حضرت مجدد الف ثانی ؒکی فکر کا مطالعہ عصر حاضر کے تقاضوں کے تناظر میں 

حضرت مجدد الف ثانی ؒکی فکر کا مطالعہ عصر حاضر کے تقاضوں کے تناظر میں 

  

علامہ رضاء الدین صدیقی 

 حضرت مجدد الف ثانی ؒ تاریخ اسلام کی بڑی منفرد اوریگانہ روزگار شخصیات میں سے ایک ہیں اور تاریخ اسلام کے بڑے اہم لوگوں میں اور ان لوگوں میں جن پر اسلامی فکر کی عمارت استوار ہے آپ ؒ کا شمار ہوتا ہے۔

  نبی کریم  ﷺ کی مساعی بلیغ کے بعد خلفائے راشدین اورصحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ علیہم اجمٰعین نے دین کی اس دعوت کو آگے بڑھایا اور صحابہ کرام ؓکے بعد جس جماعت نے دین کو اس کے سارے پہلوؤں کے ساتھ پیش کیا اور دین کی روح کو زندہ رکھا وہ بلا شبہ صوفیاء کرام کی جماعت ہے۔ تصوف کا ادارہ کیسے معرض وجود میں آیا اسلام میں اس کی تشکیل کیسے ہوئی۔ اس کے عناصر ترکیبی کیا کیا ہیں۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے اور صدیوں میں اس پر گفتگو ہوتی ہی رہی ہے۔اگر کسی کو بے جا تعصب کی عادت نہ ہو تو یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ نئے سرے سے کوئی دلیل دینے کی ضرورت ہے۔

 فتنے جو اس زمانے میں اور اس دوسرے ہزار سال میں شروع ہوئے تھے وہ آج بھی مختلف انداز میں وہ فتنے مسلمانوں میں ڈالے جارہے ہیں اورہمارے ماحول اورمعاشرے میں دیکھے جارہے ہیں۔ ان فتنوں کی معنویت جہاں پر مسلم معاشرے میں اپنا سر اٹھاتی ہے تو جس انداز سے، جس فکر سے حضرت مجددالف ثانی  ؒنے اپنے دور میں ان کی سرکوبی کی ان کی بیخ کنی کی،وہی اسلوب اختیار کرنا چاہیے، فکر مجدد پرانی نہیں ہوگئی ہے بلکہ یہ جو ہزار سال ہم گزار رہے ہیں اس کے روحانی مقتداء اور روحانی پیشوا تو مجدد الف ثانی  ؒ ہیں۔ لہٰذا اس پورے دورمیں حضرت امام ربّانی مجدد الف ثانی  ؒکی فکر ہی ہماری رہنما ہوگی اور ہماری مقتدا ہوگی اور اسی کے ذریعے سے ہم اس فتنے کی بیخ کنی کرسکتے ہیں۔

 حضرت مجدد الف ثانی  ؒ کتنی قد آور شخصیت ہیں،لیکن آپ ؒ نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کیا بلکہ چھوٹے چھوٹے سے معاملات میں بھی سنت رسول  ﷺ اور محبت رسول  ﷺ کی پاسداری کا اتنا گہرا درس دیا کہ لوگوں کو، پورے مسلم معاشرے کو بنیادی طور پر آپ  ﷺ کی طرف متوجہ کیا۔ایک واقعہ بظاہر چھوٹا سالگے گا،ایک مرتبہ آپ ؒ کے داڑھ میں درد تھا،آپ ؒ نے ایک درویش کو کہا کہ لونگ لے آؤ، وہ آپ ؒ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے لونگ پیش کیا،آپ نے دیکھا کہ آٹھ دانے تھے تو آپ ؒنے فرمایا کہ ہمارے اس درویش میں اتنا بھی ادراک نہیں ہے کہ رسول اللہ  ﷺ کو طاق عدد پسند ہے۔یہ سات دانے لے کر آتا یا نو دانے لے کر آتا۔یہ صوفی ہیں یہ درویش ہیں۔ صاحب علم ہیں یہ آٹھ دانے کیوں لے کر آئے۔ آپ یہ دیکھئے کتنی لطافت اور کتنی باریکی ہے کہ لونگ کے دانے ہمارے ہاتھ پر کوئی رکھ دے توہم اسے داڑھ میں رکھ لیں گے۔ہم نے کبھی گننے کی کوشش کی کہ کتنے ہیں؟حضرت مجدد الف ثانی  ؒ کی وابستگی رسول ؐ میں کتنی گہرائی ہے کہ انہوں نے لونگ کے دانوں کو بھی شمار کیا۔سنت عدد کے مطابق آئے ہیں یا نہیں آئے۔ بہت سی مثالیں ہیں آپ کے اس ماحول میں بیان ہوتی رہتی ہیں، تو اس سے آپ اندازہ لگائیں جو کہ ایک باریک ترین اور چھوٹی سی مثال ہے اور یہ حقیقت میں چھوٹی بات نہیں ہے کہ جو رسالت مآب ؐ کی سنت کو اس حد تک پیش نظر رکھتے ہیں کہ انہیں لونگ کے دانے بھی جفت عدد میں پسند نہیں آئے، اندازہ لگائیے کہ نبی کریم  ﷺ کی سنت کا ابلاغ اور اظہار انہوں نے کس وابستگی سے کیا ہوگا۔ آج دیکھے کہ یہی ایک جذباتی نقطہئ نظر ہے۔اس وقت تو وہ کہہ رہا تھا ضرورت نہیں رہی اب ایک نئے ہزار سال کے بعد شخصیت کی ضرورت ہے، تو آج بھی دیکھئے،شخصیت تو کوئی بھی اس طرح کی ہو نہیں ہوسکتی نا،کوئی ضروری نہیں کہ کوئی جلال الدین اکبر جیسا شخص ہر شخص کو مل جائے اور وہ ان کی باتوں میں آجائے تو آج کیا حربہ استعمال کیا گیا ہے کہ توحید کے تصور کو راسخ کرو ……رسول اللہ  ﷺ کو اتنا نہ بڑھادو کہ توحید کا تصور مسخ ہوجائے۔یہ کیا بات ہے، یہ صر ف ایک propagandaہے، یہ صرف ایک سازش ہے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺسے محبت کرنے ولا کوئی شخص بھی توحید کے تصور کو ثانوی حیثیت دے ہی نہیں سکتا۔ رسول اللہ ﷺسے محبت ہی وہی کرے گا جس کا ایمان ہوگا ……لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ……رسول اللہ ﷺ کی محبت کس طرح توحید کے تصور کو پس منظر میں دھکیل سکتی ہے جب کہ خود رسول اللہ ﷺ واضح طور پر ارشاد فرماگئے ہیں کہ مجھے اپنی امت سے شرک کا کوئی اندیشہ نہیں۔

حضرت مجدد الف ثانی  ؒ کے کام کی بڑی نمایاں خصوصیت کہ انہوں نے ماحول اور معاشرے کو جناب رسول اللہ  ﷺ کی طرف متوجہ کیا اور آج بھی آپ اگر دیکھیں گے اپنے دور میں دیکھیں گے جتنے فتنے ہیں اس حوالے سے پنپ رہے ہیں۔اسی حوالے سے مسلمانوں کو مغالطے کا شکار کیا جارہا ہے۔

آپ محبت اہل بیت کو خاتمہ بالایمان کے لیے نہایت ضروری قرار دیتے ہیں۔اپنے والد گرامی مرتبت کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ وہ ہمیں محبت اہل بیت کی بڑی تلقین فرماتے اور اسے سلامتی ایمان کے لیے بنیادی بات قرار دیتے تھے۔جب ان کا آخری وقت قریب آگیا اوردنیاؤی معاملات سے ان کا احساس معطل ہونے لگا اوربرزخی کیفیا ت شروع ہوگئیں تو میں نے اس عالم میں ان سے سوال کیا کہ جس محبت اہل بیت کی آپ بات کیاکرتے تھے۔ دنیاسے جاتے ہوئے آپ اس کا احساس رکھتے ہیں تو انھوں نے فرمایا کہ الحمداللہ میں محبت اہل بیت کا فیضان اپنی روح میں محسوس کررہا ہوں۔

آپ نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ خلفائے ثلاثہ کے بعد امت میں فیضان روحانیت تقسیم کرنے کی ڈیوٹی حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ہے اورحضرت خاتون جنت رضی اللہ عنہا اور حسنین کریمین اس فریضہ میں آپ کے شریک ومعاون ہیں اور ان حضرات کے بعد غوثیت کبریٰ کا منصب ان کی اولاد پاک کے لیے مختص ہے۔ ائمہ اہل بیت کے بعد حضرت سید نا شیخ عبدالقادر جیلانی اس منصب پر فائز ومتمکن ہیں اور حضرت امام مہدی کے ظہور تک آپ کی غوثیت کبریٰ کازمانہ ہے۔ امام مہدی غوثیت کبریٰ کے مقام کے وارث ہوں گے۔اسی طرح روحانیت کا بالا ترمقام ہمیشہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد پاک کے پاس رہے گا۔ 

 فرماتے ہیں کہ میں محبت اہل بیت کی وجہ سے ختم شریف کا اہتمام کیاکرتا تھا۔ایک بارمجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی میں نے  آپ کی خدمت میں ہدیہ نیاز پیش کیا،لیکن آپ نے التفات نہیں فرمایا مجھے تشویش ہوئی کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیوں توجہ نہیں فرمارہے تو آپ نے ارشادفرمایا کہ میں عائشہ (رضی اللہ عنہا)کے گھر کھانا تناول فرماتا ہوں۔جس نے مجھے راضی کرنا ہو وہ اپنا کھانا وہاں بھیجے میں سمجھ گیا کہ میں ختم شریف میں حضرت عائشہ صدیقہ کا اسم گرامی نہیں لیتا یہ بات نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کو پسند نہیں ہے اس تربیت نبوی کے بعد میں نے ختم شریف میں امہات المومنین کا نام لینا شروع کردیا۔

حضرت مجدّد الف ثانی کی تعلیمات کا ایک اوراہم نظریہ جسے آج بھی پوری طرح شعور میں لانے کی ضرورت ہے۔ وہ ہے شریعت اورطریقت میں مطابقت، شریعت اورطریقت میں کوئی اختلاف نہیں اورنہ ہی شریعت مبارکہ سے روگردانی کرنے سے کوئی منزل روحانیت حاصل ہوتی ہے۔ آپ نے یہاں تک فرمایا کہ تمام مجاہدہ،مکاشفہ ہیں اس لئے کہ شریعت مطہر ہ کی حقانیت کا باطنی مشاہدہ ہوجائے اوراس کو اس کی حقانیت کی باطنی دلیل مل جائے۔آج محض کیفیات کو الگ کرکے پیش کیے جانے کا چلن پھر بڑھنے لگا ہے۔ایسے میں حضرت مجدّد الف ثانی کی تعلیمات کا شعور اورادراک بے حد ضروری ہے۔تصوف دین گریز ی اوردین سے بالاتر ہوکر ایک باطنی سرمستی میں محو ہوجانے کا نام نہیں ہے بلکہ دین پر پورے ذہنی اور روحانی شعور اورادراک سے کاربند ہوجانے کا نام ہے۔ 

سنت اوربدعت کے حوالے سے آج بڑی بحث وتکرار ہے اورمخاصمت کی فضا نظر آتی ہے اس معاملے میں حضرت مجدّد الف ثانی کا موقف بڑا لطیف اورخوب صورت ہے۔ آپ بدعت کے ساتھ ”حسنہ“کی صفت کو پسند ہی نہیں فرماتے بلکہ ہر اچھے کام کو جس کی اصل نصوص سے ثابت ہو۔اسے سنتِ حسنہ کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔یہ حدیث کے بہت ہی گہرے ادراک پر مبنی بات ہے یہ ایک بہت ہی صاحب مقام روحانی شخصیت ہی ایسی بات کرسکتی ہے،جسے نور نبوت کا فیضان اورتسلسل مختلف امور میں کارفرما اور جلوہ گر نظر آتا ہو۔

مزید :

ایڈیشن 2 -