حضرت مجد د علیہ الرحمہ اور دوقومی نظریہ 

حضرت مجد د علیہ الرحمہ اور دوقومی نظریہ 

  

(ڈاکٹر ظہور احمد اظہر)

برعظیم پاک وہند کی تاریخ میں حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد بن عبدالاحد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ پہلے عالم دین صوفی صافی ہیں جنہوں نے ہندوشناسی میں نام پیدا کیا اور دنیا کو خصوصا اہل اسلام کو خبردار کیا کہ ہندو برہمن دنیا کا وہ تنگ نظر نسل پرست ہے جو نہ صرف یہ کہ اپنی برتری کا قائل ہے بلکہ اپنے علاوہ دنیا کے تمام انسانوں اور ان کے مذاہب کی تحقیر وتذلیل کر تا ہے اور ان سے شدید نفرت کا بھی قائل ہے، دوسرے لفظوں میں وہ پرامن بقائے باہمی کو نہیں مانتا اور اپنے علاوہ تمام انسانوں کو ملیچھ اور ناپاک سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ مل جل کر رہنے کو پاپ اور گناہ سمجھتا ہے بلکہ وہ تو ان سے چھو جانے سے بھی بھر شٹ یا نا پاک ہو جاتا ہے، غیر ہندو انسان کتنا بھی پاک وصاف ہو جائے، کیسا بھی صاف ستھرا اور نفیس لباس پہنتا ہو اور کس قدر بھی پاکیزہ طبیعت اور نیک دل ہو ہندو برہمن کے نزدیک وہ نا پاک ہے بلکہ مجسم غلاظت اور نجاست ہے، مسلمان اور خصوصا برعظیم پاک وہند کا مسلمان تو اس نسل پرست اور گھمنڈی بر ہمن کے لیے شدید ترین نفرت وحقارت کا مستحق ہے اور اس سے "اکھنڈ بھارت "یا پورے برعظیم جنوبی ایشا کو مسلمان سے پاک کر نا ضروری ہے، مسلمان کے لیے تو وہ صرف تین رستے تجویز کرتا ہے:اس سرزمین سے نکل جاؤ اور پھر ادھر آنے کا نام بھی نہ لو۔ مرنے اور قبرستان جانے کے لیے تیار ہوجاؤ، آزادی اور عزت کے ساتھ یہاں رہنے کا نام بھی نہ لو۔اگر یہاں رہنا ہے تو ہندو وانہ رہن سہن اپناؤ اور حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ  کے الفاظ میں "ہندو مزاج مسلمان "یعنی ہندو مت کے ساتھ گھل مل کر رہو، وہی کچھ کرو جو کچھ ہندو کرتا ہے اور وہی کچھ بن کر رہو جو ہندو برہمن تمہارے لیے بننا پسند کرے اور وہ یہ ہے کہ ہندو معاشرہ کا پانچواں طبقہ بن کر رہو یعنی تمہارا درجہ ہندو اچھوت سے بھی کم تر ہو گا چنانچہ بھارتی مسلمان اب ہندو معاشرہ کا پانچواں طبقہ تصور کیا جاتا ہے!!

حضرت مجد د شیخ احمد سرھندی رحمۃ اللہ علیہ نے پہلے ایک دور اندیش ومدبرطبیب کی طرح حالات کو قریب سے دیکھا، سمجھا اور معلوم کیا کہ اصل مرض کیا ہے، اس کے اسباب کیا ہیں اور جڑیں کہا ں کہاں ہیں، اس غرض کے لیے اکبر کے درباریوں اور خوشامدیوں کو قریب سے دیکھا اور ان کی صحبت "نا ہم جنس " بھی گوارا کی کیونکہ جب تک مرض کی اچھی طرح تشخیص نہ ہوجائے اس وقت تک کوئی داناوبینا طبیب دوا اور علاج تجویز نہ کر تاہے اور نہ کر سکتا ہے چنانچہ حضرت مجد د علیہ الرحمۃ کو اندازہ ہو گیا کہ:1۔اس خبیث مرض کا اصل سبب انکارِ نبوت ہے جو توہینِ رسالت اورگستاخی رسول (ﷺ) کا ہولناک ر نگ لیے ہوئے ہے!!اور یہ کہ اس مرض کو ہوا دینے والے بگڑے ہوئے اور تاریک گمراہی میں مبتلا مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر ہندو برہمن نے بھی رنگ پکڑا ہے اور اسلام، اہلِ اسلام اور مقدساتِ اسلام کی توہین، تذلیل اور تخریب پر پوری قوت اور حوصلہ کے ساتھ کمر بستہ ہو گیا،حق پرست اور حق گو مسلمانوں کو کسی رنگ میں برداشت نہیں کرتا۔

دو قومی نظریہ یا دوسرے لفظوں میں نظریہ پاکستان صرف اتنی سی بات نہیں تھی کہ مسلمان قوم ہندو قوم سے الگ ایک مستقل قوم ہے بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہندو ایک ایسی قوم ہے جو نسلی بر تری پر یقین رکھتی ہے۔ کسی دوسری قوم یا مذہب کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کی قائل ہی نہیں اور مسلمانوں کو تو ملیچھ اور ناپاک سمجھتی ہے۔ یہی نہیں انہیں تو برداشت کرنا تورہا ایک طر ف وہ تو مسلمانوں کو نیست ونابود کر کے برعظیم جنوبی ایشیا کو ان کے وجود سے پاک کر نے کا تہیا کئے ہوئے ہیں۔ ہندو اگرچہ باہرسے آنے والے آریا ہیں جنہوں نے یہاں کے اصل باشندوں کوشودریا اچھوت کے نام سے غلام بنا رکھا ہے۔ لیکن خود کو اس سر زمین برعظیم پاک وہند کا اصل باشندہ یا مالک تصور کرتے ہیں اور مسلمان ان کے نزدیک باہر سے آگھسنے والے ہیں۔ جنہیں اس سر زمین پر کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ ظاہر ہے یہ ایک انتہائی نامعقول رویہ ہے اس لیے ناقابل تسلیم ہے!ہندو برعکس مسلمان نسلی برتری یا رنگ کی تفریق کے قائل نہیں، بلکہ وہ تو تمام انسانوں کو ایک ہی قادر مطلق کی مخلوق اور ایک ہی باپ حضرت آدم ؑ کی اولاد مانتے ہیں۔ وہ کسی چھوت چھات اور ذات پات کو بھی نہیں مانتے۔ یہ بنیادی اختلاف بھی مسلمانوں کو ہندؤوں سے ایک الگ قوم یا امت بنا دیتا ہے اور یوں ہندو اور مسلمان ایک قوم نہیں ہوسکتے!مسلمان برہمن کی برتری اور انسانی معاشرہ کوطبقات مین تقسیم کرنے کے تصور کو بھی مسترد کر تے ہیں بلکہ انما المؤ منون اخوۃ مؤ من تو آپس میں بھائی بھائی ہیں پر ایمان رکھتے ہیں، حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ اکبر کو اس اخوت ومساوات کا پر چار کرکے اچھوتوں کو برہمن کے چنگل سے آزاد کرانے کی نہ سوجھی!مشورہ دینے والوں نے اسلام کی بنیاد پر ہندوستان کے لیئے ایک متحدہ امت اور دلی طورپر باہم شیرو شکر رہنے والے بھائیوں پر مشتمل متحدہ قومیت کا مشورہ اکبر کو نہ دیا!دراصل اس کے نام نہاد مسلمان مشیربھی اسلامی اخوت ومساوات پر ایمان نہیں رکھتے تھے لہذا انہوں نے بھی اکبر کو ایک ایسی مذہبی پالیسی اختیار کر نے کا مشورہ دیا جس کا مقصد آخر کار ہندو مت کا غلبہ تھا، اس ضمن میں مشہور محقق مجددیات ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کی بات بھی سننے اور یادرکھنے کے قابل ہے، وہ فرماتے ہیں کہ:"مغل بادشاہ اکبر کی حکمت عملی جس پر وہ اپنے دور حکومت میں ہمیشہ عامل رہا دراصل مسلمانوں کے شعور مذہبی کو ضعف اور صدمہ پہنچانے کے لیئے وضع اور صدمہ پہنچانے کے لیے وضع کی گئی تھی اس کے بعض پہلوؤں سے ان کے جذبات مشتعل ہو گئے اور انہوں نے محسوس کیا کہ ہندوستان میں اسلام ختم ہو گیا ہے، ایک ہمعصر مؤرخ اور جوشیلا مسلمان عبدالقادر بدایونی اکبر کے عہد حکومت کے خلاف اس طرح بیان کر تا ہے کہ اس سے وہ بے چینی اور اضطراب جس میں مذہبی مسلمان ان دنوں مبتلا تھے پور ی طرح نمایا ں ہو جاتے ہیں، ملاعبدالقادربدایونی کی رائے ہے کہ بادشاہ اپنی ہندو رعایا کو خوش کر نا چاہتا تھا، اس نے اپنا رخ اسلام سے پھیر لیا تھا!"

مسلم ہندوستان کی تاریخ کے تیسرے مرحلے    میں حضر ت مجد د کا خاص کر دار نمایا ں ہے مگر جب تک اس مرحلہ کی تفصیلات ہمارے سامنے نہ آئیں اس وقت دو قومی نظریہ میں حضر ت مجد د الف ثانیؒ کا تاریخ ساز کردار اورعظیم الشان خدمت اسلام کا صیحح اندازہ ہمارے لیئے مشکل ہے!اس سے پہلے کی چار پانچ صدیوں کے دوران محمد بن قاسم،محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری جیسے مسلم فاتحین کی پے درپے ضربات مؤمنانہ نے ہندو برہمن کا مزاج درست کر کے اسلام اور اہل اسلام کو ناقابل شکست قوت قاہرہ ثابت کر دیا تھا اور اب گھمنڈی برہمن کے لئے سر جھکانے کے سوااور کوئی رستہ نہیں تھا، ہندو کی مرعوبیت کا یہ طویل عرصہ بہت سے مؤرخین کے لیے ناقابل فہم ہے مگر باہر سے آنے والے مسلم فاتحین کا دہلی کے مسلم حکمرانوں سے تصادم، شکست وریخت اور بعض راہ فرار اختیار کرنا ہندو کو چونکا دینے کے لیئے کافی تھا، اسلامی تقویم کے پہلے ایک ہزار سال مکمل ہونے اور پھر ایران وہندوستان میں مسلمانوں کے روپ میں بعض نام نہاد مفکرین کی فکری ہرزہ سرائیوں نے جہاں افکاروعقائد میں تلاطم پید ا کر دیا تھا وہاں مسلم ہندوستان کے تخت شاہی پر اکبر جیسے جاہل اور ضعیف الاعتقاد بلکہ اسلام بیزار ملحد کا بر اجمان ہونا ایک ہزار سالہ مسلم رعب ودبدبہ اور وقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا گیا، اگر مجد الف ثانی جیسا درویش صفت مدبر مسلمان عالم اور صوفی نہ ہوتا تو شاید مسلم مغلیہ سلطنت "ہندو مغلیہ سلطنت "کا روپ اختیار کر لیتی، اکبر کے پچاس سالہ طویل دور حکومت میں مسلم ہندوستان ہندو راجپوتوں کے ہاتھوں "ہندو انقلاب "کی دہلیز پر پہنچ گیا تھا مگر قدرت نے شیخ سرہند کو بروقت بیدار کر دیا اور ان کی مدبرانہ ضر ب کلیمی نے گھمنڈی برہمن کے خواب کو بکھیر کر رکھ دیا، بقول اقبال 

گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے 

جس کے نفس گرم سے ہے گرمئی احرار 

وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہبان 

اللہ نے بروقت کیا جس کو بے خبر دار!

حضرت مجد د علیہ الرحمہ نے ہندو انقلاب کی دہلیز پر پہنچی ہوئی مغلیہ سلطنت کو دوبارہ صحیح راستہ پر ڈالا اور مسلمانوں کو خبردار کر دیا کہ وہ عیار برہمن پر کبھی اعتماد نہ کریں کیونکہ وہ نہ تومسلمانوں کا دوست ہے اورنہ وہ پُر امن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، بت پرست اور یہودی مسلمانوں کے ساتھ ایک متحدہ قومیت یا دوست کی شکل میں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے! حقیقی مسیحیت چونکہ رواداری اور تواضع کی قائل ہے (16) اس لئے وہ تو مسلمانوں کے دوست بن سکتے ہیں اور کسی ایک ملک میں ایک ساتھ بھی رہ سکتے ہیں مگر ہندو مشرک اور یہودی حاسد اسلام کو گوارانہیں کر سکتا!

مزید :

ایڈیشن 2 -