چوہدری صاحب!۔۔ جان نہ نکالیں

 چوہدری صاحب!۔۔ جان نہ نکالیں
 چوہدری صاحب!۔۔ جان نہ نکالیں

  



اگرایک شہری کوعلاج معالجہ اورتعلیم سمیت دیگربنیادی سہولیات مفت یاکم اَز کم سستی نہیں ملیں گی اورروزگارکی صورتحال بھی دن بدن خراب ہوگی توپھروہ اسکاذمہ دارکسے ٹھہرائے گا؟قائداعظم محمدعلی جناحؒ کوچھوڑ کراب تک کے سبھی حکمرانوں کو یاپھراپنی قسمت سمجھ کر صبرشکرکرلے گا؟وہ شخص توکرلے گاجس نے کہیں سے لنگرکھالیااورسونے کے لیے عارضی پناہ گاہ میں بسترپرسو گیا مگرایک عام شہری کو توروزگاربھی چاہیے،کچن چلانے کے لیے آٹا،چاول،نمک،مرچ،مصالحے،گھی،چینی،سبزی اوربہت کچھ کی ضرورت ہوگی جس کے لیے اس کی جیب میں پیسہ ضروری ہے،لوگوں کواپنے بچے کے بہترمستقبل کے لیے اسے سکول بھی بھیجنا ہے اوراس کے لیے بچے کولنچ بناکردیناپڑے گایاپھراسے جیب خرچ دینا ہو گاتاکہ وہ دوپہرکوپیٹ کی آگ بجھاسکے،ہلکابخاراور سردردتوانسان برداشت کرلے گامگربیماری ناقابل برداشت ہویاپھرجان لیوانکلے توپھرہسپتال بھی جاناپڑے گاجہاں ڈاکٹرباتیں بھی پیسے لے کرکرتے ہیں۔

زندگی کاپہیہ چلانے کے لیے بحرصورت آمدن ضروری ہے اوریہ بھی سچ ہے کہ یہ مسائل عوام کے ہیں،ایک طبقہ توہمیشہ سے ہی بے نیازرہاہے۔نون لیگ کے دورحکومت میں مسائل کے گھبرائے عوام نےقوم کے ہیرو کی باتوں پریقین کرلیااورپھرآنکھوں میں نئےپاکستان کے سہانے سپنے سجائے تبدیلی کوخوش آمدیدکہا،حکومت نے بسم اللہ کی تو کرپشن کیخلاف آہنی ہاتھ حرکت میں آگئے اوربڑے بڑوں کوپابندسلاسل کرکے اپنے وہ وعدے پورے کردیئے جو جلسوں میں کیے گئے تھے کہ ’’میں چوروں کونہیں چھوڑوں گا‘‘زیرعتاب جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گھبراہٹ فطری تھی اورانہوں نے شورمچانے کی بھی کوشش کی جوکسی نے نہیں سنا اورپھرقسمت کاکیادھرا سمجھ کرکارکن زرداری،نواز،مریم اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاریوں پربھی آسمان سرپراٹھانہ سکے،یوں تاثریہی گیاکہ لوگ بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ سب اندرجائیں تاکہ ان کاپیسہ باہرآئے اورخوشحالی کے دور دورے سے عوام کے دن بدل جائیں،کوششیں جاری ہیں اوران کانتیجہ کیانکلتاہے یہ مستقبل میں نظرآجائے گا،فی ؒالحال توعوام کاہی پیسنہ خون کے ساتھ نکل رہاہے۔

بہترملکی مستقبل کی خاطرابھی تک عوام "اوکھے سوکھے"ہوکرصبرکررہی ہے اورکچھ کے صبرکاپیمانہ لبریزہوچکاہے۔مہنگائی،بیروزگاری اورطرح طرح کے مسائل میں پھنسے لوگوں کوتب بہت کوفت ہوتی ہے جب کچھ وزراء جناب وزیراعظم صاحب کے اپنے ہی وعدوں کیخلاف بیان دے دیتے ہیں حالانکہ نہ تو تحریک انصاف کی یہ پالیسی تھی،نہ کبھی ان کے جلسوں میں کسی ذمہ دار نے ایسی بات کی تھی۔وزیراعظم عمران خان نےاپنے انتخابی جلسوں میں ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر بناکر دینے کا اعلان کیا تھا اور یہ تحریک انصاف کے منشور میں بھی شامل تھا۔کئی وفاقی وزراء بھی ٹی وی پروگرامز میں ایک کروڑ نوکریاں اور50لاکھ گھردینے کےاعلان پرعمل درآمدسے متعلق بات کرچکےہیں مگرنجانےمحترم فواد چوہدری کو ایسے بیانات کون دینے کامشورہ دیتاہے؟جب ملکی معشیت میں مسائل ہیں اورہربندہ پریشان ہے تواس میں لوگوں کوحوصلہ دینے کی بجائے انہیں مایوس اورمزیدپریشان کرنے کی منطق ہمیں بالکل سمجھ نہیں آئی۔موصوف نے اسلام آبادمیں ہونے والی ایک تقریب میں فرمایاکہ لوگوں کے ذہنوں میں ڈالنا بہت ضروری ہے کہ نوکریوں کیلئے حکومت کی طرف نہیں دیکھا جاسکتا،اگر لوگ حکومت کی طرف نوکریوں کیلئے دیکھنا شروع کردیں تو معیشت کا فریم ورک بیٹھ جائے گا،یہ 70 کی دہائی کی سوچ تھی کہ نوکریوں کیلئے حکومت کی طرف دیکھا جائے،اب نجی شعبہ نوکریاں دیتا ہے۔وفاقی وزیربرائےسائنس وٹیکنالوجی کے مطابق حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے،نوکریاں حکومت نہیں پرائیویٹ سیکٹر دیتا ہے، حکومت نے ماحول پیدا کرنا ہے جہاں نوکریاں ہوں، یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکری ڈھونڈے۔

چوہدری صاحب کابیان جب سوشل میڈیا پرجنگل کی آگ کی طرح پھیل گیاتوانہیں ایک ٹویٹ بھی چھوڑناپڑی،حالانکہ وہ اپنے دفاع میں کوئی مناسب بات نہیں کرسکے اورپھروہی باتیں دوہرا دیں۔کچھ عرصہ قبل محترمہ فردوس عاشق اعوان نے بھی زلزلہ متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکاتھاجس کے بعدانہوں نے وضاحت کی اورپھرمتاثرہ علاقوں میں جاکر فوٹو شوٹ کراکرسوشل میڈیاپرکچھ بہترتاثردینے کی کوشش کی حالانکہ بھولےکہلائےجانےوالے عوام اتنے بھی بھولے نہیں۔عوام پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہیں اوران کے لیے زندگی گزارنامشکل ہوگیاہے،امیدپردنیاقائم ہے اس لیےوہ بھی عمران خان سےپُرامید ہیں کہ کیاپتہ سب کچھ ٹھیک ہوجائےمگرایسےبیانات پریشان حال عوام کےزخموں پرمرہم کی بجائے نمک کاکام کرتے ہیں لہذا پہلے تولوپھربولو۔اگرآپ اسی طرح کے مزیدکچھ بیانات دیتے رہے توغریب آدمی امیدبھی چھوڑ دے گااوراس کی جان نکل جائے گی،کچھ کرنہیں سکتے توجان نہ نکالیں۔

(بلاگرمناظرعلی سینئر صحافی اور مختلف اخبارات،ٹی وی چینلزکے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں،آج کل لاہورکے ایک نجی ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں، عوامی مسائل اجاگر کرنے کیلئے مختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں،اس فیس بک لنک پران سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔(www.facebook.com/munazer.ali)

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ