’حکومت  فوج کے ساتھ محاذ آرائی سے اجتناب کرے‘رحمان ملک نے وزیراعظم کو مشورہ دیتے ہوئے سخت تنبیہ کردی

’حکومت  فوج کے ساتھ محاذ آرائی سے اجتناب کرے‘رحمان ملک نے وزیراعظم کو مشورہ ...
’حکومت  فوج کے ساتھ محاذ آرائی سے اجتناب کرے‘رحمان ملک نے وزیراعظم کو مشورہ دیتے ہوئے سخت تنبیہ کردی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے وزیر اعظم عمران خان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی اَنا کو ایک طرف رکھ دیں اور ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے مسئلے پر مسلح افواج کے ساتھ محاذ آرائی کو روکیں،یہ مسئلہ خاموشی اور خوش اسلوبی سے حل کیا جاسکتا تھا تاہم حکومت اس مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے قابل دکھائی نہیں دیتی،جاری تصادم سے بالخصوص اداروں اور بالعموم پورے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر رحمان ملک نےحکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو مزید تاخیر کے بغیر حل کرے کیونکہ اس سےمجموعی سیاسی ماحول کوبھی نقصان پہنچ سکتاہے،ماضی میں بہت سی آئینی خلاف ورزیاں ہوئیں جو انہوں نے چیئرمین پارلیمانی کمیٹی کے طور پر تحقیقات کرتے ہوئے 2018ء میں مبینہ انتخابی دھاندلی کے بارے میں دیکھی تھیں،میں وزیر دفاع سے مطالبہ کروں گا کہ میری رپورٹ عام لوگوں کی معلومات کے لیے  پبلک کی جائے۔

انہوں نےکہا کہ پاکستان کے مسائل ایک مخصوص تقرری سے بڑے ہیں جس میں دہشت گردوں کی جارحیت شامل ہے کیونکہ عالمی دہشت گرد تنظیم  داعش اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) پہلے ہی ہمارے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں،دوسری طرف حکومت چھوٹے چھوٹے معاملات کی وجہ سے مسلح افواج کی توجہ موجودہ سیکیورٹی حالات سے ہٹا رہی ہے، کیا ہمارے لوگوں نے افغان طالبان کے حالیہ رویے اور بیانات دیکھے ہیں؟حکومت وہ راستہ نہ اپنائے جو ہماری فوج کو متنازعہ بنا رہا ہو،میں نے پاکستان مخالف ممالک کی بھاری فنڈنگ ​​کو بے نقاب کیا تھا،دشمن پہلے ہی پاک فوج کا امیج خراب کرنے کے لیے کام کر رہا ہے اور بطور سابق وزیر داخلہ میں صورتحال سے پریشان ہوں۔ 

سینیٹر رحمان ملک نے زور دیا کہ سیاسی وابستگیوں سے قطع نظر ہمیں موجودہ بحرانوں پر قابو پانے کے لیے بطور پاکستانی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی مسلح افواج کو کمزور کرنے کے مغرب ، اسرائیل اور بھارت کے اقدام کو روکنے کی ضرورت ہے جو کہ پاکستان کے خلاف ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے اور دنیا بھر میں پاکستان مخالف چالوں کا حصہ ہے ، آئیے ہم سب ملکر اپنے پیارے پاکستان کو بچائیں۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹیرین امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کے مزید گرنے کو روکنے اور حکمت عملی کے ساتھ قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے کام کریں،حکومت کو معیشت بہتر بنانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے تاکہ عام آدمی کو ریلیف دیا جائے اور مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے بجائے اس کے کہ چھوٹے معاملات میں وقت ضائع کیا جائے،میری تمام تجاویز نیک نیتی اور ایک بزرگ سینئر سیاسی کارکن کے مشورے کے طور پر لی جائیں۔

مزید :

قومی -