آداب ضیافت

آداب ضیافت

  

 مولانا فضل الرحیم اشرفی

مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور

”حضرت ابو شریح  ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص خدا اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، اور خاطر و مدارت کا زمانہ ایک دن اور ایک رات ہے اور مہمان کی مہمان نوازی کی مدت تین دن اور تین رات ہے۔ اس کے بعد کی مہمان نوازی صدقہ و خیرات ہے اور مہمان کو چاہیے کہ وہ اپنے میزبان کے ہاں زیادہ عرصہ نہ ٹھہرے یہاں تک کہ وہ تنگ آجائے۔“(بخاری و مسلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث مبارکہ میں مہمان نوازی کی تعلیم دی اور مہمان نوازی کی مدت بھی بیان فرمائی۔ مختلف احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان نوازی کی تعلیم اور اُس کی فضیلت اُمت کو سکھائی۔ اور یہاں تک فرمایا کہ لاَ خَیْرَ لَمَنْ لاَیُظِیْفُ اس شخص کے لیے کوئی بھلائی نہیں جو مہمان نوازی نہیں کرتا۔ بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں فرمایا کُلُّ  بَیْتٍ لاَ یَدْ خُلُہ‘ ضَیْفٌ لاَ تَدْخُلُہ‘ الْمَلاٰئکَۃُ۔ یعنی جس گھر میں مہمان داخل نہ ہوں اس گھر میں فرشتے بھی داخل نہیں ہوا کرتے۔ لیکن مہمان کے لیے اتنے زیادہ تکلفات بھی نہیں کرنے چاہئیں کہ طبیعت پر گراں گزرے اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہمان کے لیے تکلف نہ کرو کہ تکلف کی وجہ سے تم مہمان کو برا جانو گے اور جو مہمان کو برا جانتا ہے وہ اللہ کو برا جانتا ہے اور اللہ اسے برا جانتا ہے۔“

امام غزالی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب احیاء العلوم میں تعلیمات اسلامیہ کی روشنی میں مہمان نوازی کے چند ایسے آداب بیان فرمائے ہیں جن کو مدنظر رکھنے کی وجہ سے انسان کو دنیا کی راحت بھی میسر ہو سکتی ہے اور آخرت میں ثواب بھی۔

امام غزالی ؒ فرماتے ہیں آداب ضیافت اور مہمان نوازی میں سے پہلا ادب یہ ہے کہ متقی اور پرہیز گار لوگوں کی دعوت کریں، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا ہے یہاں تک کہ جب ایک صحابی کی دعوت میں شریک ہوئے تو آپ نے ان کے لیے یہ دعا مانگی تھی کہ اللہ کرے تیرا کھانا متقی اور پرہیزگار لوگ کھائیں ایک اور جگہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے فرمایا کہ سوائے متقی کے کسی کا کھانا مت کھانا اور نہ متقی کے علاوہ تمہارا کھانا کوئی کھائے مہمان نوازی کا دوسرا ادب یہ  ہے کہ دعوت میں صرف مالداروں کو نہ بلایا جائے بلکہ غرباء اور مستحق لوگوں کو بھی مدعو کیا جائے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب کھانوں میں سے برا کھانا اس ولیمہ کا ہے جس میں مالداروں کو دعوت دی گئی ہو اور غرباء کو نہ بلایا گیا ہو۔ تیسرا ادب یہ ہے کہ دعوت میں اپنے اعزہ و اقرباء کو نہ چھوڑے اس سے دلوں میں دوری اور قرابت داری میں توڑ پیدا ہو گا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلہ رحمی اور جوڑ کا حکم فرمایا۔ مہمان نوازی کے بارے میں چوتھا ادب یہ ہے کہ دعوت سے مقصود فخر اور ریا نہ ہو بلکہ اپنے اعزاء اقرباء اور اپنے دوستوں اور بھائیوں کے دلوں میں میلان پیدا کرنے اور سنت نبوی پر عمل کرنا اور اپنے ایماندار بھائیوں کو خوشی پہنچانی مقصود ہو پانچواں ادب یہ ہے کہ ایسے شخص کی دعوت نہ کرے جس کے بارے میں معلوم ہو کہ اُس کے آنے پر دشواری ہو گی اور جب آئے گا تو حاضرین سے اُسے تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ چھٹا ادب یہ ہے کہ دعوت اس شخص کی کرے جس کا دعوت قبول کرنا آپ کے لیے خوشی کا باعث ہو حضرت سفیان  ؒفرماتے ہیں کہ جو شخص کسی کی دعوت کرے اور دل میں یہ ہو کہ وہ دعوت نہ قبول کرے تو اچھا ہے تو ایسی دعوت دینا بھی گناہ ہے۔ جب مہمان آجائے تو اس کی تعظیم کے بھی چند آداب ہیں پہلا یہ کہ جب مہمان پہنچ جائے تو کھانا جلد از جلد پیش کیا جائے، دوسرا یہ کہ کھانوں کو ترتیب سے پیش کیا جائے اس طرح کہ پہلے کھانے والی پہلے اور بعد والی بعد میں۔ تیسرا یہ کہ کھانا اس طرح پیش کیا جائے کہ تمام مہمان اس سے لطف اندوز ہوں عمومی دعوت میں کسی کے سامنے خاص رکھنا باہمی رنجش کا سامان پیدا کرتا ہے۔ چوتھا یہ کہ اگر مختلف اقسام کے کھانے تیار کیے گئے ہوں تو پہلے لذیذ کھانے لا کر رکھ دیجئے ورنہ بعد میں عمدہ کھانا پیش کرنے کی وجہ سے مہمان تکلیف میں مبتلا ہو گا۔ پانچواں ادب یہ کہ میزبان کو چاہیے کہ سب سے آخر میں کھانا چھوڑے تاکہ مہمان خوب سیر ہو کر کھا لے۔ اور جب مہمان کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر جانے کے لیے تیار ہو تو میزبان کے لیے سنت طریقہ یہ ہے کہ مکان کے دروازے تک اس کے ساتھ چلے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہمان کی پاسداری یہ ہے کہ گھر کے دروازے تک اس کے ہمراہ جائے۔ اللہ رب العزت ہمیں اسلامی طریقے سے مہمان نوازی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -