نصف ایمان بھی صرف خاص لوگوں کا نصیب ہے ۔ ۔ ۔

نصف ایمان بھی صرف خاص لوگوں کا نصیب ہے ۔ ۔ ۔
نصف ایمان بھی صرف خاص لوگوں کا نصیب ہے ۔ ۔ ۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

گلوبل پنڈ(محمد نواز طاہر) ہلکی چاندنی رات میں شاہراہِ ایوان ِصنعت و تجارت لوڈشیدنگ میں رومانوی منظر پیش کر رہی تھی ۔ میرے ساتھ مجھ سے آدھی عمر کی موٹر سائیکل بھی کچھ کچھ جوانی کے سانس لینے لگی اور رومانٹک سی ہوگئی جس سے اس کی رفتار خود بخود کم ہوگئی ۔ شادمان سے تھوڑا آگے بڑھتے ہی ماحول اور رومانوی ہوگیا اور بلا ساختہ منہ سے نکل گیا ’رم جھِم کے گیت ساون گائے ۔۔۔بھیگی بھگی راتوں میں۔۔۔چائنہ چوک میں پاکستان کے دفاع کی یاد گار فائٹر طیارے پر پیچھے سے آنے والی گاڑی کی تیز روشنی پڑی تو اس سے منعکس ہوکر ولن کا کردار ادا کر گئی ۔ رومانٹک موڈ کی ایسی تیسی ہوگئی ۔ صنعتکاروں ، سرمایہ داروں کی نمائندگی کرنے والی تنگ نظری جیسی کالی سیاہ وسیع سڑک چمک رہی تھی اور ٹھنڈی ٹھنڈی بھی تھی جسے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ایک جانب کی سڑک تو ویسی کی ویسی ہے اور یہ صاف ستھری نہائی ہوئی ۔۔۔ اللہ کی قدرت پر حیران ہوا کہ بھادوں کی رُت بھی کیا کیا کمال دکھاتی ہے ۔ اپنا حسن بانٹتے ہوئے اس طرح ایک ایک انچ کا فاصلہ چھوڑ دیتی ہے جیسے قدرت ایک ہی وقت میں پیدا ہونے والوں کے نصیب میں فاصلے پیدا کرتی ہے ۔۔۔ابھی تھوڑا ہی آگے بڑھا تھا کہ حیرت خود بخود ختم ہوگئی۔ سامنے ایک بڑی مشین اورآٹھ ساتھ” مشینی پرزے “ پانی کے لمبے لمبے پائپوں سے سڑک دھو رہے تھے ۔ بہت خوشی ہوئی کہ پنجاب کی حکومت شہر کو پیرس ، انقرہ جیسا بنانے کے جو نعرے لگا رہی ہے اس پر عملدرآمد شروع ہوگیا ۔ ساتھ ہی کچھ حقیقتیں اور کچھ حکایتیں بھی یاد آگئیں۔ لاہور کی سڑکیں صبح شام دھوئی جاتی تھیں، مال روڈ اور اس سے ملحقہ سڑکیں زندہ دلانِ لاہور کی صاف من کی ترجمانی کیا کرتی تھیں۔۔۔انہی سوچوں میں گم” رمکے رمکے “جارہا تھا کہ زوردار’ پاں پاں ‘ نے چند لمحوں میں دنیا بدل دی ۔ آنکھوں میں اندھیرا سا چھا گیا۔ دیو ہیکل گاڑی کا بمپر میری شاہکار’ بلیلو‘ سے اس طرح کِس کر رہا تھا جیسے ہاتھی کو بلی کے بچے پر پیار آرہا ہو۔ابھی پوری طرح حواس بحال نہیں ہوئے تھے کہ سامنے دور تک پھیلی بڑی سی سرکاری عمارت سے کئی کئی گز کے فاصلے پر پڑی کنکریوں کی حفاظت پر مامور اہلکار دوڑتا ہوا آیا۔ اتفاقاًجانتا تھا ۔۔بے تکلفی سے بولا اس طرح کتے بلیاں سڑکوں پر مرتے ہیں جیسے جناب ،بچ گئے۔۔۔ میں نے جواب میں شوکت سے کہا اس وقت چور، ڈاکو ، صحافی ، چوکیدار ، کتے اور پولیس والے ہی سڑکوں پھرتے ہیں۔ اتفاقاً ہاتھ بھی اس کی طرف اٹھ گیا تو وہ ۔۔ہاں ۔۔ کہہ کر خاموش ہوگیا۔اگلی سہ پہر پھر اسی جگہ سے گزر ہوا تو بھاری سیکیورٹی اور میڈیا کی گاڑیوں کی بھیڑ نے بتادیا کہ صدرِ مملکت گورنر ہاﺅس میں موجود ہیں، تب شاہراہِ ایوان صنعت و تجارت رات کے آخری پہر میں دھوئے جانے کا ماجرا کھلا کہ آج تو صدر صاحب سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کے چیف گیسٹ ہیں ۔۔۔رات کو دھلتی سڑک دیکھ کر جتنی خوشی ہوئی وہ اس خیال نے آلودہ کردی کہ صفائی نصف ایمان تو ہے لیکن مقدر صرف سرمایہ داروں اور ارباب ِ اختیار کا ہے۔ جمہور تو صرف ”جمورا“ ہے جسے اقتدار پر قابض مداری جس طرف کہتا ہے اس طرف’ گھوم ‘ جاتا ہے کہ” پاپی پیٹ کا سوال ہے “ ۔۔۔ ابھی انہی خیالوں میں تھا کہ شوکت پھر آگیا ۔۔۔ بولا کیوں اب پھر مرنے کی تیاری کے ساتھ آگیا ہے ۔۔۔ ؟میرے جذبات سن کر بولا ’اوئے جمہورت پسند ! اب پھر الیکشن آ گئے ہیں ۔۔۔ یقین رکھ کسی نہ کسی پارٹی کے منشور میں شہر کے اونچے نیچے تمام حصوں کی بلا تمیز صفائی بھی شامل ہوگی ۔۔۔۔ ورنہ تم خود اس کا نعرہ لگا لینا۔۔۔۔

مزید : بلاگ