جب کلمہ طیبّہ متنازع بنا دیا گیا!

جب کلمہ طیبّہ متنازع بنا دیا گیا!

  

سلیم منصور خالد

آج کل ’یکساں نصابِ تعلیم‘ اور پھر اس میں اسلامیات کے نصاب، اور جولائی2020ء  میں ’تحفظ ِ بنیاد اسلام ایکٹ‘ (پنجاب حکومت)کی بحث نے ماضی کے اْفق روشن کردیے۔ پاکستان کا قیام اور نظریہ  پاکستان کی بنیاد دین اسلام اور کلمہ  طیبہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔اس بنیاد کو متنازع بنانے کے لیے سیکولر عناصر نے ہمیشہ اہلِ دین ہی میں غلط فہمی پیدا کرکے پیدا شدہ کش مکش کو عام لوگوں میں بددلی پھیلانے کا کام کیا۔ سادہ لوح علما کا ایک طبقہ، ان عناصر کو ایسے شیطانی کھیل میں آلہ  کاربننے کے لیے ہرمرحلے پر ملتا رہا ہے۔ اسی نوعیت کی ایک تشویش ناک کارروائی کا احوال ہماری تاریخ کا حصہ ہے، جس میں بہت سے سبق پوشیدہ اور عبرت کے نشانات نمایاں ہیں۔

یہ 1975ء  کے اواخر کی بات ہے۔ میں پنجاب یونی ورسٹی کا طالب علم تھا اور اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب کی تنظیمی ذمہ داری کے لیے، مولانا مودودی  کی رہایش گاہ 5-اے، ذیلدار پارک کے سامنے 4-ذیلدار پارک میں روزانہ آیا کرتاتھا۔ تب ہم تمام نمازیں مولانا مودودی   کے ساتھ  اْن کے گھر کے لان میں پڑھا کرتے تھے۔ جب مولانا محترم  کی طبیعت ٹھیک ہوتی تو وہ نمازِ عصر کے بعد وہیں صفوں پر بیٹھے ملاقاتیوں کے سوالات کے جواب دیتے اور ہلکی پھلکی گفتگو رہتی۔ یہ سلسلہ مغرب سے کچھ دیر پہلے تک چلتا۔

ایک روز ہم نے دیکھا کہ ایک پْرجوش خوبرو نوجوان، خطیبانہ لہجے میں مولانا مودودی  سے کہنے لگے: ”مولانا، بھٹو صاحب کی حکومت نیتو اسلام کو بھی تقسیم کردیا ہے۔چودہ سوسال سے اْمت ایک کلمے پرمتفق چلی آرہی ہے، لیکن اب تو کلمہ  طیبہ بھی شیعہ اور سْنّی میں تقسیم کر دیا گیا ہے“۔

مولانا نے فرمایا: ”ایسا حادثہ کب ہوا؟“

نوجوان نے بتایا: ”مولانا، یہ دیکھیے نہم، دہم اسلامیات لازمی کی کتاب میں کلمہ کے عنوان میں ’کلمہ‘ کے بجاے یہ نوٹ درج ہے: ”اساتذہ  کرام کلمہ راہنمائے اساتذہ گائیڈ سے دیکھ کر پڑھائیں“۔ اب دیکھیے مولانا، یہ ہے مرکزی وزارتِ تعلیم اسلام آباد کی شائع کردہ گائیڈ بْک، جس میں سْنّی اور شیعہ طلبہ کے لیے الگ الگ کلمہ درج ہے“۔نوجوا ن کے ہمراہ آنے والے بزرگ نے کہا: ”مولانا، ہم آپ سے رہنمائی کے لیے حاضر ہوئے ہیں“۔

مولانا نے فرمایا: ”یہ دونوں کتابیں میرے پاس چھوڑ دیں اور کل مغرب کے بعد آئیں“۔

اس واقعے کے بعد میں نے جب اس نوجوان، اور بزرگ کے علاوہ ایک وکیل صاحب کو مولانا مودودی  کے ہاں وقتاً فوقتاً ملاقات کے لیے آتے جاتے دیکھا، تو ایک روز نوجوان سے تعارف حاصل کیا۔ معلوم ہوا، وہ مولانا محمد شفیع جوش، ماڈل ٹاؤن ایف بلاک مسجد کے خطیب ہیں۔ ان کے ساتھ جو بزرگ ہیں ان کا نام پیر سیّد ابرارمحمد صاحب ہے اور وکیل صاحب کو ہم جانتے تھے ارشاد احمد قریشی ایڈووکیٹ۔

میں نے محمد شفیع صاحب سے پوچھا: ”اْس روز کی گفتگو پر مولانا نے کیا رہنمائی فرمائی ہے؟“

شفیع جوش صاحب نے بتایا: ”مولانا نے کہا ہے کہ ’اس مسئلے کو سڑکوں پر احتجاج اور   باہم کشیدگی پیدا کرنے کے بجاے آئینی اور قانونی سطح پر حل کرنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں‘۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ’قانونی معاونت کے لیے میں ارشاد احمد قریشی ایڈووکیٹ کی ذمہ داری لگاتاہوں‘۔ پھر یہ بھی کہا کہ ’اس مسئلے میں، مَیں علمی، قانونی اور مالی سطح کی تمام ذمہ داریوں کو پورا کروں گا۔آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ عدالت میں پیش ہوں اور پوری ایمانی قوت اور اللہ کی تائیدسے جم کر کھڑے رہیں“۔

ان دنوں وہ تینوں حضرات، رہنمائی حاصل کرنے اوررٹ کی تیاری کے علاوہ قومی سطح پریک جائی کی حکمت عملی بنانے کے لیے مولانا مودودی کے ہاں آیا کرتے تھے: ”پھر چند ہفتوں کے بعد ایک نہایت جامع رٹ جنوری 1976ء  میں لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردی گئی، جو بنیادی طورپر مولانا مودودی مرحوم و مغفور ہی کی تحریر پرمبنی تھی، تاہم اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ کیا گیا“۔ 

اْسی ملاقات میں شفیع جوش صاحب نے مجھ سے کہا: ”مولانا مودودی نیسختی سے ہدایت کی ہے، کہ لوگوں سے میرا ذکر نہ کیا جائے، کہ اس صورت میں عدالتی عمل کے پاؤں لڑکھڑانے کا خدشہ ہے، جس سے پیش نظر مقصد کو نقصا ن پہنچے گا“۔ یوں نوجوان، جوش صاحب نے ہم عمری کی بے تکلفی سے اس نازک رازداری کا حصے داربنالیا (اس رٹ اور اس کے نتیجے میں عدالت کے فیصلے کو اس تحریر کے آخر میں ملاحظہ فرمایئے)۔

اس واقعے کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے 45برس بعد مولانا محمد شفیع جوش صاحب سے گذشتہ دنوں جو ملاقات ہوئی، تو اس میں متعلقہ اْمور کی وضاحت ممکن ہوئی، جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے: محترم شفیع صاحب نے بتایا: ”رٹ دائر کرنے کے بعد مولانا مودودی نے مشورہ دیا کہ اب آپ مولانا مفتی محمد حسین نعیمی  (م:12 مارچ 1998ء) لاہور، مفتی محمد شفیع  صاحب (م: 6 اکتوبر 1976ء) کراچی، خواجہ قمرالدین سیال شریف (م: 20 جنوری 1981ء) سے بھی جاکرملیں اورمقدمے کی صورتِ حال پر ذاتی سطح پر بات کریں“۔

 ان اکابر علما سے ملنے کے بعد ہم نے راولپنڈی میں مولانا غلام اللہ خان (م: 26مئی 1989ء) اور پیراختر حسین شاہ علی پوری (م: 16 اکتوبر 1980ء) سے بھی ملاقات کی، جنھوں نے اپنا تعاون پیش کرتے ہوئے بہ اصرار ہمیں مالی معاونت لینے کے لیے کہا تو ہم نے بڑے ادب سے ان کو بتایا: ”کلمہ  طیبہ کے تحفظ کے لیے جملہ سفری اور عدالتی اخراجات کا کْلی ذمہ مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی  نے ذاتی طورپراْٹھا لیا ہے، اس لیے اس ضمن میں کسی فرد یا جماعت سے مالی ضرورت کی حاجت نہیں رہی“ تو ان حضرات نیمولانا کی عظمت اور ان کے جذبہ  اسلامی کو سراہتے ہوئے مولانا کی خدمت میں سلام پیش کیا۔ ہم نے واپسی پر یہ تشکر بھرے جذبات جب مولانا مودودی کی خدمت میں پہنچائے تو مولانا مودودی  نے ہمیں انھی قدموں ان حضراتِ علما کے پاس اپنے خرچ پر واپس بھیجا اورفرمایا: ”انھیں وعلیکم السلام کہیں اور میری طرف سیشکریہ ادا کریں“۔ اکابرین ملّت اسلامیہ کے اس اسوہ کا ایمان افروز مظاہرہ میری زندگی کا ناقابلِ فراموش واقعہ ہے“۔

شفیع صاحب نے مزید کہا:”اتفاق سے ان دنوں امام مسجد نبوی مدینہ منورہ، پاکستان آئے ہوئے تھے اور اْنھوں نے بادشاہی مسجد لاہورمیں نماز جمع  المبارک کی امامت فرمائی، جس میں پنجاب بھرسے لاکھوں اہلِ ایمان شریک ہوئے۔ اس موقعے پر لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردہ رٹ کا اْردو ترجمہ ایک لاکھ کی تعداد میں ہم نے شائع کرکے تقسیم کیا، جو پورے پاکستان میں پھیل گیا۔ تب ذوالفقارعلی بھٹو صاحب کا دورِ حکومت تھا۔ اسی دوران شاہِ ایران رضا شاہ پہلوی بھی پاکستان آئے ]8مارچ 1976ء[ تھے۔ ہمارا قیاس ہے کہ انھوں نے دیگراْمور کے علاوہ اس موضوع پر بھی بات کی ہوگی۔ مولانا مودودی کی ہدایت پر ہم نے رٹ دائر کرنے سے قبل ہی محترم آیت اللہ محمدکاظم شریعت مداری  ]م: 3 اپریل 1989ء[، ایران سیفتویٰ حاصل کرکے شیعہ موقف بھی رٹ میں شامل کرلیا تھا کہ شیعہ بھائیوں کے نزدیک بھی کلمہ  اسلام صرف ’لا الٰہ الا اللہ محمدرسول اللہ‘ ہے“۔ 

مولانا جوش صاحب نے بتایا: ”لیکن حکومت پاکستان دوسری جانب سے دباؤ میں نظر آرہی تھی، جس کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمداقبال ]م: 5مئی 2008ء [ کو اسلام آباد طلب کرکے بہرقیمت مقدمے کا فیصلہ کرنے سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی۔ اسی طرح ہمیں بھی خوف اور لالچ سے مقدمے کی پیروی سے باز رکھنے اور دوسری جانب مقدمے کو طوالت کا شکار کرنے کا کام شروع ہوا۔ اسی دوران آل پاکستان شیعہ کانفرنس کے صدراور چند روزپہلے تک فرانس میں پاکستان کے سفیر آغا مظفرعلی خاں قزلباش صاحب ]م: 21ستمبر1982ء [ نے ایک جلسے میں کلمہ  اسلام کی رٹ دائر کرنے پر ہم دونوں کو ’کانگریسی مْلّا اور پاکستان کا مخالف قراردیتے ہوئے کلمہ  اسلام مقدمے کو پاکستان توڑنے کی سازش‘ قرار دیا۔ آغا قزلباش صاحب کوسابق چیف جسٹس محمد منیر ]م: 26جون 1981ء [کی معاونت حاصل تھی۔ ان کو باور کرایا گیا کہ ”رٹ کنندہ محمد شفیع کی پیدایش تو ستمبر 1947ء  میں ہوئی تھی، ان پر پاکستان کی مخالفت کا الزام کیسے لگایا جاسکتا ہے؟“ اس طرح یہ الزام اپنی موت آپ مرگیا۔ سماعت سے پہلے ہم پر دباؤ ڈالا گیا کہ یہ رٹ واپس لی جائے، کہ کلمہ  طیبہ پہلی ہی صورت میں نصاب کے اندر شامل کردیا جائے۔ چیف جسٹس سردار محمد اقبال صاحب نے ہمیں چیمبر میں بلایا اور قومی حالات کی طرف توجہ دلا کر فرمایا: ”یقین دلاتا ہوں واحد کلمے کی بحالی ہوجائے گی، اس لیے رٹ واپس لے لیں اور اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو میں رٹ خارج کردوں گا“۔ اسی طرح ایک صوبائی سیکرٹری نے کہا کہ ”رٹ واپس لینے کی صورت میں آپ کو حکومت کچھ انعام و اکرام سے بھی نوازنے کا ارادہ رکھتی ہے۔خواہ مخواہ مسئلے کو آگے نہ بڑھائیں“۔

مولانا شفیع صاحب نے بتایا: ”جب لاہور ہائی کورٹ کے سربراہ اور حکومت کے ایک سیکرٹری کی جانب سے دباؤ بڑھا تو ہم نے سوچنے کے لییوقت مانگا اور اگلی تاریخ کی استدعا کی، جو صرف اگلے روز تک منظور کرلی گئی۔ یوں صرف ایک رات کے وقفے میں ہم نے مولانا مودودی کی خدمت میں حاضر ہوکرساری رْوداد بیان کی۔ ارشاد احمد قریشی صاحب بھی ہمراہ تھے۔ ہم نے مولانا مودودی سیعرض کیا: ”حکومت ِ پاکستان نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ کلمہ  اسلام سابقہ پوزیشن پر نصاب میں بحال کردیا جائے گا۔ اور یہ کہ مجوزہ نظرثانی شدہ کتب نصاب، ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی پیش کردی گئی ہیں کہ آیندہ کچھ عرصے میں مطالبہ پورا ہورہا ہے،اس لیے رٹ واپس لے لیں“، وغیرہ وغیرہ۔

مولانا مودودی نے گہری توجہ اور فکرمندی سے تفصیل سننے کے بعد ہم سے ارشادفرمایا: ”یہ ایک مضبوط مقدمہ ہے، اور یہ بھی درست ہے کہ حکومت غلطی کا احساس کرکیازالہ کررہی ہے، مگروہ یہ سب باتیں آف دی ریکارڈ کرنا چاہتی ہے۔ اس طرح آپ رٹ واپس لے لیں گے اور آیندہ نصاب میں اگرکبھی ایسی حرکت ہوئی تو پھررجوع کرنا بہت مشکل ہوجائے گا، اب لہٰذا یہ ’رٹ‘  آپ کا ذاتی معاملہ نہیں رہا ہے بلکہ یہ ملّت اسلامیہ کی ترجمانی اور ایک امانت ہے۔ آپ کو ’رٹ‘ واپس لینے کا شرعی اختیار نہیں ہے۔ اس لیے آپ مکمل ثابت قدمی اختیار کریں اور عدالت میں جاکر کہیں کہ وہ آئین اور قانون کے تحت فیصلہ کرے“۔ 

اگلے روز 10 بجے سردار محمد اقبال چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ نے کمرۂ عدالت میں مجھ سے استفسار کرتے ہوئے فرمایا کہ ”آپ کا مطالبہ مان لیا گیا ہے، اس لیے رٹ واپس لے لیں“۔ گذشتہ رات مولانا مودودی کے بیان کردہ الفاظ نے ہمیں ایک ایمانی قوت عطا کردی تھی، اس لییبھری عدالت میں اعلیٰ حکام، وکلا اور جج صاحب کو مخاطب کرکے رٹ واپس لینے کے بجاے میں نے بیان ریکارڈ کرنے کا مطالبہ کردیا۔ چیف جسٹس نے غصّے میں فرمایا:”حکومت تو نصاب  درست کرنے کا مطالبہ مان رہی ہے، تو اب آپ لوگ اور کیا چاہتے ہیں؟“ میں نے معلوم نہیں کس طرح بھری عدالت میں بلندآواز میں عرض کیا: ”جناب عزّت مآب چیف جسٹس صاحب! رٹ کلمہ  اسلام پر دعویٰ استقرارِ حق قرار دیا جائے کہ کلمہ  اسلام صرف لا الٰہ الااللہ محمد رسول اللہ ہے۔ اس لیے فیصلہ دے کر ایمان بچا لیں یا مسترد کرکے نوکری بچالیں“۔ اس پر بھری عدالت میں سناٹا چھاگیا۔ چیف جسٹس صاحب نے غصّے میں عدالت برخواست کردی۔ ہم ہائی کورٹ سے نکل کر سیدھے مولانا مودودی صاحب کے پاس پہنچے۔ شرفِ ملاقات پر مولانا کو مختصر ترین کارروائی کی یہ رْوداد سنائی تو محترم مولانا مودودی نیمسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ”آپ نے اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ اب فیصلہ جو بھی ہو، آپ اور ہم بری الذمہ ہیں“۔

مولانا شفیع صاحب نے مزید بتایا: ”جسٹس صاحب اس روز خلافِ عادت ہائی کورٹ سے 11بجے دن گھرپہنچے تو خود جسٹس سردار اقبال صاحب نے ریٹائرمنٹ کے کئی سال بعد مجھے بتایا کہ ”یوں گھر خلافِ معمول آمد پر میری اہلیہ نے پوچھا: طبیعت تو ٹھیک ہے، آج آپ بہت جلد گھرآگئے ہیں“۔ کہا کہ ”ٹھیک نہیں ہے۔ ایک مولوی جو عدالتی آداب سے یکسرناواقف ہے، اس نے بھری عدالت میں مجھے کہا: ”رٹ کلمہ منظور کرکے ایمان بچالیں یا مستردکرکے نوکری بچالیں۔ کیسے غیرمہذب ہوتے ہیں یہ مولوی لوگ۔ یہ سن کر طبیعت موزوں نہیں رہی تو گھر آگیا ہوں اور ساتھ ہی وہ فائل قریب رکھے ٹیبل پر دے ماری۔ میری اہلیہ گویا ہوئیں: ”آپ رٹ منظورکرکے ایمان محفوظ کرلیں، نوکری کی فکر نہ کریں، اللہ مالک ہے“۔ سردار اقبال صاحب نے بتایا کہ بیگم کے اس بے ساختہ اورمعصومانہ مشورے نے مجھے پریشانی سے نجات دلا کر غصہ ختم کردیا“۔

شفیع صاحب کے بقول: ”چیف جسٹس سردار محمد اقبال نے کہا: ”پھر آپ کو معلوم ہے کہ میں نے کلمہٓ طیبہ کیس ایک روز کی سماعت کے بعد منظور کرلیا اور اس ایمانی فیصلے سے طبیعت بحال و مطمئن ہوئی“۔اور اس کے بعد یہ بھی امرواقعہ ہے کہ چند ہی روز بعد حکومت پاکستان کی ناراضی کے باعث، اس ترمیم کی بنیاد پر (کہ چیف جسٹس چارسال تک ہوگا) سردار محمد اقبال صاحب بطورِ چیف جسٹس فارغ کر دیے گئے ]یاد رہے کہ حکومت نے جسٹس اقبال صاحب سے کہا تھا کہ آپ سینیر جج کے طور پر عدالت میں کام کرتے رہیں، مگرسردارصاحب نے صرف54برس کی عمر میں عدالت کا منصب چھوڑ کر گھر آجانا پسند فرمایا۔ جو ہماری عدالتی تاریخ کا منفرد واقعہ ہے،مرتب[۔ واقعی بیگم عفت اقبال کے ایمانی مشورے سے جسٹس سردار محمد اقبال نے رٹ منظور کرکے ایمان بچانے کا ثبوت دیا اور نوکری ختم کرنے کی ذمہ داری حکومت پر ڈال دی“۔

مولانا محمد شفیع صاحب نے بتایا: ”میں نے سردار محمد اقبال صاحب سے کہا: میں بھی آج آپ کو بتا رہا ہوں کہ اس مقدمے کے پیچھے دراصل خاموشی سے مولانا مودودی تھے“۔ اس پر سردار صاحب نے کہا: ”یہ تو بہت ہی اچھاہوا کہ اْس وقت مجھے یہ بات معلوم نہ ہوئی، اوراگر یہ پتا چل جاتا تو مقدمے کے ساتھ میرا رویہ مختلف ہوتا“۔ یوں انھوں نے اْس بے خبری پر مسرت کا اظہار کیا۔

”سردار محمد اقبال صاحب نے اسی ملاقات میں یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر کلمہ  پاک کی خدمت میں آپ کو روزِقیامت اجرملے تو مجھیبھی یاد رکھنا۔ یہ کہہ کران کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور مجھ جیسے گنہگار نے نم پلکوں سے وعدہ کیا کہ اگراللہ ربّ العالمین نے میری خطاؤں سے چشم پوشی کرتے ہوئے کلمہ  اسلام کی برکت سے، کرم وفضل سے نوازا تواپنے ربّ سے عرض نوا ہوں گا کہ اس میں پہلے چیف جسٹس محمد اقبال اور اْس کے بعد جو مالک و محبوب کو منظورہو“۔

مزید :

ایڈیشن 2 -