بلدیاتی انتخابات :جنرل الیکشن سے فرار

بلدیاتی انتخابات :جنرل الیکشن سے فرار
بلدیاتی انتخابات :جنرل الیکشن سے فرار

  

خونریزی کے واقعات جس شہر کا معمول اور ٹارگٹ کلنگ جس آبادی کی شناخت بن چکی ہیں، وہاں بیٹھ کر پورے ملک کے عوام کی سلامتی کے ذمہ دار صدر نے اس شہر کو ایک بار پھر امن و امان کا گہوارہ بنانے کی ہدایت کرنے اور اس ہدایت کے عملی مظاہرے کو یقینی بنانے کی بجائے وزیراعلیٰ سندھ کو صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی ہدایت کی ہے۔دیکھا جائے تو یہ بات ہر گز قابل اعتراض نہیں ، بلکہ باعث ستائش ہے، کیونکہ بلدیاتی انتخابات سے نہ صرف نچلی سطح پر لیڈرشپ ابھرتی ہے، بلکہ لوگوں کو گلی محلوں میں درپیش مسائل حل کرانے کی سہولت بھی میسر آجاتی ہے، لیکن صدر آصف علی زرداری کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کرانے کے سلسلے میں کیا واقعی یہ جذبہ کارفرما ہے؟عام انتخابات یا بلدیاتی انتخابات کے لئے پُرامن ماحول ضروری ہے۔ایک تو وطن عزیز کے مجموعی اور کراچی کے حالات بالخصوص نہایت مخدوش ہیں۔

ہر عوام دوست حکومت کی طرح کراچی کے حالات کو معمول پرلانا موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے،جبکہ موجودہ صورت حال میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد گلی گلی اور محلے محلے انتشار و فساد کا باعث بنے گا،کیونکہ بلدیاتی انتخابات میں جو پارٹی جتنی فتح حاصل کرے گی،قومی انتخابات میں اسی تناسب سے اسے نشستیں مل سکتی ہیں، اس لئے ہر پارٹی کی کوشش ہوگی کہ اسے بلدیاتی اداروں میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل ہوجائیں۔ اس خواہش کے بطن سے یقینی طور پر انتخابی کیفیت جنم لے گی،وہ ہر لحاظ سے جنونیت سے لتھڑی ہوگی،جس کا لازمی نتیجہ گلی گلی فساد ہوگا اور فساد عام انتخابات کے انعقاد کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن جائے گا۔

کیا صدر آصف علی زرداری جیسی ذہین و فطین شخصیت سے یہ حقائق پوشیدہ ہیں؟ہرگز نہیں، بلکہ یقینا نہیں تو پھروہ ملک کو ایسی صورت حال میں کیوں دھکیلنا چاہتے ہیں،جبکہ ان کے فرض منصبی کا تقاضا تو ملک کو ایسی صورت حال سے دوچار ہونے سے بچانا ہے ....لیکن اگر وہ مستقبل کی صورت حال کا کامل ادراک رکھنے کے باوجود ایسی صورت حال کو راہ دینا چاہتے ہیں، پھر ایسا کیوں ہے؟ یہ ایک بہت اہم سوال ہے....اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ اگر ملک میں ایسی صورت حال جنم لے لیتی ہے تو عام انتخابات کے انعقاد میں مشکل پیش آسکتی ہے اور غور کیا جائے تو یہی ”مشکل“ صدر آصف علی زرداری کے لئے ”آسانی“ کا باعث بن سکتی ہے۔وہ عام انتخابات کو کم از کم ایک سال کے لئے ٹال سکتے ہیں، جس کے لئے ملک کے مخدوش حالات کو ایک جواز کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے....اورایسی صورت حال میں صدر آصف علی زرداری 2013ءکی بجائے 2014ءتک صدر کے عہدہ پر براجمان رہ سکتے ہیں۔

اس نئی صورت حال میں مزید یہ ہوگا کہ موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہوجائیں گے اور آرمی چیف بھی ریٹائر ہو جائیں گے،اس کے علاوہ سوئس عدالتوں میں زیر التواءکرپشن کے مقدمات بھی میعاد ختم ہوجانے کے باعث ختم ہو جائیں گے۔یہ دراصل وہ تدبیر ہے جو ہر انسان اپنی ذات کے لئے بہت سوچ سمجھ کر اختیار کرتا ہے۔کبھی انسانی تدبیریں کامیاب ہو جاتی ہیں اور کبھی ناکامی کا منہ دیکھتی ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کی تدبیر دراصل عام انتخابات سے فرار کی حکمت عملی ہے۔آخرچار سال کے بعد ہی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو کیوں ضروری سمجھا جارہا ہے،اگر موجودہ مخدوش حالات میں ان کا انعقاد ممکن ہے تو گزشتہ چار سال میں حالات اس سے زیادہ مخدوش تو نہیں تھے،پھر کیوں بلدیاتی انتخابات کا اعلان نہیں کیا گیا۔

 وہ تمام سیاسی جماعتیں جو عام انتخابات میں جیت یا کچھ نہ کچھ نشستیں حاصل کرنے کے یقین سے سرشار ہیں، وہ اس موقع پر بلدیاتی انتخابات کی حمایت نہیں کریں گی، البتہ جو جماعتیں پارلیمنٹ سے باہر ہیں، ان کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کی حمایت کے امکانات ہیں جو اس حوالے سے فساد اور محاز آرائی کا نقطہ ءآغاز ہوگا،جسے مزید ہوا دے کر یہ جواز بنایا جاسکتا ہے کہ ایسے حالات میں عام انتخابات کیسے کرائے جائیں۔ اس لئے تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ آصف علی زرداری کی اس”ہنر کاری“کے چکر میں نہ آئیں۔ بلدیاتی انتخابات آنے والی حکومت پر چھوڑ دیئے جائیں۔

قومی انتخابات کو ٹالنا تو صدر آصف علی زرداری کی مجبوری ہے ، کیونکہ ان کے زیر سایہ حکومت نے چار سال سے زائد کا عرصہ نااہلی اور عدم کارکردگی کی نذر کردیا ہے اور انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگنے کے لئے ان کے دفتر عمل میں ایسا کچھ نہیں ہے جو انہیں عوام کے ووٹ کے حصول کا استحقاق مہیا کر سکے، بلکہ ان کے دفتر عمل میں تو امید کی کوئی ایسی کرن بھی نہیں ہے،جو عوام کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب جگا سکے ۔اس لئے اب صدر آصف علی زرداری کے پاس اپنے عرصہ اقتدار کو مزید ایک سال طوالت دینے ، مزید ایک سال تک مقدمات سے بچنے اور استثناکا سہارا لینے کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیںہے کہ انتخابات کا انعقاد ہی ایک سال تک نہ ہو، موجودہ سیٹ اپ ہی برقرار رہے اور یہ اس صورت ممکن ہے ،جب ملک کے حالات ایسے ہوجائیں یا کر دیئے جائیں کہ انتخابات کا عمل ناممکن ہو جائے۔عام انتخابات سے پہلے بلدیاتی انتخابات ایسے حالات پیدا کرنے میں بہت بہتر معاونت کرسکتے ہیں۔سیاست کی بساط پر مختلف چالیں چلنے اور کارڈ ٹیبل پر مختلف پتے پھینکنے کا عمل گزشتہ چار سال سے جاری ہے، مگر ابھی تک شہ مات یا ترپ کا پتہ سامنے نہیں آ سکا۔    ٭

مزید : کالم