کاروبار کی نرسری 

کاروبار کی نرسری 

  

دنیا میں 99 فیصد بڑے بڑے کاروباری لوگوں اور کمپنیوں کو پڑھیں تو وہ سب چھوٹے سے کاروبار سے شروع ہوئے اور محنت کر کے وہ آج دنیا کے بڑے اور نامور برینڈ بن چکے ہیں اور حیران کن طور پر ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ جن کی سالانہ آمدنی پاکستان کے سالانہ بجٹ سے کئی گنازیادہ ہے,آئیے ہم ذرا غور کریں وارن بفٹ,(فیس بک کے مالک) مارک زکربرگ,ایمازون,کے- ایف-سی اور اسی طرح کے ہزاروں دوسرے لوگوں اور کمپنیوں کی تاریخ کیا ہے! ہم ان کے ماضی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ  یہ سب لوگ غربت کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے مگر ساتھ ہی ساتھ محنت اور امید کی رسی کو بھی مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے اور جب انہیں لوگوں نے اپنے کاروبار اور دیگر شعبوں میں کام کرنا شروع کیا تو ان کو اپنے ملک کی حکومتوں کی طرف سے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ کا سامنا نہیں تھا ایک دن یہ لوگ نرسری میں لگے ہوئے چھوٹے سے بیج میں سے نکلے ہوئے پودے تھے ان کو اپنی حکومتوں کی طرف سے بہترین ماحول کی نرسری مہیا کی گئی، جس میں وہ دیکھتے ہی دیکھتے تناور درخت بن گئے اب وہ نہ صرف اپنے لیے ہی نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے لئے روزگار کا ذریعہ بن چکے ہیں اور اپنے ملک کے لیے دودھ دینے والی گائے کا کردار ادا کر رہے ہیں، ان لوگوں نے اپنے ملکوں کو نہ صرف معاشی طور پر مضبوط کیا بلکہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے اپنے ملک کو ناقابل شکست بھی بنا دیا اب ہم ان لوگوں کا موازنہ اپنے ملک اور اپنی جان پاکستان کے لوگوں سے کرتے ہیں کہ ہمارے لوگ اتنے ٹیلنٹڈ ہونے کے باوجود اس طرح کا کوئی بندہ آخر کیوں پیدا نہ کر سکے؟  میرا مقصد اپنے لوگوں کو پست کرنا ہرگز نہیں بلکہ خامیوں کی نشاندہی ہے

تاکہ ہم بھی اس طرح کے لوگ پیدا کرسکیں سب سے پہلے ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو بغور پرکھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ تعلیمی نظام کسی بھی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے ہمارا تعلیمی نظام صرف کتابوں اور پرچوں تک محیط ہے سب سے پہلے تو ہمیں اس کو پریکٹیکل بنانے کی ضرورت ہے ہمیں اپنے تعلیمی اور ریسرچ کے اداروں کو ہر چھوٹے سے چھوٹے کاروباری اور کسان کے ساتھ ہر صورت میں جوڑنا ہوگا تاکہ وہ اپنی مشکلات کا حل تلاش کرنے کے لیے ان اداروں کا رخ کر سکیں, ہر نئے آنے والے شخص کے لئے  تمام رجسٹریشنز،اپنی کمپنی بنانے سے لے کر برانڈ رجسٹر کرنے اور ٹیکس وغیرہ کے تمام معاملات کے حل کے لئے چیمبر آف کامرس میں ایک ڈیسک بنایا جائے جس کے ساتھ تمام حکومتی اداروں کو منسلک کر دیا جائے جو کہ ہر نئے آنے والے کیلئے تمام بنیادی پیپر ورک ایک سے دو دن میں بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کرے،ہونا یہ چاہیے کہ ہر نئے آنے والے کاروباری کے لئے چیمبر کی رجسٹریشن سے لے کر کمپنی بنانے، فرم رجسٹر کروانے ٹیکس فائلر بننے اور دوسرے تمام دفتری امور بالکل مفت اور آسان ہوں، ہمیں نئے آنے والے چھوٹے چھوٹے کاروباری حضرات کو چیمبر کی شکل میں ایک بہترین نرسری مہیا کرنا ہو گی جو اس کو تمام مشکلات سے نمٹنے میں رہنمائی مہیا کرے اور تناور پھل دار درخت بننے میں مدد کرسکے اور یہی چیمبر ان میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی تعلیمی اور ریسرچ کے ادارے کے ساتھ بھی رہنمائی کے لئے منسلک کردے

اگر ہم پاکستان کے موجودہ حالات کو دیکھیں تو ہر نئے آنے والے کاروباری کو ہم کسی قسم کی کوئی سہولت نہیں دیتے ہیں بلکہ الٹا ہر ادارہ اس کی راہ میں کانٹے بچھانے میں مصروف ہو جاتاہے, بجائے اس کے کہ اسے آسانی دی جائے الٹا اس کیلئے مشکلات پیدا کر دی جاتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس جنگل میں 99% آنے والے کسی نہ کسی وجہ سے تنگ آکر کاروبار چھوڑ  دیتے ہیں اور جو ایک فیصد کسی حد تک کامیاب بھی ہو جائیں ان کو اتنی جونکیں چمٹ جاتی ہیں کہ ان کی بھرپور نشوونما ہو ہی نہیں پاتی ہماری ناکامی کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر حکومت بیماری کی اصل جڑ تلاش کرنے کے بجائے وقتی طور پر علاج (جگاڑ)کو ترجیح دیتی ہے, اور شاید یہی وجہ ہے کہ پچھلے ستر سال سے وہی مسائل بار بار چلتے آ رہے ہیں اور ہماری ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اگر ہم دنیا میں عزت سے رہنا چاہتے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں آنے والے اور پہلے سے موجود کاروباری لوگوں کو ہر طرح کے خطرات اور مشکلات سے بچانا ہو گا اور اس کے لیے انہیں بہترین نرسری مہیا کرنا ہو گی جو ان کو ہر قسم کے مشکل حالات سے بچا کر پھل دینے والے بڑے بڑے درختوں کی شکل دے سکے، صرف یہی وہ درخت ہوں گے جو لوگوں کو روزگار بھی دیں گے اور سایہ بھی اس سے ان کا رہن سہن بھی بہتر ہوگا اور یوں معیار زندگی بھی بلند ہو جائے گا اور انہی کے میٹھے پھل سے ہمارا ملک طاقتور بھی ہو گا اور ہم دنیا میں عزت و آبرو کے ساتھ رہ بھی سکیں گے اور دنیا کے دوسرے ممالک ہمار  ہر بات کو سیریس لیں گے اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ ہمارے لوگ انتہائی ٹیلنٹڈ ہیں مسئلہ صرف انہیں موقع دینے کا ہے جو کہ ریاست کی ذمہ داری ہے یہی لوگ اس ملک کی ترقی کے ضامن ہیں ہمیں ہر صورت انہیں سازگار ماحول فراہم کرنا ہو گا یاد رکھئے یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔

مزید :

رائے -کالم -