیر کا پرچم لہرائیں گے، قیادت جنرل حمیدگل کی بیٹی عظمیٰ گل کریں گی

’’آزادی مارچ‘‘ سے قبل اسلام آباد میں ایک اور بڑے مارچ کا اعلان، لاکھوں ...
’’آزادی مارچ‘‘ سے قبل اسلام آباد میں ایک اور بڑے مارچ کا اعلان، لاکھوں افراد پانچ کلومیٹر طویل کشمیر کا پرچم لہرائیں گے، قیادت جنرل حمیدگل کی بیٹی عظمیٰ گل کریں گی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے قبل اسلام آباد میں ایک اور بڑے مارچ کا اعلان کر دیا گیا’’ کشمیر ملین مارچ‘‘ کے نام سے ہونے والا یہ پروگرام اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام ہے جس میں لاکھوں افراد پانچ کلومیٹر طویل کشمیر کا پرچم لہرائیں گے اور مظلوم کشمیریوں سے زبردست انداز میں یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔اتوار20اکتوبر کو ہونے والے کشمیرملین مارچ کی قیادت جموں کشمیر سالیڈیریٹی موومنٹ کی چیئرمین اور جنرل حمید گل مرحوم کی بیٹی عظمیٰ گل کریں گی جبکہ نوجوانوں کی مختلف تنظیمیں بھی اس مارچ میں شریک ہوں گی۔ جناح ایونیو ڈی چوک سے ایف نائن پارک تک ہونے والا یہ پروگرام دوپہر ایک بجے شروع ہو گا جس میں طویل ترین کشمیر کا پرچم لہرا کرعالمی ریکارڈ قائم کیا جائے گا۔کشمیر ملین مارچ سے نامور سیاسی ، مذہبی، کشمیری و سماجی تنظیموں کے مرکزی قائدین خطاب کریں گے،اسی طرح تاجر، طلبا، وکلاءاور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات بھی خطاب کریں گی۔

جموں کشمیر سالیڈیریٹی موومنٹ کی چیئرمین عظمیٰ گل کی سرپرستی میں ترتیب دیا گیا یہ پروگرام اہل کشمیرسے یکجہتی کیلئے کیا جارہا ہے۔ اس منفرد پروگرام کا مقصد پوری دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کروانا اور اہل کشمیر کو پاکستانیوں کی جانب سے کشمیر و اہل کشمیر سے محبت و یکجہتی کا مظہر دکھانا ہے۔اس پروگرام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دنیا کا سب سے طویل ترین کشمیر کا پرچم لہرایا جائے گا۔جموں کشمیر سالیڈیریٹی موومنٹ کی چیئرمین عظمیٰ گل نے کہا ہے کہ اگر کشمیر کے لوگ پاکستان کے پرچم کو سینے پر لگا کر جانیں قربان کر رہے ہیں اور سبز ہلالی پرچم میں ہیں دفن ہو رہے ہیں تو دنیا کا طویل ترین کشمیر کا پرچم لہرا کر ہم اہل کشمیر سے محبت کا اظہار کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کو کشمیر ملین مارچ کا نام دیا گیا ہے جس میں تمام طبقات کو ناصرف شامل کیا گیا ہے بلکہ طبقات کی بنیاد پر پانچ مختلف سٹیج بنائے جائیں گے،اسلام آباد کے ڈی چوک سے جناح ایونیو ایف نائن پارک تا پانچ مختلف سٹیج ہونگے ہر سٹیج ایک کلومیٹر کے فاصلے پر مشتمل ہو گا،پہلا سٹیج خواتین کا ڈی چوک پر ہوگا جس میں شہر بھر سے خواتین،کالجز ویونیورسٹیز سے طالبات شریک ہوں گی،سٹیج سے خواتین ایم این ایز،سینیٹرز،مختلف این جی اوز و انسانی حقوق کی سرگرم ذمہ داران خواتین خطاب کریں گی،دوسرا سٹیج بلیو ایریا کے برابر میں تاجر برادی کا ہوگا جس میں کاروباری لوگ، تاجر یونینز،مزدور یونینز کے لوگ شریک ہوں گے،سٹیج سے مختلف تاجر و چیمبر آف کامرس کے عہدیداران کے علاوہ مزدور یونینز کے لوگ خطاب کریں گے۔تیسرا سٹیج طلباءواساتذہ کا ہو گا جس میںمختلف طلباءتنظیموں کے علاوہ شعبہ تعلیم سے وابستہ اساتذہ،پروفیسرز خطاب کریں گے۔چوتھا سٹیج سینٹورس مال سے آگے کشمیری قیادت کا ہوگا جہاں پنڈی اسلام آباد میں مقیم کشمیری لوگ شریک ہوں گے،اور سٹیج سے کشمیری قیادت خطاب کرے گی،اسی طرح پانچواں اور آخری سٹیج سول سوسائٹی کا ہو گا جہاں سول سوسائٹی ، یوتھ تنظیموں اور اقلیتی برادری کی نمائندگی ہو گی،یہ سٹیج سینٹورس مال کے پاس ہوگا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد