ڈی جی آئی ایس آئی کے حوالے سے وزیراعظم کا سٹینڈ درست ہے؟صحافی کے سوال پر وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے حیران کن جواب دے دیا

ڈی جی آئی ایس آئی کے حوالے سے وزیراعظم کا سٹینڈ درست ہے؟صحافی کے سوال پر ...
ڈی جی آئی ایس آئی کے حوالے سے وزیراعظم کا سٹینڈ درست ہے؟صحافی کے سوال پر وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے حیران کن جواب دے دیا
سورس: File Photo

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کراچی میں تقریب کے بعد صحافی کی جانب سےانٹرسروسز انٹیلی جنس(آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل(ڈی جی )کی تعیناتی کے حوالے سے وزیراعظم کے سٹینڈ کےحوالے سے سوال پر ’نوکمنٹس ‘ کہہ کر بات ہی ختم کر ڈالی ۔

نجی ٹی وی کے مطابق کراچی میں تقریب کے بعد صحافیوں نے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو گھیر لیا اور ملکی حالات پر سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 140اے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے،140 اے کو ڈکٹیٹر کا قانون کہا جاتا ہے،اگر یہ ڈکٹیٹر کا قانون تھا تو پھر ن لیگ اور پیپلز پارٹی نےاسے کیوں ختم نہیں کیا؟آرٹیکل 140 اے کو اٹھارویں ترمیم کے وقت کیوں ختم نہیں کیا گیا؟جب تک 140 اے پر عمل نہیں کیا جائے گا تو بلدیاتی نظام مضبوط نہیں ہوگا۔ چیئرمین نیب کے معاملے پر مجھے یا حکومت کو تنقید کا سامنے نہیں، قوانین بنائے جارہے ہیں،جب بن جائینگے تو سب سامنے آجائیگا۔ ڈی جی آئی ایس آئی سے متعلق سوال کیا گیا کہ وزیر اعظم نے جو سٹینڈ لیا ہے کیا وہ درست ہے؟ جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ اس معاملے پر صرف نو کمنٹس کا جواب ہے۔

اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ جسٹس ہیلپ لائن بڑا زبردست تصور ہے،عدلیہ بار ایسوسی ایشن اور آرمی کے ساتھ سول بیوروکریسی اہم انسٹیٹیوشن ہے، رول آف لا کا مطلب ہے کہ انصاف سب کیلئے برابر ہونا چاہے کوئی کسی بھی عہدے پر ہو، اگر ایسا نہیں کرتے تو ایسی اقوام پستی میں چلی جاتی ہیں، عوام فیصلہ کریگی کہ وکلا نے انہیں کیا دیا،جب قانون بناتے ہیں تو وکیل بھائی ہی مزاحمت کرتے ہیں،جب زیرالتوا کیسز کو کم کرنے کیلئے قانون بنایا تو وکلا نے ہی مزاحمت کی،وکلا کو سوچنا ہے کہ عوام کا مفاد ضروری ہے یا آپ کے کیس اور فیس، جو حق ہے میں اس کا ساتھ دوں گا، کریمنل ریفارمز میں ہے کہ اگر مقررہ وقت یا مہینے میں کیس ختم نہیں ہوا تو جج صاحب صفائی دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بعض ہمارے ججز کا قتل اس بات پر ہوا کہ ریکارڈ تبدیل کرتے تھے، اب کسی کیس میں عورت کے کریکٹر پر سوال نہیں ہوگا، جے آئی ٹیز میں پولیس کے ساتھ ڈی ایم جی افسران بھی ہونگے، تصور یہ ہے کہ عورت اور بچوں کے کریمنل کیسز میں لیگل ایڈ دی جائیگی،عورت کی پراپرٹی کیسز کے پیچھے کسی مرد کا ہاتھ ہوتا ہے،وومن محتسب تین مہینے کے اندر پولیس کے ساتھ اس پر ایکشن لے گی،تین سالوں میں، میں نے ڈیڑھ لاکھ کیسز مکمل کیئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب الیکٹرانک گواہی ریکارڈ ہوگی، ہمارے جوڈیشل سسٹم  آج بھی انگریزی میں ہے، انگریزی زبان کے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی، اب ہم کوشش کررہے ہیں کہ کیس کے دوران پولیس افسران بی اے پاس ہونگے، پراسیکیوٹر فیصلہ کریں گے ثبوت کافی ہیں یا نہیں؟ فرانزک لیب کا تصور ہوگا، کریمنل لا میں فرانزک اور الیکٹرانک مدد ضروری ہوتی ہے،ہمارے ہاں یہ نہیں ہورہا جو اب ریفارمز میں ہوگا۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ پولیس 161 کے بیان مار دھاڑ کرکے لے لیتی ہے، کوشش ہے اسے ریکارڈ کیا جائے، موجودہ حکومت کے دور میں سب سے زیادہ آرڈیننس لانے کی بات غلط ہے ،سابقہ حکومتوں کے دور میں شائد زیادہ آرڈیننس لائے گئے ہوں گے، آرڈیننس کی ایک مدت ہوتی ہے، اسمبلی سے پاس نہ ہو تو ختم ہوجاتا ہے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -