میرے محسن کو سپرد خاک کر دیا گیا 

 میرے محسن کو سپرد خاک کر دیا گیا 
 میرے محسن کو سپرد خاک کر دیا گیا 

  

جولائی 2015ء کی بات ہے جب ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا انتقال ہوا، ان کی میت کو بھارت کے دارالخلافہ دہلی  لا یا گیا تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیراعظم اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان ایئرپورٹ  پر میت کا استقبال کر رہے تھے کیونکہ ڈاکٹر اے پی جے کی میت کو یہاں سے ان کے آبائی علاقہ میں لے جایا جانا تھا دہلی ایئرپورٹ سے ڈاکٹر صاحب کی میت کو سرکاری اعزازات اور پروٹوکول کے ساتھ مدراس روانہ کیا گیا وہاں پر بھی ملک کا وزیراعظم وزرائے اعلیٰ اور ریاستی وزرا  اور تینوں افواج کے سربراہان پہنچے میڈیا پر ساری دنیا  نے دیکھا کہ جب ڈاکٹر عبدالکلام کو اس دنیا فانی سے رخصت کیا جا رہا تھا تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ وزیراعظم نریندر مودی نے پہلے تو گھٹنوں کے بل جھک کر سلام کیا اور پھر  لمبے وقت تک کھڑا رہا کہا جاتا ہے کہ جنازے میں تین سے چار لاکھ افراد شامل ہوئے تمام سرکاری اعزازات کے ساتھ ڈاکٹر عبدالکلام کو سپرد خاک کر دیا گیا ڈاکٹر عبدالکلام کی یاد میں لائبریری بنائی گئی میموریل کمپلیکس تعمیر کیا گیا جس میں مختلف مزائل ریپلیکا اور ڈاکٹر صاحب کا  مجسمہ نصب کیا گیا  یہ ایک غیر مسلم ملک کی کہانی ہے،اور پھر 10 اکتوبر  21 آ گیا، محسن ِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب انتقال کرگئے،ان للہ وانا الیہ راجعون 

میرا محسن ایک طویل علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملا میرے دیس کی ہر آنکھ پر نم ہوگئی میرے دیس کا ہر زندہ دل زخمی ہوگیا ہر طرف ایک احساس تھا کسی اپنے کو کھونے کا کسی اپنے کے  رخصت ہونے کا بارش کی بوندیں حکمرانوں کے شہر میں نوحہ کناں تھیں  سننے اور ہر دیکھنے والے کا چہرہ افسردہ نظر آ رہا تھا۔

ڈیرے دار جیسے سخت طبیعت شخص کی آنکھوں میں آنسوؤں کی برسات ہوئی الفاظ لڑکھڑانے لگے کیونکہ تقریبا دو ماہ قبل ڈاکٹر صاحب سے بہت اچھی گفتگو ہوئی تھی لیکن آج جب خبر کی تصدیق کے لیے ڈاکٹر صاحب اور اپنے مشترکہ دوست میاں شفقت سعید کو فون کیا تو انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے رخصت ہونے کی خبر کی تصدیق کر دی اور آج جب ڈاکٹر صاحب کے ذاتی نمبر پر فون کیا تو نمبر بند تھا  شاید ہمیشہ کیلئے خیر میرے محسن کو لاکھوں کروڑوں دعاؤں آنسوؤں اور سسکیوں میں سپر د خاک کر دیا گیا یہ تو جذبات پاکستانی قوم کے ہر خاص و عام شخص کے تھے ڈیرے دار نے اپنی بیٹی کے سوال پر انہیں ڈاکٹر صاحب کی ساری کہانی سنائی وہ بھی افسردہ ہو گئی  میری قوم سے التجا ہے کہ برائے کرم ڈاکٹر عبدالقدیر خان ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کا احسان اپنے آنے والی نسلوں کو ضرور بتائیں جو انہوں نے پاکستانی قوم پر کیا پھر میری نظر ڈاکٹر اے کیو خان کے جنازے کی پہلی صف پر پڑی دیکھ کر دل دکھی ہوا محسن پاکستان کے جنازے کی پہلی صف میں صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان، وزراء اعلیٰ، گورنر کوئی بھی اعلیٰ عہدیدار موجود نہیں تھا جو ان کی بے حسی اور خود غرضی کا منہ بولتا ثبوت ہے اس قومی ہیرو کو لاوارثوں کی طرح کسی گمنام قبرستان میں  سپرد خاک کر دیا گیا، حکمرانوں کا تعزیتی بیان تو آئے، کسی نے ان کے گھر جا کر اہل خانہ کو کوئی تسلی نہ دی صرف اسی انسان کی بدولت آج ہم اپنے سے 10 گنا بڑے ملک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے قابل ہوئے ہیں یاد کرو وہ دن جب ہندوستان نے  ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان سمیت مسلم امہ کو للکارا تھا صرف اسی شخص اسی محسن کی وجہ سے ہم نے ہندوستان کو ایسا جواب دیا، جس نے دوبارہ کبھی وطن عزیز پر حملہ کرنے کی  دھمکی   نہیں دی  جب سے ڈاکٹر صاحب کی تدفین ہوئی ہے سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم سے حکمران جماعت کو جو  سلا میاں موصول ہورہی ہیں اس سے پہلے کسی جماعت کو یہ نصیب نہیں ہو سکیں اور شاید آئندہ بھی کسی کو نصیب نہ ہو ں۔

لیکن ڈیرے دار کے خیال میں شاید قدرت کو یہ منظور ہی نہیں تھا،کوئی فرق نہیں پڑنا تھا اگر سارے حکمران اور اپوزیشن رہنما ڈاکٹر صاحب کو رخصت کرنے چلے جاتے ہیں ہمارے حکمرانوں نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے جب وطن عزیز کی تاریخ لکھی جائے گی تو میرے محسن کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا حکمرانوں کو ان کی  اس غلطی کی سزا صدیوں تک ملتی رہے گی قوموں کی تباہی نے وہ دور بھی دیکھے ہیں،لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی۔

مزید :

رائے -کالم -