عشق رسول ﷺ کا تقاضہ کیا؟؟؟؟ 

عشق رسول ﷺ کا تقاضہ کیا؟؟؟؟ 
عشق رسول ﷺ کا تقاضہ کیا؟؟؟؟ 

  

ربیع الاول کا بابرکت ماہ رواں ہے۔۔۔ اس مہینے کا مسلمانوں پر ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت پر ایک بہت بڑا احسان ہے کہ اس ماہ نے ہمیں آقائے نامدار، فخر الانبیاء، امام الانبیاء، خاتم الانبیاء، سیدالوری، مکین گنبد خضری، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی مقدس ذات سے نوازا۔۔۔بعض روایات کے مطابق 9 ربیع الاول، بعض کے مطابق 8 ربیع الاول اور بعض روایات کے مطابق 12 ربیع الاول بروز پیر صبح طلوع سحر کے وقت آسمان نبوت کا سراج عرب کے ایک معزز خاندان کے گھر پیدا ہوا۔۔۔

جب آپﷺ کی پیدائش ہوئی تو قیصر و قصری کےمحلات میں آتش کدے بجھ گئے اورچہار سو روشنی پھیل گئی۔۔۔حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھ سے ایک نور نکلا جس کی روشنی آسمان تک پھیلتی گئی اور میں نے اس روشنی سے مشرق و مغرب کو روشن ہوتے دیکھا۔۔اس ماہ مقدس میں انسانیت کو وہ روشنی اللہ نے عطاء کی کہ جس نے جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے عرب کو اتنا روشن کردیا کہ قیامت تک سارا جہان وہاں سے روشنی لیتا رہے گا ۔۔۔

وہ عرب جو ظلم و بربریت، جہالت، بت پرستی، ڈاکہ زنی، صدیوں کی دشمنی، لڑائی جھگڑے، زنا، شراب، جواء، قمار بازی الغرض ہر غیر انسانی جرم و گناہ کی دلدل میں دھنسے ہوئے تھے۔۔۔ جنہیں ماں بہن بیٹی کے رشتوں کا احترام بھول چکا تھا۔۔۔ بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے۔۔۔ جن پر کوئی حکومت کرنے کو تیار نا تھا۔۔. ہر طرف طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔ ہر کسی کی اپنی من مانی اور زور کا دور تھا جس کے پاس جتنی طاقت تھی وہ اس کو بے دریغ استعمال کرتا تھا۔۔۔

اس بگڑی اور بے حس ترین قوم کے درمیان ہمارے نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی کے چالیس سال بے مثل و مثال گزارے۔۔۔۔ نہ اس دوران کبھی جھوٹ بولا، نہ خیانت کی، نہ بت پرستی کی اور نہ اُن میں موجود کسی بھی قسم کے کسی عیب کو اپنایا ۔۔۔الغرض اہل مکہ حیران و پریشان تھے کہ یہ شخص انسان ہے یا فرشتہ؟؟؟ وہ آپ ﷺ کی ذات پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرتے، خود سے زیادہ آپ ﷺ پر یقین کرتے تھے۔۔۔رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی کو سیرت نگاروں نےچار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔۔۔

 (1) آپ ﷺ کی پیدائش

(2 )آپ ﷺکی کو نبوت ملنا

(3)آپﷺ کی مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت

(4) آپﷺ کی رحلت

یہ چاروں واقعات جن میں میرے آقاﷺ کی ساری زندگی سما جاتی ہے، یہ ربیع الاول میں ہی پیش آئے، اس لیے ربیع الاول کو میرے نبی ﷺ کی زندگی کے ساتھ گہری وابستگی حاصل ہے۔۔۔اسی ماہ میں آپﷺ کی پیدائش ہوئی، اسی ماہ میں آپﷺ کو نبوت ملی، اسی ماہ میں آپ ﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی، اسی ماہ میں آپ ﷺ نے اس دار فانی سے پردہ فرمایا۔۔۔۔

63 برس کی زندگی میں آپﷺنے قیامت تک کے انسانوں کے لیے شعور،علم و حکمت،راہ ہدایت اور زندگی گزارنے کا ایسا کامیاب طریقہ بتا دیا کہ جس پر چلنےسےدنیا و آخرت کی کامیابیاں و کامرانیاں ہیں۔..جو خطہ ظلم، جبر، لاقانونیت، انسانیت سوز جرائم اور جہالت کی آماجگاہ تھا اس خطہ میں ایک مثالی ریاست قائم کی جہاں امن، سلامتی، مذہبی ہم آہنگی اور فلاح کا دور دورہ تھا۔۔.

آپﷺ نے ان خون کے پیاسوں کو ایک دوسرے پر جان چھڑکنے والا بنایا، چور لٹیروں اور ڈاکہ زنی کو فخر سمجھنے والی قوم کو ایک دوسرے کی جان و مال کا محافظ بنایا۔۔۔ جہاں لوگ اپنی سگی ماں کو ہوس کا نشانہ بنادیتے تھے، اس معاشرے میں عورت اتنی محفوظ ہوگئی کہ جنگلوں میں بھی رات کو سفر کرلیتی تو کسی کی جرات نا ہوتی کہ آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے۔۔.

جرائم دو قسم کے ہوتے ہیں، ذاتی اور معاشرتی ۔۔۔ذاتی جرائم کو عموما ہم ذاتی فعل قرار دے کر معمولی گناہ قرار دیتے ہیں جبکہ معاشرتی جرائم کی زیادتی پر شور و غل کرتے ہیں جس پر ہماری ریاست قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوپارہی۔..معلم انسانیت رسول اللہ ﷺنے چھپ کر کیے جانے والے گناہوں کو ایک غیبی ذات کا خوف پیدا کرکے اور روز محشر جزاء و سزا کا تصور دے کر روکا اور ایسی تربیت کی کہ ان لوگوں کو ہر قسم کا موقع مل جانے پر بھی اللہ کا خوف اتنا غالب ہوتا کہ وہ جرم کی طرف جانے کا سوچتے ہی نہ تھےاور جن لوگوں میں خدا کا خوف پیدا نا کیا جاسکا یا جن کے نصیب میں وہ تھا ہی نہیں، انہیں ریاست کی جانب سے سزا کا غالب یقین تھا ،وہ اس خوف سے جرم کے پاس نہیں لپکتے تھے۔۔. چور کا چوری کرنے کو دل تو کرتا تھا مگر اس کو یہ خوف روک لیتا تھا کہ ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، زانی کو پتا تھا کہ مجھے ریاست سے سزا ملے گی، قاتل کو پتا تھا کہ بدلے میں قتل کردیا جاؤں گا ،ان کو اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ کوئی سفارش، کوئی رشوت یا کوئی تعلق ہمیں سزا سے نہیں بچا سکے گا۔۔۔

آج ہمارے تمام تر مسائل کی وجہ یہی ہےکہ ہم نےاپنے نبی کریم ﷺکی زندگی سےسیکھنے اوراُس پر عمل کرنے کی بجائےمحض اُن کی محبت کو زبانی کلامی دعوؤں تک محدود کردیا ہے۔۔۔کیسے ہوسکتا ہے کہ ہمارا دعوی تو عشق رسولﷺ کا ہو مگر ہم اُن کی زندگی کو اپنانے اور اپنی زندگی میں اُن کے کردار و افعال کو لانے میں کامیاب نہ ہوپاتے ہوں۔۔۔ہمیں اس پر سوچنا چاہئے کہ یا تو ہم دعوی میں جھوٹے ہیں یا پھر ہمیں آپ ﷺ کی زندگی کو اپنی زندگیوں میں لانا ہو گا۔۔۔

محبت کا سب سے پہلا اور بڑا تقاضا ہی اطاعت ہے۔۔۔اللہ پاک کا فرمان جس کا مفہوم ہے کہ " کہہ دیجئے اگر واقعی تم اللہ تعالی سے محبت کرتے ہو تو میری یعنی رسول اللہ ﷺکی پیروی کرو" یعنی اللہ نے اپنی محبت کا معیار بھی رسول اللہ ﷺ کی پیروی کو قرار دیا کے تو سوچئے کہ آپﷺ کے ساتھ محبت اور عشق کا تقاضہ اور کیا ہوگا سوائے آپﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کے۔۔.رسول اللہ ﷺکا فرمان عالیشان ہے کہ کسی مسلمان کا اس وقت تک ایمان کامل نہیں ہوسکتا جب تک وہ مجھ سے اپنے اہل و عیال، مال دولت اور خود سے بھی زیادہ محبت نا کرے۔۔۔

اقبالؒ نے کیا خوب کہا تھا!

نماز اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا، زکوٰۃ اچھی

مگر میں باوجود اس کے مسلمان ہونہیں سکتا

نا جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحاﷺ کی حرمت پر

خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہونہیں سکتا

ہر صاحب ایمان کی محبت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنی جان و مال سے کہیں بڑھ کر ہے، اس لیے ہمیں باقاعدگی سے خود کا محاسبہ کرنا چاہئے کہ کیا واقعی ہم اس محبت کا حق بھی ادا کررہے ہیں یا محبت کا دعوی تو کررہے ہیں مگر اپنے افعال سے رسول اللہﷺ کو تکلیف پہنچا رہے ہیں اور رہی آپﷺ کی تعریف و مدح کی بات تو وہ ہم جیسے طالب علموں کی بس کی بات ہی کیا ہے۔۔. جس ہستی کی تعریف و توصیف اِس کائنات کا خالق کرے اور اس کے لیے 23سال کاعرصہ لگا دے۔۔. یوں کہہ کر بات ختم ہوکہ محبوبﷺ آپ کو نہ بناناہوتاتو کائنات ہی نہ بناتا ۔۔۔اِس وجہ تخلیق کائنات کی ہم کیا تعریف و توصیف کرسکتے ہیں؟؟؟

بقول راحت اندوری

‏زم زم و کوثر و تسنیم نہیں لکھ سکتا

اے نبی ﷺ آپ کی تعظیم نہیں لکھ سکتا

میں اگر سات سمندر بھی نچوڑوں راحت

آپﷺ کے نام کی اک میم نہیں لکھ سکتا

حضرت عثمان علی ہجویریؒ کے الفاظ پر اختتام کہ

"بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر"

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -