ایران ،سعودی عرب مذاکرات کیلئے تیار ، جنگ کے بادل چھٹتے نظر آرہے ہیں، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

ایران ،سعودی عرب مذاکرات کیلئے تیار ، جنگ کے بادل چھٹتے نظر آرہے ہیں، وزیر ...
ایران ،سعودی عرب مذاکرات کیلئے تیار ، جنگ کے بادل چھٹتے نظر آرہے ہیں، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ ایران سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے ، جنگ کے منڈلاتے بادل چھٹتے نظر آرہے ہیں، وزیر اعظم عمران خان نے کہا ایرانی اور سعودی قیادت کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا ، مولانافضل الرحمن سے مذاکرات کیلئے کمیٹی قائم کی جائیگی ، فروری میں بلدیاتی الیکشن کرادیئے جائیں گے ۔

تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر خطے میں کوئی چپقلش ہوتی تو صرف ایران اورسعودی عرب نہیں بلکہ ساری عالمی معیشت متاثر ہونا تھی اور اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑنا تھا ۔ اس سوچ کر مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم ایران گئے اور ایران کے صدر اور رہبر اعلیٰ سے نشستیں ہوئیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ نشستیں بہت مفید رہیں اورایران نے بڑی فراخ دلی سے کہا کہ وہ سعودی عرب سے کوئی عداوت نہیں رکھتے ،معاملات کوسلجھانا چاہتے ہیں اور سعودی عرب سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے مثبت رویے کو لیکر ہم سعودی عرب گئے اور وہاں وزیر اعظم نے سعودی قیادت شاہ سلمانی اور ولی عہد سے ملاقات کر کے ایران کے خیالات ان تک پہنچائے ۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں یہ بڑی خوشی سے بتارہا ہوں کہ جو جنگ کے بادل چھائے ہوئے تھے وہ چھٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ آسان نہیں تھا لیکن سعودی قیادت سے نشست حوصلہ افزا تھی جس میں اس عمل پر اتفاق کیاگیاہے کہ سفارتی طریقہ کار کو ترجیح دی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ ایک اچھا آغاز ہواہے ،یہ خارجہ پالیسی کا ایک پہلو تھا اوردوسرا پہلو کشمیر ہے جس کے حوالے سے ایرانی رہبر اعلیٰ نے واضح کہاہے کہ ہم پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہیں اور سعودی عرب نے بھی یہی کہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کہہ رہی ہے کہ معاملات نازک ہیں ، فاروق عبد اللہ کی بہن اور بیٹی کو بھی گرفتار کرلیاگیا جبکہ خواتین کے مظاہر ے پر بھارتی فورسز کولاٹھی چارجز اور شیلنگ کرنا پڑی ۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہندوستانی سوشل میڈیا پر کہاجارہاہے کہ ہندوستا ن کواندازہ نہیں ہے کہ وہ کس حد تک کشمیریوں کونالا ں کرچکاہے ؟انہوں نے کہاکہ میری دوسری ذمہ داری وائس چیئر مین تحریک انصاف کی ہے ، چیئر مین وزیر اعظم عمران خان کی زیر قیادت کور کمیٹی کے اجلاس میں دوتین فیصلے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک سیاسی جماعت ہیں اور سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرویز خٹک کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیں گے اور مولانا فضل الرحمان سے پوچھیں گے کہ مسئلہ کیاہے اور اس کا کوئی حل نکل سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کی کسی بات میں کوئی وزن ہوگا تو ہم اس پر بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سے خوفزدہ نہیں ہیں کیونکہ اگر دھرنے سے حکومتیں جاتی ہیں تو ہمیں اس کا 124دن کا تجربہ ہے ، ہم کوئی طفل مکتب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 27اکتوبر کادن منحوس ہے جب بھارت نے کشمیر میں فوجیں اتاکر قبضہ کیاتھا، وزیر اعظم کی ہدایت پر ہم نے یہ دن کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے منانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی تیاری کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان مشکل حالات سے گزر کر معاشی استحکام کی طرف جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا ان مسائل کے نبرد آزما ہونے کیلئے ہم نے سیاسی جماعتوں کوانگیج کرنے کا فیصلہ کیاہے ، اب دیکھناہے کہ اس کے کیانتائج آتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کے پی اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا فیصلہ کیاہے ،اس کا پہلا مرحلہ فروری میں شروع ہوگا تاکہ گراس روٹ کے فیصلے گراس روٹ پر حل کئے جاسکیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی